الیکشن سے پہلے ووٹر داماد، الیکشن کے بعد امیدوار


اکثر شراب کی دوکانوں کی بکری کی اعداد و شمار حاصل کیے جائیں، تو ثابت ہو جائے گا، کہ انتخابات کے دنوں کی سیل میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس اضافہ کا باعث مہاتما گاندھی کے نام پر مانگنے والے کانگرسی ہی زیادہ ہوا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ دوسری بدنصیب پارٹیاں برسر اقتد ار نہ ہونے کے باعث روپیہ زیادہ صرف نہیں کر سکتیں۔

مجھے چاہے جمہورت کا مخالف سمجھ لیا جائے، مگر واقعہ یہی ہے، دو برس ہوئے میں جب پاکستان کے صدر جنرل ایوب سے ملا، اور انہون نے ایک صاف دل فوجی شخصیت ہونے کے باعث دل کھول کر باتیں کیں، تو میں نے ان سے کہا تھا، کہ جن ممالک میں پبلک ووٹ کی قدر و قیمت سے نا آشنا اور فرض نا شناس ہو، ویاں جمہوریت کے معنی ”چھوٹے چوروں کے نمائندے بڑے چور“ ہوا کرتے ہیں۔ پاکستان کی پبلک میں ووٹ کی قدر و قیمت کا احساس پیدا کیا جائے، اور پھر جمہوری ادارے یعنی اسمبلیاں اور پارلیمنٹ قائم کی جائے۔ کیونکہ جمہوری ادارے امریکہ اور انگلستان جیسے تعلیم یافتہ ممالک میں تو ایک رحمت ہیں، جہاں لوگ ووٹ کی قدر و قیمت جانتے ہیں، اور مشرقی ممالک میں یہ ایک لعنت ہیں، جہاں دس دس روپیہ میں ووٹ فروخت ہوتا ہے، اور پچاس پچاس روپیہ میں ضمیر کی نیلامی ہوا کرتی ہے۔

انتخابات کی کند چھری سے اچھے، بلند، نیک اور دیانتد ار لوگ کیونکر سیاسی اعتبار سے ذبح کیے جاتے ہیں۔ اس کا اندازہ، بھارت میں ڈاکڑ کاٹجو، مسٹر اشوک، پنڈت شری رام شرما اور اچاریہ کرپلانی جیسے لوگوں کی شکست سے لگایا جا سکتا ہے۔
کتاب ”سیف و قلم“ سے اقتباس

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon