پیمرا میں کس چینل کے خلاف کتنی شکایات ہوئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اخلاقی اقدار کے وہ تصورات جہاں ایک جانب سماجی رویوں سے جڑے ہوئے ہیں وہی خاندانی، ثقافتی و تہزیبی رویات ان کا خاصہ ہیں۔ ان اخلاقی اقدار پر عمل درآمد کسی اصول ریاست، آئینی و قانونی حدبندی سے مبرا سماج کو بہتر بنانے جھوٹ پر مبنی من گھڑت یا نقصان دہ معلومات و اطلاعات کی روک تھام کے لیے ہی ذرائع ابلاغ کی اخلاقی اہمیت محسوس کی گئی۔ اخلاقیات کا تعلق نہ صرف ذرائع ابلاغ سے ہے بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں اخلاقی اصولوں پر عمل پیرا ہونا وقت کے ضرورت ہے۔ چونکہ ہر معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار اور کچھ حدود و قیود رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں ذرائع ابلاغ سے متعلق حکومتی یا غیر حکومتی سطح پر 9 سے زائد ایسے ضابطہ اخلاق و اصول ہے جو پیچیدہ صورتحال اختیار کرچکے ہیں۔ ضابطہ اخلاق دراصل اخلاقی حدود و قیود کو واضح کرتا ہے جس کی پابندی معاشرہ اور افراد معاشرہ کے کے مفادات کے لیے ناگزیر ہیں۔ پیمرا کو عوامی شکایات کا 2012 سے 2014 ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس عرصے میں بصری مواد جن میں خبریں، ٹاک شوز، کرائم شوز، اشتہارات، ڈرامے، مارننگ شوز، فلمیں، دستاویزی پروگرام اور دیگر نشر کیا جانے والا مواد ہے۔ مجموعی طور پر عوامی شکایات کا مطالعہ کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 70 فیصد تک کی جانے والی شکایات کا تعلق اخلاقیات و ضابطہ اخلاق سے تھا۔

پیمرا کا کہنا ہے کہ اکتوبر دو ہزار سترہ میں مختلف ٹی وی چینلز کے خلاف انہیں 387شکایات موصول ہوئی۔ موصول ہونے والی زیادہ تر شکایات ڈراموں، فلموں اور گانوں سے متعلق ہیں، پیمرا حکام نے تمام شکایات پر ضابطے اخلاق کے تحت کارروائی کی۔ پیمرا کو اکتوبر 2017کے دوران موصول ہونے والی شکایات کے ڈیٹا کے مطابق اے آر وائی ڈیجیٹل کے خلاف 10، اے آر وائی نیوز کے خلاف 10، بول نیوز کے خلاف 8، جیو نیوز کے خلاف 6، ہم ٹی وی کے خلاف 20، کے ٹی این ٹی وی کے خلاف 12، کے ٹی این کشش کے خلاف 10، رائل ٹی وی کے خلاف 138، اردو ون کے خلاف 40، ٹی وی ون کے خلاف 11، سٹار لائٹ، سما ٹی وی، روز ٹی وی، پلے ٹی وی، نیو ٹی وی، جیو انگلش، مررر ٹی وی، میٹرو ون، مہران ٹی وی، مصالحہ ٹی وی، ہم ستارے، ہیلتھ چینل، جیو کہانی، فلم ورلڈ، ایکسپریس نیوز، ایکسپریس میوزک، دنیا ٹی وی انٹرٹینمنٹ، ڈسکوری ٹی وی، دھرتی ٹی وی، ڈان نیوز، سٹی 42، چینل فائیو، چینل 24، بی بی سی ورلڈ، اے ایکس این، اے پی ٹی خیبر، اے ٹی وی، اے آر وائی ذائقہ، عروج ٹی وی، اپنا ٹی وی، امن ٹی وی، اے لائیٹ اور 8ایکس میوزک کے خلاف ایک ایک، اے پلس اور آج نیوز کے خلاف 4، 4، ابتک ٹی وی کے خلاف 3، ایڈونچر ٹی وی، اے آر وائی میوزک اور اینمل پلانٹ کے خلاف دو دو، اے آر وائی زندگی کے خلاف 6، چینل 92کے خلاف تین شکایات موصول ہوئی۔

ذرائع ابلاغ یا میڈیا مل سے ذمہ داری اور فرائض کو نکال دیا جائے تو پھر سوائے تنزلی اور بربادی کے کچھ نہیں بچتا۔
ذرائع ابلاغ کے ادارے اس بات کو یقینی بنائیں ہیں کہ شائع ہونے والا مواد قانونی، اخلاقی، سماجی، تہذیبی، مذہبی، معاشرتی روایات کے متصادم نہ ہو بلکہ ایسے معاشرے کی تشکیل میں معاون و مددگار ثابت ہو جہاں ذرائع ابلاغ فرقہ پرستی، انتہا پسندی، شدت پسندی، ظلم، نا انصافی، مذہبی و سیاسی جنونیت، کے خلاف ذمّہ دارانہ کردار ادا کرسکے۔

مہز ب معاشرہ بالخصوص اپنے ہاں رائج اخلاقی اقدار سے پہچانا جاتا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا معاشرہ ہوگا جو خود کو اخلاقی اقدار سے عاری قرار دیا جاسکے۔ اچھے برے عمل کی تمیز پر مبنی ان اخلاقی اقدار کو فروغ دے کر ایسے معاشرے کی تشکیل مطلوب ہوتی ہے جس میں حسن اخلاق، ایک دوسرے کا خیال انسان ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو سمجھ سکے اور تہذیبی و ثقافتی روایات زندہ رہیں۔

فکر ہو فلسفہ، درگزر، فلاح انسانیت، نیکی، برائی، درگزر، احسان سے متعلق احکامات کا تعلق اخلاقیات ہی سے ہے۔ اخلاقیات پر عمل کرنا عین فطری عمل ہے۔ پاکستان ہو یا دنیا کی دوسرے ترقی پزیر ممالک میں اخلاقی اقدار کے وہ تصورات جو ایک سماجی رویوں جڑے ہوئے ہیں وہیں خاندان، ثقافتی و تہذیبی رویات ان کا خاصہ ہیں۔ ہر ادارہ اور ہر شخص اگر خود احتسابی کے عمل کو کو فروغ دیتے ہوئے ضابطہ اخلاق کا خیال رکھے اور اس پر عمل کرے تو معاشرے میں ذرائع ابلاغ مثبت نتائج کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں