سرکار بنام نواز شریف (3)۔
ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات :دو لاکھ چودہ ہزار آف شور کمپنیاں : ”436پاکستانی شخصیات‘‘۔
سوالوں کا جنگل گھنا ہو رہا ہے اور ”سرکار بنام نواز شریف۔ ‘‘کی پکار پیہم پڑ رہی ہے۔ نواز شریف کو تو سب جانتے ہیں لیکن ” سرکار ‘‘ کے چہرے کے حقیقی خدو خال سات پردوں میں چھپے ہیں جو بظاہر ” مدعی ‘‘ہے۔ غالب کی لُغت سے استفادہ کیا جائے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ” بازیچہ اطفال ‘‘بن چکا ہے اور ایک تماشا ہے کہ شب و روز جاری ہے۔
پانامہ کی خبر کوئی اڑھائی برس قبل 4 اپریل 2016 کو اُڑی۔ ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات میں دُنیا بھر کے لاکھوں افراد کی لگ بھگ دو لاکھ پندرہ ہزار آف شور کمپنیوں کا تذکرہ آیا۔ ان میں سے تقریباً پانچ سو کا تعلق پاکستان سے تھا۔ شریف خاندان کے علاوہ پاکستان کی بیسیوں سیاسی شخصیات اور اِ ن کے افراد ِ خانہ ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں کے سُنہری طاقچوں میں سجی ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو ” صاف چلی، شفاف چلی ‘‘ کی فرشتہ خصلت سپاہ کے سالار بلکہ آب ِ زم زم سے دُھلی عفت مآب کابینہ کی زینت بھی ہیں۔ ایک وہ جج صاحب بھی جو عدل کے ایوانوں میں فرد کش، قانون و انصاف کی سربلندی کے لئے مصروفِ جہاد ہیں۔
کوئی سوالوں کے اس جنگل کی کاشت نہیں کررہا۔ یہ ساون کے خود رو جھاڑ جھنکاڑکی طرح خود ہی گھنا ہو رہا ہے۔ سید مودودی نے کہا تھا ” غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی۔ اس کی کوکھ سے مسلسل نئی غلطیاں جنم لیتی رہتی ہیں ‘‘۔ اسی طرح ایک سوال کا جواب نہ ملے تو مزید سوالات پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ نواز شریف پر پچھلی تین دہائیوں میں کیا بیتی کی تفصیلات تو ہولے ہولے سامنے آرہی ہیں، اب ”کیوں بیتی ‘‘کے بھید سے بھی پردے اُٹھنے لگے ہیں۔ لا تعداد سوالات پھن پھیلائے پھنکار رہے ہیں۔ ان سے کترا کے گزرنا مشکل ہے۔ کچھ سوالات نوازشریف نے خود 25 اگست 2017 کو لاہور میں آل پاکستان وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے اور احتساب عدالت میں بیان دیتے وقت اُٹھائے تھے۔
ان کا تذکرہ پھر سہی لیکن کوئی اس سوال کا جواب تودے کہ ایک کروڑ پندرہ لاکھ پانامہ دستاویزات میں شامل دو لاکھ چودہ ہزار چارسو اٹھاسی (214488) آف شور کمپنیوں کے بارے میں دُنیا بھر میں کتنی تحقیق ہوئی اور کیا اثرات مرتب ہوئے؟ ان کمپنیوں سے منسلک لاکھوں افراد کے خلاف کہاں کہاں، کس کس ملک میں کتنے مقدمے چلے؟ نواز شریف نامی مرد ( جس کا نام بھی پانامہ لیکس میں نہیں ) اور مریم نواز نامی خاتون کے سوا لاکھوں کمپنیوں کے مالک لاکھوں افراد میں سے کسی ایک بھی مرد، کسی ایک بھی خاتون کو قید ِ با مشقت کی سزا سُنا گئی؟
دلیل دی جا سکتی ہے کہ آئین کی فرمانروائی، قانون کی سربلندی اور انصاف کی کارفرمائی میں اسلا می جمہوریہ پاکستان دُنیا بھر کے ممالک سے آگے ہے۔ اس دلیل کو مان لینے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ قانون و انصاف کے فرما نروائی پر گہری نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی ادارے ہمارے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ معروف عالمی تنظیم ”ورلڈ جسٹس پراجیکٹ ( WJP)کی 2016کی رپورٹ میں کہا گیا ہے :
“In South Asia, perceptions of accountability are lowest, in Pakistan. Worse than Nepal, Bangla Desh, Sri Lanka, Afghanistan and India“.
” جنوبی ایشیا ء میں احتساب کے بارے میں پاکستان کا عمومی تاثر، سب سے کم تر ہے۔ نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان اور بھارت سے بھی بد تر۔ ‘‘
113ممالک کے بارے میں مرتب کی گئی اس رپورٹ میں پاکستان 106نمبر پہ ہے۔ نیپال ہم سے 43 درجے بلند ہے۔ بھارت 40، سری لنکا 38، بنگلہ دیش 3، اور افغانستان ہم سے دو درجے آگے ہیں۔ ایران کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن احتساب کے معاملے میں اس کا سکور بھی ہم سے 23 درجے بلند ہے۔ اس کے باوجود مان لیتے ہیں کہ پاکستان بے لاگ احتساب اور قانون و انصاف کی عملداری کے حوالے سے دُنیا کے تمام ممالک میں سر فہرست ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو کوئی بتائے کہ اُس میں پانچ سو کے لگ بھگ پاکستانی شہریوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی جن کے نام پانامہ پیپرز میں شامل ہیں؟ جن کے افراد ِ خانہ کی کئی کئی آف شور کمپنیوں کا پتہ چلا ہے۔ ان کے کاروباری معاملات کی کتنی جانچ پرکھ ہوئی ہے؟
تابناک ہیروں پر مشتمل کتنی بھاری بھرکم جے۔ آئی۔ ٹیزبنی ہیں؟ کتنوں کی تین تین پشتوں کے کپڑے اُدھیڑے گئے ہیں؟ کتنوں کے خلاف عدالت نے براہ راست ریفرنس دائر کر نے کے احکامات جاریکیے ہیں؟ کتنوں کے لیے سپریم کورٹ کے خصوصی مانیٹرنگ جج مقرر ہوئے ہیں؟ کتنوں کو احتساب عدالتوں میں سو سو پیشیاں بھگتنا پڑی ہیں؟ کتنوں کے بارے میں ”سرکار بنام فلاں فلاں ‘‘ کی پکار پڑتی ہے؟ کتنوں کو کئی کئی سال قید بامشقت کی سزا سُنائی گئی ہے۔ ؟
جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، پٹیشن لے کرسپریم کورٹ پہنچے۔ 25نومبر 2017کو سپریم کورٹ کے دورُکنی بینچ نے نیب کو حکم دیا کہ وہ ایسے چارسو چھتیس (436) افراد کے بارے میں تحقیقا ت اور ضروری قانونی کارروائی کرے جن کے نام پانامہ لیکس میں آئے ہیں۔ ایک سال ہونے کو ہے کوئی بتا سکتا ہے اس فیصلے پر کتنا عمل درآمد ہوا؟ ہے کوئی عز ت مآب منصف جو اس معاملے میں بھی ”مانیٹرنگ جج ‘‘لگا یا گیا ہو؟ اور ہے اس ”صاف چلی شفاف چلی ‘‘میں کوئی جو ”چوروں اور ڈاکوؤں ‘‘کو اُلٹا لٹکانے کی گردان کرتے ہوئے ان 436 پاکبازوں کی طرف بھی آنکھ اُٹھا کر دیکھے؟ اور اسی سے متعلق ایک اور گم گشتہ کہانی ہم ”کم حافظہ ‘‘لوگوں کے لئے۔ پانامہ پیپرز میں لاہور ہائیکورٹ کے ایک عزت مآب جج کا نام بھی آیا۔
20اپریل 2016 کو اُن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک ریفرنس دائر ہوا۔ تب نواز شریف کے خلاف نہ کسی پٹیشن پہ کوئی کارروائی شروع ہوئی تھی نہ کوئی جے۔ آئی۔ ٹی بنی تھی نہ کوئی ریفرنس قائم ہوا تھا۔ عزت مآب جج کے خلاف ریفرنس کو اڑھائی سال ہونے کو ہیں۔ کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ نواز شریف اس قدر معتوب و مردُود کہ اُس کے دستخطوں سے جاری پارٹی ٹکٹ بھی نا معتبر ٹھہرے اور مسلم لیگ (ن) کے سینٹ اُمیدوار بے چہرہ ہو گئے۔ پانامہ کمپنیوں سے براہ راست تعلق رکھنے والے منصف بدستور عدل کی مسندِ جلیلہ پر بیٹھے ہیں۔ اُن کے دستخط کسی کے گلے میں پھانسی کا پھندا بھی ڈال دیں تو معتبر و متبرک۔
اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملنے والے ایک عارضی اور عبوری ریلیف کے ڈانڈے کسی ڈیل اور ڈھیل سے ملانے والے کسی ایک سوال کا تو جواب دیں؟ کیا 4 اپریل 2016 سے 6 جولائی 2018 تک، ستائیس ماہ پر محیط ایک طویل مشق کا ہر ہر مرحلہ، ہر ہر اقدام ہر ہر فیصلہ قانون و انصاف کی سر بلندی کا مینارِ نور تھا۔ ؟ کیا پا کستان کی قانون دان برادری اور غیر متعصب اہلِ فکرو دانش میں سے کسی ایک نے بھی اس عمل کو شفاف اور ان فیصلوں کو بے لاگ قرار دیا ہے؟ آبرومند نام اور سربلند مقام رکھنے والے کسی ایک بھی فرد کا حوالہ دیجئے جس نے اس بے ننگ و نام مشق کی ستائش کی ہو۔ نیب عدالت کے فیصلے کو تو عامیوں نے بھی، خامیوں کی پوٹ قرار دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج صاحبان نے تو تب سوالات اُٹھائے جب سائل نے انصاف کے لئے زنجیر ہلائی۔ نیب فیصلہ تو اِ س سے بہت پہلے، اپنی نمود کے پہلے دن سے ہی، رزقِ خس و خاشاک ہو چکا تھا۔ معروف قانون دان اور کالم نگار بابر ستا ر نے لکھا تھا :
”عدالتی فیصلے میں قانونی استدلال ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ یہ بڑی حد تک اُس قیاس اور تاثر کا نتیجہ ہے جو نواز شریف کے میڈیا ٹرائل سے پیدا ہوا۔ عدالت (نیب کورٹ ) نے جو فیصلہ لکھ دیا ہے وہ نظام ِ انصاف سے وابستہ ہم سب افراد کے لئے باعثِ ندامت ہے۔ ‘‘
اس فیصلے کو قانو ن و انصاف کے مسلّمہ معیار ات پر پرکھنا اور کھرا قرار دینا، قانون و انصاف کا ادنیٰ سا ادراک رکھنے والے کسی شخص کے لئے بھی ممکن نہیں۔ نواز شریف کے اُٹھائے گئے سوالات پھر سہی، اتنا تو بتا دیا جائے کہ اگر ہمارے ہاں احتساب بے لاگ ہے، اگر ہمارے ہاں انصاف شفاف ہے، اور اگر ہمارے ہاں قانون سب کے لئے برابر ہے تو ایک عزت مآب جج سمیت، وہ 436 پاکستانی کہاں ہیں جنہیں براہ راست پانامہ میں ملوث پایا گیا ہے؟ انصاف، قانون اور احتساب کے تازیانے صرف ایک ایسے فرد ہی کی پُشت پر کیوں برس رہے ہیں جس کا نام تک پانامہ میں نہیں؟
صرف وہ اور اس کی بیٹی اور اس کا داماد ہی اڈیالہ کا رزق کیوں ہیں؟ اور اگر ہم احتساب، قانون اور انصاف کے ایسے ہی معیارات بلند کے حامل ہیں تو دُنیا ہمیں نیپال، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی بدتر کیوں کہتی ہے؟ اور لگے ہاتھوں اس چھوٹے سے سوال کا جواب بھی کہ جس بارگاہِ عدل نے نواز شریف کے خلاف ایک متعین مدت میں فیصلہ سُنانے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر، صبح شام، حتیٰ کہ ہفتہ اور اتوار کی چھٹی سے بے نیاز ہو کر سماعت جاری رکھنے کاحکم صادر فرمایا اُسی بارگاہِ عدل میں پانامہ میں ملوث ایک عالی مقام جج کا ریفرنس، لگ بھگ اڑھائی برس سے گہری نیند کیوں سورہا ہے؟
https://twitter.com/IrfanSiddiqui__/status/1045941924153225216?s=08


