ایسا تو سب کرتے ہیں


اسی اثنا میں جبران کے منجھلے بھائی برہان، کمرے میں داخل ہوئے۔ بینا کی بہن نے بینا کا گھونگٹ کھینچ کر اس کا چہرہ چھپا دیا۔
بھئی اب بینا کی عدت ختم ہو گئی چلو بینا، اپنے ہاتھ کی مزے دار چائے پلاؤ۔

ابھی ایک دن باقی ہے، تم نا محرم ہو جاؤ یہاں سے۔ بینا کی جیٹھانی بولی۔
یعنی کل یہ نامحرم نہیں رہیں گے؟ شیبا حیرت سے بولی۔ مگر قرآن میں تو لکھا ہے کہ دیور بھی نا محرم ہو تا ہے۔

بھئی اب اتنا پردہ کون کرتا ہے آج کے دور میں۔ برہان شوخی سے بولا۔ چلو کوئی بات نہیں بینا اب کل سے شام کی چائے روزانہ میں تمہارے ہاتھ ہی کی پیا کروں گا۔
ہاں ہاں ابھی جاؤ۔ بینا کی جیٹھانی تڑخ کر بولی۔

نہیں امی یا تو ابھی چاچو کو چا ئے پلائیں گی یا کبھی نہیں۔ نینا چیخ پڑی۔
بیٹا ابھی وہ عدت میں ہے۔ برہان نے نرمی سے کہا۔ ہم کل پی لیں گے۔
چاچو ایک دن سے کیا ہو جا ئے گا۔
نہیں بیٹا۔ ایسا قرآن میں حکم ہے۔ دورانِ عدت نا محرم کا سایہ بھی بیوہ پر نہیں پڑنا چا ہیے۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔

برہان اسٹیل مل میں تھے۔ ان کے گھر کے افراد کا علاج پینل کے ہاسپٹلز سے مفت ہوتا تھا۔ ان کے نکاح میں تو ایک ہی بیوی اور ایک ہی ماں تھی، لیکن ایک مرتبہ اپنی خالہ کو اپنی سوتیلی ماں اور ایک مرتبہ اپنی سگی بہن کواپنی بیوی ظاہر کر کے پینل کے ہسپتال سے ان کی مفت ڈیلوری کروائی تھی۔ اور خاندان کے کئی بچوں کو اپنے بچے ظاہر کر کے علاج کروایا کرتے۔ سارا خاندان ان کی عزت کرتا اور انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتا تھا۔ جبران اس بات سے بڑا چڑتا تھا اس کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اتنا غریب نہیں کہ اپنے پیسے سے علاج نہ کرا سکے۔ لیکن برہان خاندان میں اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے اس ناجائز کام کو اپنی نجات کا ذریعہ کہا کرتا تھا۔

امی اٹھیے۔ ہمیں ان کے ساتھ نہیں رہنا۔ نینا چیخ کر بولی، شیبا بھی ماں کے قریب آکر کھڑی ہو گئی۔
شیبا اپنی بیٹیوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
پاگل ہو گئی ہو۔ کہاں جا ؤ گی۔ تمہاری ماں عدت میں ہے۔ جانتی ہو قرآن میں۔ ۔

بند کریں اپنی بکواس، نینا دھاڑی۔ آپ کو نہیں معلوم ہم جبران کی بیٹیاں ہیں۔ جو چاہتے تھے ہم یونی ورسٹی میں پڑھیں، نوکری کریں، امی نوکری کریں آپ نے تو ابو کی وصیت کا بھی خیال نہ کیا، جو انہوں نے مرتے وقت کی تھی۔
بیٹا وہ ہذیان بک رہا تھا۔ بھلا اللہ کے حکم کے خلاف کوئی جا سکتا ہے۔

ہذیان وہ نہیں آپ لوگ بک رہے ہیں۔ ہر صحیح بات کو آپ لوگ ہذیان اور غلط بات کو سب یہ کرتے ہیں کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ آپ لوگوں کی زندگی کا ایک ایک عمل انسانیت کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن انسانیت کس چڑیا کا نام ہے یہ بھلا آپ کو کیسے معلوم ہو گا۔ ایک بے بس بیوہ کو اپنے حکم پر چلانے کو آپ اللہ کا حکم کہتے ہیں۔

آج سے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم وہ نہیں کریں گے جو سب کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کی نظر میں ہم اللہ کے نافرمان بندے ہوں۔ لیکن اللہ کے بندوں کو دھوکہ دے کر اپنی نظروں میں کبھی نہیں گریں گے۔ اٹھئیے امی چلیں۔ اب اگر ہم ان پاگلوں میں کچھ دیر اور رہے تو شاید ہم بھی ان جیسے چور، جھوٹے، مکار اور فریبی بن جائیں۔ ہمیں نا فرمانی قبول ہے۔ امی اٹھیے۔ ہمیں ان چوروں کے ساتھ رہنا ہے نا ان کے احکام ماننے ہیں۔ جب تک بابا تھے یہ ہمارے رشتے دار تھے۔ اب ان ٹھیکے داروں کے ساتھ ہمیں نہیں رہنا۔ یہ ہم سے وہی چاہیں گے جو سب کرتے ہیں۔ اور جو سب کرتے ہیں ہم وہ کر نہیں سکتے۔
بینا نے سر سے چادر اتارکر قریب پڑا جارجٹ کا دوپٹہ اٹھایا اور گلے میں ڈال لیا اور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے پیچھے پلٹ کر جبران کی تصویر کی طرف دیکھا، جبران مسکرا رہا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2