ہندوستانی راجے اور حاکم کی اگاڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان میں یہ کہاوت بہت مشہور ہے ” حاکم کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے ہمیشہ بچنا چاہیے“ اس کہاوت کا مطلب یہ ہے، کہ حاکم کے سامنے کبھی نہ جاؤ، کیونکہ نہ معلوم سامنے جانے والے پر حاکم کا عتاب ہی نازل ہو جائے۔ اور گھوڑے کی پچھاڑی، یعنی اس کے پیچھے کی قریب نہ جانا چاہیے۔ شاید یہ دولتی ہی مار دے۔ کیونکہ گھوڑا جب کسی پر حملہ کرتا ہے، تو اپنی پچھلی دونوں ٹانگوں سے زور لگاتا ہے۔ حاکم کی اگاڑی کے متعلق چند واقعات سنئے:۔

ریاست پٹیالہ میں ایک صاحب سردار گہل سنگھ مجسٹریٹ تھے۔ یہ سردار گہل سنگھ بہت فاضل، بہت شریف، بہت نیک اور بہت دیانتدار ہونے کے علاوہ سکھ تاریخ کے متعلق ایک اتھارٹی تھے۔ کیونکہ آپ کی ابتدائی زندگی میں مرحوم مسٹر میکالف کی مشہور ضخیم تصنیف ”سکھ رلیجن“ میں آپ کی بھی محنت کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اور مسٹر میکالف کی سفارش سے ہی آپ ریاست پٹیالہ میں ملازم ہوئے۔

مرحوم مہاراجہ پٹیالہ نے ایک بار سردار گہل سنگھ کو طلب فرمایا، اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا، کہ سردار گہل سنگھ مہاراجہ کے پرائیویٹ سیکرٹری کا عہدہ قبول کر لیں۔ مہاراجہ کی اس خواہش کو سن کر سردار گہل سنگھ نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر نہایت انکساری کے ساتھ عرض کیا، کہ ” حصور مجھے پرائیویٹ سیکرٹری مقرر نہ کیا جائے“۔

مہاراجہ نے یہ جواب سن کر حیرت محسوس کی، کہ ہر سال پچاس لاکھ روپیہ کے قریب پرائیویٹ سیکرٹری کے ہاتھوں سے موتی باغ پٹیالہ میں صرف ہوتا ہے۔ بڑے سے بڑے عہدہ دار، یہاں تک کہ وزراء بھی پرائیویٹ سیکرٹری سے خوف کھاتے، اور اس کا لحاظ کرتے ہیں۔ کیونکہ پرائیویٹ سیکرٹری دن رات مہاراجہ کے پاس رہنے کے باعث ہر شخص کے لئے مفید اور نقصان کا باعث ہو سکتا ہے، اور ہر بڑے سے بڑا اہلکار اس کو شش میں رہتا ہے، کہ وہ پرائیویٹ سیکرٹری مقرہ ہو۔ اور یہ سردار گہل سنگھ ہیں، کہ اس عہدہ کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ مہاراجہ نے جب سردار گہل سنگھ سے اس انکار کی وجہ پوچھی، تو آپ نے پھر دونوں ہاتھ باندھ کر عرض کیا:۔

”حضور پرائیویٹ سیکرٹری ہونے کی صورت میں مجھے دن رات حضور کی خدمت میں حاضر رہنا پڑے گا۔ حضور کے ہر حکم کی مجھے تعمیل کرنی ہو گی۔ انسان سے غلطی یا خطا ممکن ہے اور میں نہیں چاہتا، کہ مجھے سے کوئی غلطی یا خطا ہو، اور اس غلطی یا خطا پر حضور کا مجھ پر نازل ہو، اور مجھے تا حکم ثانی جیل میں قید کر دیا جائے، جیسا کہ اس سے پہلے حضور کے قریب رہنے والے کئی عہدہ دار اور ملازم جیل بھیج دیے گئے“۔

چنانکہ یہ واقعہ ہے کہ سردار گہل سنگھ نے پرائیویٹ سیکرٹری کا عہدہ قبول نہ کیا، اور پھر آپ واپس برنالہ میں بطور مجسٹریٹ بھیج دیے۔ کیونکہ یہ قطعی ممکن تھا، کہ ” حاکم کی اگاڑی“ یعنی مہاراجہ کے سامنے اور ساتھ کے باعث کب مہاراجہ کا عتاب نازل ہوتا، آپ جیل بھیج دیے جاتے۔

بہت برس ہوئے میں پہاڑ کی سیر کے لئے ریاست چمبہ گیا، کیونکہ یہ علاقہ اپنے قدرتی حسن کے اعتبار سے بہت پرکشش ہے۔ اس ریاست کے علاقہ میں ایک مقام کھبیا اور اس کی چھوٹی جھیل تو بہت ہی پر فضا جگہ پر واقع ہے۔ چمبہ اس میں زمانے میں راجہ کی حکمرانی میں تھا۔ میں وہاں ڈاک بنگلہ میں ٹھہرا، جس کا کرایہ میں دو یا تین روپیہ روزانہ دیتا، اور کھانے کی قیمت اس بنگلہ کے انچارج کو الگ ادا کر دی جاتی۔

میں صبح ناشتہ کے بعد سیر کے لئے چلا جاتا، اور رات کو کھانے کے وقت واپس آتا۔ دن رات ادھر ادھر گھومتا ہوا دریائے راوی کے کنا رے پتھروں پر جا بیٹھتا۔ ایک راز دوپہر کو میں چمبہ شہر کے میدان ( جسے غالباً چوگان کہا جاتا ہے ) میں پہنچا، تو دیکھا، کہ وہاں ایک سو کے قریب دیہاتی بیٹھے تمباکو بیڑی پینے اور آپس میں باتیں کرنے میں مصروف ہیں۔ اس وقت میرے ساتھ وہاں کے ایک لوکل سکول ماسٹر تھے۔

میں نے ان ماسٹر صاحب سے پوچھا، کہ یہ لوگ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا، کہ یہ دیہاتی ہیں، بیگار میں پکڑے گئے ہیں، اور بغیر ایک پیسہ دیے ان سے سرکاری کام لیا جاتا ہے۔ جب تک کہ ان سے کام نہ لیا جائے، یہ اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے۔ ان میں سے ہی مزدوروں کا ٹھیکہ دار مسافروں کو مزدور سپلائی کرتا ہے، کیونکہ اس وقت چمبہ میں نہ موٹر جا سکتی تھی، اور نہ بیل گاڑی۔ اور ڈلہوزی تک لوگ صرف گھوڑے پر ہی آتے اور جاتے تھے۔ اور سامان لے جانے کا کام ان بیگار میں پکڑے گئے مزدوروں سے لیا جاتا تھا۔

میری زندگی میں یہ پہلا موقع تھا، کہ میں نے بیگار میں پکڑے گئے لوگوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، ورنہ اس پہلے بیگار کے حالات صرف کانوں کے سننے تک محدود تھے۔ میں نے ماسٹر صاہب سے جب یہ حالات سنے، تو میں نے زیادہ دلچسپی محسوس کی، اور بیگار میں پکڑے گئے ان دیہاتی پہاڑیوں سے خود باتیں شروع کر دیں، تو معلوم ہو ا کہ ان میں سے زیادہ لوگ چمبہ سے دس یا پچاس میل دور پانگی کے علاقہ کے ہیں۔ یہ لوگ نمک اور تیل وغیرہ سودا سلف لینے چمبہ آئے، تو ان کو دو چار روز کے لئے بطور بیگاری کے لئے روک لیا گیا۔ کیونکہ ان بے چاروں کا قصور اور جرم صرف یہ تھا، کہ یہ چمبہ کے بازار سے سودا خرید رہے تھے، کہ اتنے میں تحصیل کا ایک ملازم وہاں آگیا، جو دیہاتیوں کو بیگار میں پکڑنے پر مقرر تھا، اور اس نے ان کو بیگار میں پکڑے گئے دوسرے لوگوں کے پاس جا بٹھایا۔ یعنی یہ بے چارے بھی ” حاکم کی اگاڑی“ کا شکار ہوئے۔ کیونکہ اگر یہ تحصیل کے بیگار افسر کے سامنے نہ آتے، تو یہ بیگار میں نہ پکڑے جاتے اور سودا لے کر اپنے گھروں کو چلے جاتے۔

راجہ سر دیاکشن کول ریاستی وزرا ء کی صف کی پہلی قطار میں سے تھے۔ آپ سالہا سال تک ریاست پٹیالہ کے وزیراعظم رہے۔ اس سے پہلے مہاراجہ سر پر تاپ سنگھ آف کشمیر کے پرائیویٹ سکرٹری اور متعدد دوسری ریاستوں کے وزیراعظم رہے۔ اور یہ واقعہ ہے، کہ آپ جہاں بھی رہے، وہاں کے والٹی ریاست کو اپنے ہاتھوں میں اس طرع ہی ناچ نچاتے رہے، جس طرح سپیرا کوبرا سانپ کو بین کے اشارے پر ناچ نچاتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو سانپ کے کانٹے سے محفوظ رکھتا ہے۔ چنانچہ آپ کے متعلق یہ دلچسپ واقعہ ہے کہ کشمیر میں سالہا سال تک مہاراجہ سر پرتاپ سنگھ کے پرائیویٹ سیکرٹری رہنے کے بعد آپ کشمیر سے ریاست بدر کیے گئے، اور پٹیالہ میں بھی مہاراجہ پٹیالہ نے آپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon