لگتا ہے مریم نواز کی اپیل منظور کرلی جائے گی: افتخار چوہدری


سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے انٹر ویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈن ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملوث ملزمان کا احتساب ہونا چاہیے ، میری بیٹی، بیٹے داماد کا اس اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ہمارے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے ۔ایڈن ہاؤسنگ اسکیم کے متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے۔ فواد چودھری کے ہوتے ہوئے کسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں، پی ٹی آئی میں اچھے لوگ بھی ہیں جن کی تعریف کرنی چاہیے۔ بادی النظر میں یہ لگتا ہے کہ مریم کی اپیل منظور کرلی جائے گی تو پھر ان کی نا اہلی ختم ہوجائے گی۔

نواز شریف مریم نواز کے کیسز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف کمزور فیصلہ آیا۔ کرپشن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ سزا معطلی کا مطلب یہ ہے کہ پچاس فیصد کیس جیت چکے۔ مریم نواز نے جو سزا کاٹی اس کی حق دار نہیں تھی۔ مریم کو سزا بالکل نہیں دی جا سکتی تھی۔ مریم نواز کو دی جانے والی سزا بالکل غلط ہے۔ ان کے خلاف کیس ہی نہیں بنا، یہ کیس مس ہینڈل ہوا، یہ کیس ثابت نہیں ہوسکا۔ العزیزیہ کیس میں بھی وہی شواہد دیئے جارہے ہیں جو جے آئی ٹی نے جمع کیے۔

ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں اب ملزم نے ثابت نہیں کرنا کہ یہ جائیداد کہاں سے آئی۔ ہمارے ہاں ایک اصول ہے کہ سرسری نظر میں ریاست کو آپ کے خلاف کیس ثابت کرنا ہے۔ جب فیصلہ آیا اس میں سیکشن 94 کے تحت کہا گیا کہ آپ کرپشن سے بری ہو۔ یہ جو بات تھی جب یہ بات طے کرلی گئی سارا  evidenceاس پر تھا کہ پیسے کہاں سے آئے۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیسے بنے۔ مریم کو بیچ میں لایا گیا۔ اب وہ فیصلہ پینڈنگ میں ہے۔ پہلے دن سے یہ ریاست پر ذمے داری ہوتی ہے اور اس قانون میں ایک خوبصورتی یہ ہے کہ جب آپ سرسری نظر میں ثابت کردو گے کہ واقعی انھوں نے کرپشن کی ہے تو پھرburden shift ہونا شروع ہوجاتا ہے اس صورت میں ریاست کو ثابت کرنا ضروری ہے۔ ریاست کو جو شواہد ملے اس کی موجودگی میں جج صاحب کا conclusion ہوا۔ اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ جب آپ نے یہ کہہ دیا کہ آپ کے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہائی کورٹ کے پاس معاملہ سزا معطلی کا معاملہ آیا انھوں نے اس پر بڑی سماعتیں کیں۔ ویسے ہوتا یہ ہے کہ ہائی کورٹ فوری فیصلہ کردیتی ہے لیکن پھر بھی انھوں نے اس کو سنا۔

 

Facebook Comments HS