محبت، نفرت اور اعتبار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسا لگ رہا تھا کہ وہ چاندنی میں دھلی تاروں کے کارواں کی کہانی سنا رہی تھی۔ تارے اُس کی پلکوں سے ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ میرا دل چاہا کہ ان ٹوٹتے ستاروں کو دیکھ کر کوئی دعا مانگ لوں۔ اگر مانگ لیتی تو ضرور قبول ہو جاتی۔ کہ یہ وہ لمحات تھے جب ہم دونوں عورتوں کے درمیان خدا خود موجود ہے جب جب عشق کے چاک دامن کو رفو کی حاجت ہوتی ہے اس لمحے خدا ہی تو ہوتا ہے جو ان زخموں کو سینے والا ہوتا ہے۔ ہم انسان تو بس زبان اور کان کے ہوتے ہیں۔

وہ کہہ رہی تھی کہ میں مر چکی ہوں۔ میری لاش گویا کسی سرد خانے میں رکھی ورثاء کا انتظار کر رہی ہے وارث کہیں دور چلے گئے ہیں۔ میں نے انہیں اپنی موت کی خبر نہیں ہونے دی۔ جانے کتنا مشکل ہو اُن کے لئے واپسی کا سفر۔ جب وہ آئیں گے تو میری لاش دفنا دیں گے۔ اور مجھے مکتی مل جائے گی۔

ایک خط لکھوا رہی تھی وہ مجھ سے، برف کی مانند سفید چہرہ اور سردیوں کی نرم دھوپ کی مانند الفاظ۔
خط کی ابتداء اُس نے کچھ یوں کی۔

اے میرے محبوب! یہ خط نہیں یادیں ہیں، جذبے ہیں انہیں غور سے پڑھنا، بس پڑھ لینا کہ میرے مردہ وجود کو دیکھ کر تمہارے احساس بھی مرجائیں گے۔ یہی وعدہ تھا کہ ہمارا اگر ایک مرا تو دوسرا بھی جئے گا نہیں۔

تمہارے ساتھ بیتا ہر پل میری یادوں کے پردوں میں زندہ ہے۔ ہمارے بغیر زندہ رہنا ممکن نہ تھا۔ اس بے دردی کے لئے کہ میں تمہارے انتظار میں ہی تمہیں اکیلا چھوڑ کر مر گئی۔ معاف کر دینا۔ میرا مرنا بہت ضروری تھا۔ اگر میں مرنا جاتی تو بتاؤ اس زندگی کا میں کرتی بھی کیا۔ ؟

اے جانِ حیات مجھے یاد ہے ابھی بھی تم نے سالگرہ پر مجھے کاغذ پر لکھ بھیجا تھا تمہیں مجھ سے محبت ہے، بڑی جلدی میں لکھا تھا تم نے۔ ایک بوسیدہ کاغذ پر کہ قاصد کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔ وہ گلابی رنگ کا تروگازہ گلاب ابھی تک میری سانسوں میں مہک رہا ہے جو تم نے دیوار کے پار سے مجھے دیکھ کر میری طرف اچھالا تھا۔

بھلا تو اُس دیوار کا جو دونوں کے گھروں کے درمیان تھی اور زیادہ اونچی نہیں تھی۔ کچی عمر میں بس تمہیں ایک نظر دیکھنے کے لئے پنجوں پر کھڑی ہو جاتی تھی اور تم ایک نظر شرارت سے میری جانب دیکھ کر جھوٹ موٹ کتاب سامنے رکھ کر مگن ہو جاتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ عمر یونہی پنجوں کے بل پر ہی گزرے گی یہ سب تمہیں بھی تو یاد آتا ہوگا۔

جب بلِو کی پیدائش پر میں درد سے تڑپ رہی تھی تو تم ساتھ کھڑے رو رہے تھے۔ کتنی منتیں کر کے ڈاکٹر کی میرے پاس ہی کھڑے رہے تھے۔ جان! میں کتنی بے وقوف تھی کہ تم نے مجھے انمول نشانی عطا کی تھی پیار کی اور میں تمہیں کوس رہی تھی۔ تمہاری نشانی میرے پاس ہے تمہاری طرح بے مثل ہے۔

وہ نیلا جوڑا جو تم کراچی سے میرے لئے لائے تھے و ہ ڈیزائن پھر فیشن میں ہے ہماری مومو نے ویسا کالا جوڑا بنوایا ہے مردانہ کالر اور جیبوں والا، خوب جچتا ہے ہماری لاڈو پر۔
فامی بالکل تم پر گئی ہے کبھی آگ تو کبھی پانی، جب تم آنا تو اسے ساتھ لے کر آنا۔ تمہیں اُس کی ضرورت پڑے گی اس وقت۔

مجھے یاد ہے بارات لے کر تم وقت سے 5 منٹ پہلے ہی آگئے تھے ہم دونوں کے چہرے دمک رہے تھے اس روز۔ کیا حسین جوڑی تھی اور اُس پر محبت کا غازہ کیا کہنے۔ صدیوں میں کوئی ایسا جوڑا جوڑتا ہے اوپر والا۔ حسن اور عشق کی عجیب داستان ہیں ہم دونوں۔ اور تم سے بہتر یہ کون جان سکتا ہے۔

تم جو گیت میرے لئے گاتے تھی۔ ” زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں ‘‘۔ کہیں بج بھی رہا ہو تو بالکل خاموش ہوتا ہے اداس سا، پشیمان سا۔ تمہیں میٹھا بہت پسند ہے مگر جب سے تم گئے ہو مجھ سے کچھ پکایا نہیں جاتا، بالکل بیکار ہوگئی ہوں تمہارے جانے کے بعد۔ اب پتہ چلتا ہے کہ جو زندگی میں نے تمہارے ساتھ جی وہ تو ہم دونوں کی پریت تھی وہ سانسوں کی آون جاون نہ تھی۔ اچھا ایک کام کرنا جب آنا تو ہمارے پیار کی آخری نشانی ہماری سب سے چھوٹی بیٹی کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھنا۔ تم دونوں میرے لئے بہت حساس ہو۔ سو ایک دوسرے کو سنبھال لوگے۔

ہاں یہ تو بتانا ذرا کہ تم مجھ سے مل کر کیوں نہیں گئے۔ اور ایسے گئے کہ کبھی مڑ کر دیکھا ہی نہیں۔ جانتے بھی ہو کہ اُس دن میں نے خود کو کیسے سنبھالا تھا۔ اس دن میں تمہارے دیے کارڈز کھول کر پڑھ رہی تھی۔ جب پتا چلا کہ تم چلے گئے ہو۔ میرے اند ر بار ایک الاؤ تھا جو بھڑک اٹھا تھا۔ زوروں کی بارش ہو رہی تھی باہر۔ میں نے تووہ تمام محبت نامے جلنے سے بچانے کے لئے سمیٹے اور بارش کے پانی میں ناؤ کی طرح بہا دیے۔ میرے سامنے تمہارے الفاظ پانی دھو رہا تھا اور میں؟ کیا کرو گے جان کر؟ بس اتنا یاد رکھنا کہ اس دن بارش کا پانی نمکین تھا۔

عزیز من! وہ سڑک اب بھی وہیں پڑی ہے تمہارے واپسی کے انتظار میں جس پر چل پر تم ایک دوراہے پر پہنچے تھے اور جدائی والی راہ پکڑ لی تھی۔ تم سے جدا ہو کر جینا میرے لیے ناممکن تھا۔ زندگی کو بنا تمہارے محسوس ہی کبھی نہیں کیا تھا۔ میرا تو دین بھی تم، دنیا بھی تم، بولو بھلا میں کیسے جیتی۔ کہتے ہیں عشق کی انتہا نہیں ہوتی، غلط کہتے ہیں۔

ہاں میں بتا رہی تھی کہ میں جی نہیں پا رہی تھی سو میں نے خودکشی کر لی۔ تم سے نفرت کا پھندا احساس کے گلے میں ڈالا اور جھول گئی اور یوں محبت کی آخری سیڑھی پر قدم دھر دیا۔
مگر مجھے آج بھی تم پر یقین ہے کہ تم اپنے سارے وعدے پورے کرنے آؤ گے۔ میرا مردہ وجود تمہارے انتظار میں ہے۔ دفن سے پہلے ایک بار میرا عروسی دوپٹہ اوڑھانا۔ تمہارے پسندیدہ شیڈ کی لپ اسٹک، سنگھار میزپر دھری ہے۔ میرے ہونٹوں پر سجانا اور میرے ٹھنڈے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کا لمس دینا۔

میں نے تمہاری محبت کو بڑی اذیت ناک موت دی ہے۔ اس کے لئے تم مجھے معاف کبھی نہ کرنا۔ مجھے کوئی حق نہیں تھا تمہاری محبوبہ کویوں مار ڈالنے کا۔ مگر اس کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا
فقط :
آج بھی تمہاری منتظر

میں نے خط بھیجنے کے لئے اس سے پتہ پوچھا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی اور جب کوئی اپنی مرضی سے آتا ہے تو وہ اپنی محبت کو خود ڈھونڈ لیتا ہے۔ وہ خود آپ کے پاس آئے گا۔ میرا پتہ پوچھنے وہ چلی گئی۔ کمرے میں، میں تھی اور چند کاغذوں پر رقم اُس عورت کا اعتبار تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں