بائی پولر ڈس آرڈر اور مزاج کے بدلتے موسم


بائی پولر ڈس آرڈر کی اقسام

ڈیپریشن اور مینیا کے دورانیوں پر مبنی کچھ امراض کی کچھ اقسام ہوتی ہیں۔

-1 بائی پولر ڈس آرڈر:

یہ کلاسیکل قسم کا بائی پولر ہے، اس کا تناسب 1.1 فیصد ہے اور اسکی علامات شدید نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اس میں مینیا کی کیفیت پہلے ہوتی ہے جس کے بعد ڈیپریشن کا حملہ ہوتا ہے۔

-2 بائی پولر II ڈس آرڈر:

جس کا تناسب 0.6 فیصد ہوتا ہے۔ یہ کم سنگین کیفیت ہوتی ہے کہ جس میں مینیا کی نوعیت ہلکی یا Hypomania ہوتا ہے۔ مرض کی ابتدا ڈیپریشن کی کیفیت سے شروع ہوتی ہے۔ مینیا کا حملہ عموماً دو سے چار سال کے بعد ہوتا ہے لیکن یہ سالانہ یا اس سے کم عرصے میں بھی ظہور پذیر ہوسکتا ہے۔ اس میں مینیا کی علامات کم از کم چار دن تک رہتی ہیں۔

-3 ملی جلی (Mixed) کیفیت کا بائی پولر ڈس آرڈر:

اگر مریض میں دونوں کی شدید علامات بیک وقت ہوں، یعنی بے پناہ توانائی اور باصلاحیت ہونے (مینیا) کا احساس اور بے چینی، سونے میں تکلیف، اداسی، مایوسی اور خودکشی کا رجحان (ڈیپریشن) جیسی کیفیات ہوں تو اس کو مکسڈ بائی پولر ڈس آرڈر کہا جاتا ہے۔ اکثر نفسیاتی معالج اس کو ہیجانی دباﺅ (Agitated Depression) یا ڈسفورک مینیا بھی کہتے ہیں۔ یہ حالت دراصل بہت خطرناک ہوتی ہے اور اس میں خودکشی کا بہت احتمال ہوتا ہے۔

Rapid Cycle Bipolar Disorder

جب مرض کا حملہ سال میں چار یا اس سے بھی زیادہ بار ہو تو اس کو ریپڈ سائیکل بائی پولر ڈس آرڈر کہا جاتا ہے اور یہ کیفیت عموماً بچوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ مردوں میں یہ مرض عموماً مینیا کی علامات سے شروع ہوتا ہے جبکہ عورتوں میں یاسیت یا ڈیپریشن کی کیفیت سے ابتدا ہوتی ہے۔

اکثر یاسیت اور مینیا کی شدید حالت میں آوازوں کا سنائی دینا یا لوگ دکھائی دینے والی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض مریض اپنے متعلق خوش یا بدگمانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں، مثلاً مینیا میں یہ گمان کہ وہ صدر یا ہالی وڈ فلم اسٹار ہیں اور عالم یاسیت میں احساسِ ندامت کہ ان سے بہت بڑا جرم ہوگیا ہے۔ یہ احساس انہیں خودکشی کی طرف راغب کرتا ہے۔ مرض کا مناسب علاج ہونے کی صورت میں حملہ کا دورانیہ، تعداد اور شدت میں قدرے کمی ہوتی ہے لیکن اگر علاج نہ کیا جائے تو زندگی بھر سات سے آٹھ بار مرض کے شدید حملے ہوسکتے ہیں۔ گو مرض کی واضح علامات عموماً بلوغت کے ساتھ شروع ہوتی ہیں لیکن یہ حتمی نہیں کیونکہ کمسن اور نوزائیدہ بچوں میں بھی کبھی کبھی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

مرض کی وجوہات:

-1 جینیاتی طور پر وراثت میں ملنا

-2 جسم میں موجود حیاتیاتی کیمیائی مادے

-3 ماحولیاتی عوامل

(1) موروثیت:

ابھی تک چھ مختلف جینیاتی مادوں کا براہ راست تعلق اس مرض سے پائے جانے کا یقین ہے لیکن کسی مخصوص جین کے تعلق کو ثابت نہیں کیا جاسکا۔ گو بالکل یکساں مشابہ جڑواں بچوں میں دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس مرض کے ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اگر والدین میں سے کسی کو یہ مرض ہو تو 15-30 فیصد امکانات ہیں کہ مرض اولاد میں منتقل ہوسکے لیکن اگر دونوں کو ہے تو منتقلی کے 50-70 فیصد امکانات ہیں۔

-2 جسم کے حیاتیادی مادوں کے اثرات:

دماغ میں بننے والے نیورو ٹرانسمیٹر مثلاً Dopamine کی کمی ڈیپریشن اور زیادتی مینیا کا سبب بنتی ہے، یہ مادہ جذباتی حالت، حرکات، سیکھنے، سوچنے اور یادداشت کی صلاحیت پر اثرانداز ہوتا ہے۔

سیروٹونن (Serotonin)

اس نیورو ٹرانسمیٹر کی زیادتی تھکن، چڑچڑاہٹ، پریشانی اور خودکشی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اسکے علاوہ بھی کچھ اور ٹرانسمیٹر مثلاً اسٹائل کولین، نارایپی نیفرین (Norepipherine) کی کمی یا بیشی بھی کیفیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ بیماری کی کیفیت میں ان نیورو ٹرانسمیٹر کی مقدار میں کمی بیشی کے علاوہ بھی جو طبعی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں وہ ایف ایم آر آئی، پی ای ٹی جیسی تکنیک کی مدد سے باقاعدہ دیکھی جاسکتی ہیں (یہ دماغ کی وہ تصاویر ہیں جو دماغ کی اندرونی تبدیلیوں کا پتہ دیتی ہیں) اس میں دماغ کے کچھ حصے نارمل سے زیادہ سوج جاتے ہیں (18-20 فیصد زیادہ) وہ حصے جو واضح طور پر متاثر ہوتے ہیں وہ پری فرنٹل کورٹکس، بیسل گینگلیا (Basal Ganglia) یا ٹیمپورل لوبو (Temporal Lobo) وغیرہ ہیں۔

-3 ماحولیاتی عوامل:

بچپن میں ذہنی دباﺅ کا سامنا کرنے والے بچوں کے دماغ کی کیمیائی کارکردگی متاثر ہوتی ہے مثلاً جنسی اور نفسیاتی تشدد کا شکار ہونا، والدین کی موت کا صدمہ وغیرہ جبکہ بالکل حالیہ تحقیق کے مطابق بووائن وائرس سے ہونے والی بیماری اور Taxoplasmosis (ٹیکسو پلازموسز) بھی بیماری کی تحریک میں معاونت کرسکتے ہیں۔ یہاں یہ دلچسپ تحقیق بھی قابل توجہ ہے کہ سردیوں میں پیدا ہونے والے بچوں میں گرمیوں کی پیدائش کے مقابلے میں مینیا کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ موسم کا دماغ پر اثر ہوتا ہے۔ بائی پولر ڈس آرڈر میں مبتلا افراد میں خودکشی کا تناسب 15-25 فیصد ہے اور اس میں سے 10 فیصد لوگ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، خصوصاً 15-24 سال کے عمر کے افراد میں خودکشی کا بڑا سبب یہی بیماری ہے۔ کئی مشہور افراد نے اس بیماری کی حالت میں اپنے آپ کو ہلاک کرلیا مثلاً مشہور ناول نگار ورجینیا وولف، افسانہ نگار ہیمنگ وے کے علاوہ بے شمار افراد یا تو خودکشی سے ہلاک ہوئے یا انہوں نے اسکی کوشش کی ہے۔ 2005ءمیں امریکہ کے شہر ڈیٹرائٹ میں ایک 22 سالہ بائی پولر نوجوان نے تین افراد کو گولی مار کر خودکشی کرلی، اس کی وجہ اس کا دوا لینے میں تامل اور بیماری کو قبول نہ کرنا تھا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4