مہاراجہ کپورتھلہ کو تخت کیسے ملا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک فرانسیسی کہاوت ہے کہ مرد کی ایک ہر ایک سر گرمی کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں عورت ضرور ہوتی ہے۔ خواہ کوئی تجارت سے متعلق اہم معاملہ ہو یا جنگ ہو، محبت ہو یا سیاست ہو یا پھر کسی بھی قسم کی کوئی اہم واردات ہو، اس کی بنیاد میں کہیں نہ کہیں کوئی عورت ضرور ہوتی ہے مجھے اس فرانسیسی کہاوت کے متعلق میرے ایک فرانسیسی دوست آندرے دی فو کیرنے بتایا تھا۔ آندرے عمر بھر پیرس سوسائٹی کا لیڈر رہا اور اس کا بھائی پیٹر دی فوکیر کو ادی آر سے میں فرانس کے دفتر خارجہ کا سیکرٹیری تھا۔ آندرے نے مجھے بتایا کہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہنچے کے لئے اس کے پیچھے چھپی عورت کو کھوج لینا چاہیے۔ یہ فرانسیسی کہاوت میرے ذہن میں بیٹھ گئی اور میں نے یہ اصول بنا لیا ہے کہ جہاں کہیں کسی مسئلے کا کوئی حل نہ سوجھ رہا ہو وہاں اس کی تہہ میں کسی عورت کی کھوج کی جائے۔

جب پنجاب کی ایک سکھ ریاست کپور تھلہ کے مہاراجہ جگت جیت سنگھ نے مجھے گرمیوں کے کچھ دن اپنے ساتھ گزارنے کے لئے مسوری بلایا تھا تب پہلی مرتبہ مہاراجاؤں اور مہارانیوں سے میرا سابقہ پڑا۔ مسوری میں مہاراجہ کپور تھلہ کا محل فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ فرانس کے شاہی محلات کی طرز بنا ہوا ہے۔ ساڑھے سات ہزار فٹ کی اونچائی پر بنے ہوئے اس محل میں ٹینس کھیلنے کا ایک بہت بڑا میدان ہے۔ پھولوں کے باغ اور نایاب پیڑ پودے ہیں۔ دھوپ میں چمچماتی ہوئی ہمالہ کی برفیلی چوٹیوں کے بالمقابل بنے اس محل کی خوبصورتی قابل دید ہے۔

مہاراجہ کو ٹینس کا میدان اس قدر پسند آیا تھا کہ وہ کھِل اٹھا تھا۔ میں نے پنجاب یونیورسٹی کی ٹینس میں سنگل فائنل جیتی تھی اور گورنمنٹ کالج لاہور کے سب سے اچھے کھلاڑی سندر داس کو ہرایا تھا۔ مہاراجہ میری اس جیت سے اتنا خوش ہوا تھا کہ اس نے مجھے کپور تھلہ بلوا کر بھرے دربار میں میری چھاتی پر اپنے ہاتھ سے سونے کا تمغہ لگایا تھا۔ اس تمغہ پر کھُدا ہوا تھا ”پنجاب یونیورسٹی کا چمپیئن“ اور نیچے کھدا تھا ” مہاراجہ جگت جیت سنگھ“ ۔

میرے والد، دادا پر دادا اور اسے بھی پہلے کہ میرے پرُکھے ہندوستانی ریاستوں میں دیوان یا وزیر کے عہدے پر رہ چکے تھے اور ریاستوں کی روایت یہ تھی کہ دیوانوں کے بیٹو ں کو چھوٹی عمر میں ہی بڑے عہدے دے دیے جاتے تھے۔ کپور تھلہ اسی لئے بلایا گیا تھا کہ میرے بزرگوں نے ریاستوں کی خدمات سر انجام دی تھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ میری تعلیمی قابلیت کافی تھی اور میں نے ٹینس میں نام پیدا کیا تھا۔

جن دنوں مہاراجہ رندھیر سنگھ کے باپ مہاراجہ نہال سنگھ کی وصیت پر جھگڑا چلا تب میرے دادا دیوان متھراداس کو مہاراجہ کے مقدمے کی پیروی کرنے کے لئے لندن بھیجا گیا تھا۔ ہندوستان میں وائسرائے کے سامنے اس مقدمے کی اپیل خارج ہو چکی تھی۔ اب لندن میں وزیر ہند کے روبرو یہ مقدمہ پیش ہوا تو ملکہ و کٹو ر یہ کی منظوری حاصل کر کے وائسرائے کے فیصلے کو پلٹ دیا۔ یوں مہاراجہ نہال سنگھ کی وصیت کو مسترد قرار دے دیا گیا۔ اگر وہ وصیت قائم رہتی تو ریاست کو مہاراجہ کے تین بیٹوں میں تقسیم کر دیا جاتا۔

مہاراجہ نہال سنگھ نے یہ وصیت صرف اپنی چہیتی رانی کو خوش کرنے کے لئے کی تھی۔ جس کے بطن سے دو بیٹے تھے۔ سب سے بڑا بیٹا رندھیر سنگھ پٹ رانی کے بطن سے پیدا ہوا تھا اور پٹ رانی اب مہاراجہ کی نگاہوں میں گرِ چکی تھی، مگر قانون کے مطابق رندھیر سنگھ ہی ریاست کا واحد وارث تھا۔ اس وصیت کا مقصد رندھیر سنگھ کو گدی سے محروم کرنا تھا۔ مقدمہ قانونی طور پر لندن میں لڑا گیا، 1857؁ء کی بغاوت کے بعد ملکہ وکٹو ریہ یہ نے یہ عہد کیا تھا کہ ہندوستانی ریاستوں کے حکمرانوں کے اعزاز اور سہولیات سے متعلق موروثی قوانین کو برقرار رکھا جائے گا اس لئے ریاست تین حصوں میں تقسیم ہونے سے بچ گئی۔

وزیر ہند نے یہ فیصلہ دیا کہ مہاراجہ رندھیر سنگھ ہی پوری ریاست پر حکمرانی کریں گے جب کہ باقی دو دعوے داروں کو نقد سالانہ و ظائف دیے جائیں گے۔ مگر ان سے کہا جائے کہ وہ ریاست سے باہر ہیں تاکہ آئندہ کسی جھگڑے ٹنٹے کی نوبت نہ آئے۔ یوں وہ دونوں ریاست سے پندرہ میل دور جالندھر میں رہنے لگے۔ مہاراجہ رندھیر سنگھ جو مہاراجہ جگت جیت سنگھ کے دادا تھے، میرے دادا یوان متھر اداس سے بہت ہی خوش تھے۔ لندن جا کر مقدمہ جیتنے کی خدمات کے عوض میرے دادا کو ہزاروں ایکڑ زمین، ہیرے جواہرات اور ایک بہت بڑی رقم انعام میں دی گئی تھی۔ میں یہاں یہ بھی بتادوں کہ جن دنوں مہاراجہ جگت جیت سنگھ نابالغ تھے، ان دنوں میرے پر دادا دیوان رام ریاست کپور تھلہ کے ایجنٹ تھے اور اس ناتے نا بالغ مہاراجہ کی طرف سے تیرہ برس تک حکومت چلاتے رہے۔

جب مہاراجہ جگت جیت سنگھ کے والد مہاراجہ کھڑک سنگھ کا انتقال ہوا تو جگت جیت سنگھ کی عمر صرف پانچ برس تھی۔ ، میرے پر دادا دیوان دولت رام کپور سرکار میں وزیر کے عہدے پر مامور تھے اور مہاراجہ انہیں بہت چاہتے تھے۔ میرے والد مہاراجہ کے ساتھ یورپ کے دورے پر بھی جایا کرتے تھے۔ میری اس خاندانی تاریخ اور میری ذاتی قابلیت کے سبب مہاراجہ نے میرے طالب علمی کے زمانے ہی میں میرے ساتھ والد ایسا سلوک روا رکھا۔ مہاراجہ ٹینس بہت اچھی کھیل لیتے تھے۔ مگر نیچے آتے ہوئے گیند کو واپس بھیجتے وقت وہ غیر ضروری طور پر بہت زیادہ جھک جایا کرتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں مہاراجہ نے مجھے مسوری بلوایا تھا کہ میں ان کے ساتھ ٹینس کھیلوں اور ان کے مدد گار کے طور کام کروں۔ مہارجہ کی کوٹھی پر گرمیوں میں مسوری آئے بڑے لوگوں کی دعوت کا سلسلہ چلتا ہی رہتا تھا۔ ہفتہ میں تین چار مرتبہ رقص، ڈنر اور طرح طرح کی پارٹیاں ہوتی رہتیں۔ ان پارٹیوں میں سیکڑوں انگریز افسر، انگریز عورتیں، مہاراجے، مہارانیاں اور اونچے طبقے دیگر ہندوستانی مد عو ہوتے تھے۔

میرے مسوری پہنچنے کے پہلے ہی دن مجھے ” سنی ویو“ نام کے نہایت آرام دہ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا اور اسی شام مہاراجہ نے مجھے رات کے کھانے پر مدعو کیا جس میں مہاراجہ اور ا س کی اسپینش مہارانی پر یم کور کے سمیت چھ افراد شامل تھے۔ اسپینش مہارانی نے مہاراجہ کے ساتھ سکھ ریت سے ( سکھ مذہب کے مطابق ) شادی کی تھی۔ اس دعوت میں ایک خاتون لاتوسی ڈزدن بھی تھی جس نے بعد ایم اٹیکنسن سے شادی کر لی تھی۔ اٹیکنسن لاہور کے چیفس کالج میں ٹیوٹر تھے۔ اس دعوت میں میرے علاوہ ریاست کے دو بڑے افسر بھی تھے۔ جس وقت شراب کے گلاس سامنے آئے مجھ سے پوچھا گیا ” میں کیا پینا پسند کروں گا۔ “ میں نے جواب دیا کہ ” میں لیمنٹ پیوں گا“۔ اس پر مہارانی نے خود آگے بڑھ کر ” فرانسیسی لیمنٹ“ لانے کا حکم دیا تھا۔

مہارانی کو مجھ سے بڑا اُنس تھا۔ میں نے جب تین گھونٹ پی لئے تب کہیں مجھے پتہ چلا کہ وہ تو فرانس کی مشہور شراب شمپیئن تھی۔ یوں میرا تعارف شمپیئن اور یورپی طور طریقوں سے ہوا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انگریز مہاراجاؤں اور ان کے ریاستی افسروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے لگے تھے۔ سبب یہ تھا کہ ان دنوں کا نگریس کی تحریک زور پکڑ رہی تھی جب کہ وائسرائے اور برٹش سول سروس اسے روکنے کے لئے کوشاں تھی، اسی لئے انگریز افسر اور ان کی عورتیں مہاراجہ اور ان کے اہلکاروں سے بہت میل جول بڑھا رہے تھے اور یہ میل جول باہمی محبت تک بڑھ چلا تھا، جیسے کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

کتاب مہارانی سے اقتباس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •