ریاست پٹیالہ کے حکمران ہزیائی نیس مہاراجا سربھوپندر سنگھ بہادر کے بنائے ہوئے نئے تانترا مت یا نئے جنسی دھرم کی کہانی کے آغاز سے پہلے ضروری ہے کہ اصل تانترا دھرم کے بار ے میں قارئین کو معلومات فراہم کی جائیں۔ صرف اسی صورت میں قارئین کو تانتری رسوم اہمت سمجھ میں آئے گی اور وہ یہ سمجھ سکیں گے کہ نئے دھرم کا آغاز کیسے ہوا اور مہاراجا نے اپنی شہوت اور ہوس کی تسکین کے لیے اسے کیسے اختیار کیا۔
حقیقت میں مہاراجا کا شروع کیا ہوا تانترا دھرم ہندومت کی حقیقی اور خالص تانتر ی صورت سے بالکل مختلف تھا۔ اس کا مقصد محض مہاراجا کی جنسی خواہشات کی تسکین تھا۔ وہ دھرم کے لبادے میں بے شمار عورتوں سے جنسی لذت حاصل کرتا۔ یوں اس کا وقار بھی برقرار رہتا کیونکہ یہ عمل دھرم کی روح کے مطابق وہاں اکٹھا ہو جانے والی عورتوں کی نگاہوں میں ان کے مذہبی اعتقادات کے مطابق تھا۔ یہ دھرم صرف ان لوگوں تک محدود تھا، جنہیں اس کو اپنانے کی اجازت دی جاتی تھی۔ اس دھرم کو اپنانے والوں سے رازداری کا حلف لیا جاتا تھا۔
ضرور وہ شخص بڑا دلیر! ہو گا، جس نے آج سے آدھی صدی پہلے یہ کہا تھا کہ بھگوان کو تا
Read more