صادق سنجرانی اور فواد چوہدری میں تلخ کلامی: وزیر اطلاعات کی مسلسل حکم عدولی پر سینیٹ اجلاس ملتوی کرنا پڑا


چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ غیر جانبدار رہیں، میری بات سنیں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے جواب دیا کہ میں غیر جانبدار ہوں، مجھے ایوان بھی چلانا ہے۔ وزیر اطلاعات کے نہ رکنے پر بالآخر چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کی کارروائی جمعہ تک ملتوی کردی۔

چیئرمین سینیٹ اور وفاقی وزیر اطلاعات کے دوران اجلاس مکالمہ ہوا تو صادق سنجرانی نے کہا کہ یہاں کہا گیا تھا آپ ایوان میں آ کر معافی مانگیں گے۔ جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ میں حقائق آپ کے سامنے رکھوں گا۔ فواد چوہدری کے بیان پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیراطلاعات آپ پہلے معافی مانگیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں کس چیز کی معافی مانگوں؟ کیا ڈاکو کو ڈاکو نا کہوں؟

اس پر مشاہد اللہ خان نے مطالبہ کیا کہ فواد چوہدری کو ایوان سے باہر نکالیں۔ اپوزیشن کے سینیٹر اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ وزیر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے مناسب سمجھا کہ وزیر اطلاعات سینیٹ میں آکر معذرت یا وضاحت کریں۔ جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ میں وضاحت کر دیتا ہوں۔ وزیر اطلاعات کے بیان پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آپ پہلے معذرت کریں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ میں نے قومی اسمبلی میں جب معذرت کی تو لوگوں نے تنقید کی۔

اپوزیشن لیڈرسینیٹر راجا ظفر الحق نے کہا کہ چیرمین سینیٹ نے کہہ دیا کہ پہلے معذرت کریں تو پھرعمل ہونا چاہیے۔ جواباً فواد چوہدری نے کہا کہ قومی خزانہ لوٹنے پر کیوں معذرت کریں، ڈاکو سے کیوں معذرت کروں؟

جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ فواد چوہدری آپ ایوان سے چلے جائیں، جس پر وزیر اطلاعات نے ایوان سے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔  مشاہد اللہ خان اور فواد چوہدری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ فواد چوہدری آپ کا خاندان چور تھا۔ تم مشرف کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممبران کے سمجھانے پر بھی فواد چوہدری ایوان سے نہیں جا رہے۔ فواد چوہدری سینیٹ کے ایوان سے باہر نہیں گئے تو چیئرمین کو اجلاس 15 منٹ کیلیے ملتوی کرنا پڑا۔ دوبارہ اجلاس شروع ہونے پر فواد چوہدری چیئرمین کے بار بار روکنے پر بھی مشاہد اللہ کے بارے میں بات سے نہ رکے تو چیئرمین نے اجلاس ہی ملتوی کر دیا۔

Facebook Comments HS