بائی پولر ڈس آرڈر اور مزاج کے بدلتے موسم


موڈ کیا ہے؟ لغوی طور پر اسکے معنی دماغ کی شعوری کیفیت یا واضح محسوسات سے بڑھ کر مسرت یا پژمردگی سے گزرنا ہے۔ گویا یہ ہماری سوچ کو رجائی، دوستانہ اور مطمئن رنگ دیتا ہے۔ ہم ہر شے میں دلچسپی لیتے ہیں اور اپنے جسم و جان میں معمول سے زیادہ توانائی بھی محسوس کرتے ہیں۔ ہم نئے منصوبوں پر خوشدلی سے کام کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں، ہمیں مستقبل روشن نظر آتا ہے، اس کے برعکس پژمردگی کے موڈ میں ہمارے محسوسات اور اندرونی کیفیات یاسیت کا شکار ہوتی ہیں۔ ذہن گوناگوں منفی خیالات سے پراگندہ ہوتا ہے، ہمیں خالی پن اور سب کچھ کھو جانے کا احساس مایوسی کی راہ پر لے جاتا ہے، ہم جلد ہی برہمی اور ترش روئی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ داخلی شکست و ریخت ہمیں لوگوں سے دور لے جاتی ہے، تنہائی، خوداعتمادی کا احساس اور عزت و نفس کو کچل دیتا ہے، کبھی کبھی اس حد تک کہ اس کا نتیجہ خودکشی کی صورت برآمد ہوتا ہے۔

بائی پولر ڈس آرڈر ان دونوں متضاد مزاجوں کے ادوار کے وقوع ہونے کا نام ہے۔ ان دورانیوں کو Episode کہا جاتا ہے۔

مینیا (Mania) کی علامات:

مینیا فرانسیسی زبان سے لیا گیا لفظ ہے جس کا مطلب خبط یا پاگل پن ہے۔ اسکی علامات حسب ذیل ہیں۔  

-1 بے حد چاق و چوبند، بے پناہ طاقت اور توانائی کا احساس اور ذہنی بے چینی مثلاً ایک بچے نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔ خطرات کو مول لینے کی حد تک طاقتور ہونے کا غیرحقیقی خیال۔

-2 کم خوابی

-3 پیسوں کو غیرذمہ داری سے خرچ کرنا مثلاً بیک وقت ہزاروں روپوں کے جوتے خرید لینا یا بغیرسوچے سمجھے کاروبار شروع کردینے کا خیال۔

-4 جارحانہ اور گستاخانہ رویہ مثلاً چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینکنا یا ہتک آمیزجملے ادا کرنا۔

-5 تیزی سے گفتگو کرنا، دوسروں کی بات کاٹنا، موضوع کو بار بار بدلنا جو ذہن کے منتشر ہونے اور مرکوز نہ ہونے کی علامت ہے۔

-6 قوتِ فیصلہ کی صلاحیت کا ناقص ہوجانا۔

-7 جنسی خواہشات میں شدت جو غیرضروری طور پر حاملہ ہوجانے کا سبب بنے، بعض صورتوں میں اسکا انجام طلاق بھی ہوسکتا ہے۔

-8 حسیات میں شدت ہونا مثلاً خوشبو، آواز، ذائقہ اور رنگ تیز اور شدت سے محسوس ہوتے ہیں۔ حواسِ خمسہ کی شدت، خیالات و محسوسات پر طاری ہوتی ہے اور اس کے باعث تخلیقی عمل مثلاً شاعری، موسیقی یا مصوری کا عمل بہت بارآور ثابت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ورجینیا وولف، ہیمنگ وے، لیو ٹالسٹائی وغیرہ اسی مرض کا شکار تھے۔

-9 نشہ آور ادویات کا بے دھڑک استعمال، اس کے علاوہ جھجک اور شرم میں کمی اور بے باکی۔

-10 اپنی مخصوص شخصیت کے بجائے مختلف طرزِعمل اختیار کرنا۔

انتہائی ذہنی دباﺅ یا ڈیپریشن کی علامات:

-1 اداسی، بے چینی اور خالی پن

-2 ناامیدی اور پژمردگی

-3 جرم، بے وقعتی اور بے چارگی کا احساس

-4 ان باتوں سے عدم دلچسپی یا عدم لذت کہ جو کبھی اچھی لگتی تھیں اور دلچسپی کا باعث تھیں۔

-5 توانائی کے زائل ہونے کا احساس، تھکن اور سستی کا طاری ہونا۔

-6 ذہن کو مرکوز کرنے، یاد رکھنے اور فیصلہ میں دشواری

-7 حد سے زیادہ سونا یا بالکل نہ سو پانا

-8 بھوک میں تبدیلی، وزن کا بہت کم یا زیادہ ہوجانا

-9 درد اور جسمانی عارضہ کہ جو طبعی بیماری یا چوٹ کے سبب سے نہ ہو۔

-10 بے چینی اور چڑچڑاہٹ

-11 موت یا خودکشی کا خیال یا خودکشی کی کوششیں

-12 آوازوں کا سنائی دینا، خود سے گفتگو کرنا یا ایسی اشیاءکو دیکھنا کہ جو حقیقت میں موجود نہ ہوں۔

مندرجہ بالامیں سے اگر پانچ یا زیادہ علامات تقریباً دن بھر اور دو ہفتہ یا زیادہ مسلسل رہیں تو یہ ڈیپریشن کا دورانیہ ہے۔ مریض کی علامات کا بغور مشاہدے کے بعد نفسیات دانوں میں مستنعد ایک رہبر کتاب ہے جس کا نام ”Diagnostic and statstic Manual“ ہے، حتمی طور پر تشخیص کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص بہت آسانی سے نہیں کی جاسکتی اور اکثر اس کیلئے کئی سال کا مشاہدہ درکار ہوتا ہے۔

بائی پولر کے ساتھ ساتھ اکثر مریضوں میں جو دوسری علامات پائی جاسکتی ہیں ان میں نشہ آور ادویات یا شراب نوشی، اے ڈی/ ایچ ڈی، آئٹزم، تھائرائیڈ اور مائیگرین جیسی علامات شامل ہیں۔ مینیا اور ڈیپریشن کے دورانیوں کے دوران اکثر افراد میں علامات بالکل نہیں پائی جاتیں جبکہ ایک تہائی افراد میں تھوڑی بہت علامات باقی رہتی ہیں۔ ایک فیصد افراد میں باوجود علاج کے علامتیں دائمی ہوتی ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4