حساس موٹو اور وزارت انسانی حقوق کی ذمہ داری


ہم نے کہاوت سن رکھی تھی کہ قاضی کے گھر کے چوہے بھی سیانے ہوتے ہیں لیکن خاتون اول کا انٹرویو دیکھ کر علم ہوا کہ بنی گالہ کے ہر ذی روح کے تن میں ایک حساس دل دھڑک رہا ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ صرف ہمارے وزیراعظم عمران خان نے قوم کی خاطر ایک بڑی قربانی دے رکھی ہے اور وہ اپنے اہل وطن کی بری حالت دیکھ کر اشک بہاتے ہیں۔ اب پتہ چلا کہ ایسا نہیں ہے۔ وہ اس انجمن میں تنہا نہیں ہیں۔

خاتون اول کے انٹرویو میں ویسے تو دل کا درد رکھنے والوں کے لئے کئی اہم بیان موجود تھے لیکن ہم اس کے اہم ترین جز کی بات کریں گے جو بنی گالہ کے مکینوں کی بے پناہ انسان دوستی کا راز فاش کر دیتا ہے۔

خاتون اول بتاتی ہیں ”ایک دفعہ میں نماز پڑھ رہی تھی، موٹو باہر سے آیا، مجھے ڈر تھا کہیں یہ میری جائے نماز کے پاس سے نہ گزرے، تو میں نے غصے سے اس کو اس طرح ہاتھ کیا۔ وہ چپ کر کے صوفے کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ میں نے جب جا کے دیکھا تو مجھے اس کی آنکھیں گیلی لگیں اور باقاعدہ اس کی آنکھوں میں پانی بہتے دیکھا“۔

آپ خود سوچیں کہ موٹو کے سینے میں کتنا حساس دل ہے۔ جو ذی روح یہ برداشت نہیں کرتا کہ اسے دور جھٹک کر اس کی عزت نفس کو مجروح کیا جائے، وہ دوسروں کے بارے میں کتنا حساس ہو گا؟ کیا وہ کسی کو تکلیف میں مبتلا پا کر تڑپ نہیں جاتا ہو گا؟ کیا اس کی کوشش یہ نہیں ہو گی کہ وہ تن من دھن کی بازی لگا کر اپنے ارد گرد کے لوگوں کو مشکل سے نکالے اور ان کی راحت کا سبب بنے؟

پھر دماغ دیکھیں اس کا۔ کہنے کو جانور ہے مگر بڑے بڑے سیانے انسانوں سے بہتر ہے۔ غور کریں اس نے کیسے بات سمجھی۔ اشارے کا مطلب سمجھ گیا۔ کیا وہ اہل نہیں ہے کہ اسے وزارت انسانی حقوق کا قلمدان سونپ دیا جائے جہاں وہ تمام پاکستانیوں کی مدد کرے؟

آپ میں سے جو لوگ تاریخ سے ناواقف ہیں وہ اس بہترین تجویز کا مذاق اڑائیں گے۔ کوئی کہے گا کہ جانور کو کہاں اتنی سمجھ کہ وہ کسی کا اچھا بھلا سوچ سکے۔ چند کہیں گے کہ جانور بھلا کہاں انسانوں پر حکومت یا ان کی راہنمائی کر سکتے ہیں؟

پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ قصہ چہار درویش میں خواجہ سگ پرست کی کہانی پڑھ لیں کہ کیسے خواجہ صاحب کے جانثار کتے نے ہمیشہ ان کی جان بچائی۔ حالانکہ ان کے بھائی بار بار ان کو قتل کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر وہ کتا ان کو موت کے منہ سے کھینچ لاتا تھا۔ ایک مرتبہ تو خواجہ صاحب کو ایک کنویں میں ڈال دیا گیا تھا۔

اس سمجھدار اور حساس کتے نے ایک نانبائی کے تندور سے روٹی چوری کی اور ان کو جا کر کھلائی کہ بھوک سے نہ مر جائیں اور ایک بڑھیا سے صراحی چھینی اور کنویں تک لے گیا کہ پیاس بھی بجھے۔ بڑھیا کو سمجھ نہ آئی تو خود بڑھیا کو بھی ٹانگ سے پکڑ کر وہاں لے گیا۔ پھر یہ سلسلہ کئی مہینے چلتا رہا مگر بڑھیا کو یہ عقل نہ آئی کہ خواجہ صاحب کو کنویں سے نکال لے۔ اس کتے نے ہی کہیں سے رسی لا کر ان کو باہر نکالا۔ یعنی تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ خواجہ سگ پرست کا یہ کتا اس جہاندیدہ بڑھیا سے زیادہ عقل مند تھا۔

دوسری طرف تاریخ کے پنوں پر انکیطاطوس نامی ایک گھوڑے کا ذکر موجود ہے جو روم جیسی سپر پاور کے شہنشاہ کالیگولا کے دور میں سلطنت روم کے عوام کے لئے روحانی راہنمائی کا فریضہ انجام دیا کرتا تھا۔ شہنشاہ نے اسے پروہت مقرر کر رکھا تھا۔ یوں کالیگولا نے ثابت کر دیا کہ ایک اصلی نسلی گھوڑا، بیشتر زرخرید درباریوں اور پروہتوں سے بہتر ہوتا ہے۔ انکیطاطوس نے ایسی زبردست روحانی راہنمائی کی کہ شہنشاہ نے اسے سب سے بڑے سرکاری عہدے یعنی کونسلر پر فائز کرنے کا فیصلہ کر لیا مگر بدقسمتی سے رسم حلف برداری سے پہلے ہی کالیگولا کو قتل کر دیا گیا۔

جب ایک گھوڑے میں اتنی زیادہ صلاحیت ہو کہ ایک سپر پاور کا حکمران اسے اپنے ملک کی روحانی اور سیاسی راہنمائی کے قابل سمجھے تو موٹو تو اس سے کہیں زیادہ سمجھدار اور حساس جانور ہے۔ کیا اسے وزارتِ انسانی حقوق دینا بہتر نہیں رہے گا؟ حساسیت سے بڑھ کر اس کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنے مالک سے دغا نہیں کرے گا اور اس سے وفادار رہے گا۔

یاد رہے کہ بعض نام نہاد پڑھے لکھے افراد آپ کو بہکانے کی کوشش کریں گے کہ ”کتے جذباتی ہوں تو وہ آنسو نہیں بہایا کرتے۔ غمگین کتے مختلف آوازیں نکال کر اداسی ظاہر کرتے ہیں یا کان سر لپیٹ کر کسی گوشے میں پڑے رہتے ہیں۔ کتوں کی آنکھوں سے آنسو نکلنے کا سبب کوئی الرجی، انفیکشن، آنکھ میں کچھ گر جانا یا خراش پڑنا وغیرہ ہوتے ہیں“۔ ان کی باتوں پر یقین مت کریں۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ موٹو کو صوفے سے الرجی تھی یا ادھر اس کی آنکھ میں کچھ پڑ گیا تھا؟ یہ سب بنی گالہ کی ہائی جینک اور روح پرور فضا میں ناممکن ہے۔

سو باتوں کی ایک بات کہ جب ایک معتبر گواہی آ گئی کہ موٹو غم سے نڈھال ہو کر رو رہا تھا تو اس پر بلاوجہ شبہ نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں اگر یہ معتبر گواہی بھِی ملے کہ موٹو غمگین ہو تو اردو میں غزلیں بھی کہتا ہے تو ہم یہ بھی ماننے کو راضی ہیں۔ موٹو نہایت حساس اور انٹیلی جنٹ ہے اور ہماری ناقص رائے میں انسانی حقوق کی وزارت سنبھالنے کے لیے اوور کوالیفائیڈ ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar