قصہ لندن جانے اور فیض میلے میں ہنگامے کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس اثنا میں حسن معراج کا پیغام ملا۔ بتایا کہ میں کہاں ہوں اور یہ کہ میلے پر پہنچوں گا۔ اگر قریب ہو تو پب پہنچ جاؤ۔ ورنہ وہیں ملیں گے۔ گرمی کچھ زیادہ ہی لگ رہی تھی۔ ندیم نے بتایا کہ کہا ساڑھے تین ہے فکشن کہیں پانچ بجے شروع ہوگا۔ میں پھر بھی اڑھائی پونے تین بجے اسے پب سے نکال لایا کیونکہ گرمی بہت لگ رہی تھی۔ پب کے باہر لکھا تھا کافی کا کپ سارا دن سرے دنوں جتنی بار بھرنا چاہیں بھرتے چلے جائیے۔

ندیم ست راستے بارے ہدایات لے کے لندن اوور گراونڈ پر سوار ہو کر تیسرے سٹیشن اترا وہاں سے انڈر گراونڈ میں داخل ہو کر وکٹوریہ لائن ساوتھ باونڈ لی اور ہوسٹن سٹیشن پر اترا۔ ایس او اے ایس یعنی ساوتھ ایشیا اینڈ اوریئنٹل سٹڈی بارے دو چار سے پوچھا۔ انہیں معلوم ہی نہیں تھا۔ ندیم کو فون کیا۔ اس نے سمجھایا۔ کئی طالب علم نما لڑکے لڑکیوں سے پوچھا کہ لنڈن یونیورسٹی کے ہو، اگرچہ دیسیوں یا افریقیوں سے پوچھا مگر پتہ نہ پایا۔ پھر موٹی سے کتاب تھامے ایک انگریز نوجوان ملا۔ اس سے پوچھا تو اس نے پہلے بتایا پھر کہا میں چیک کر لوں۔ گوگل دیکھ کے کہا دائیں، پھر سیدھا پھر بائیں۔ یونیورسٹی کی عمارت دکھائی دی۔

کار سے ایک عرب نما آدمی نکلا۔ اس سے پوچھا پہلے انگریزی اور پھر اردو میں بولا سیدھا اور بائیں۔ میں بھی وہی جاوں گا۔ میں نے کہا اکٹھے چلتے ہیں مگر اس نے کہا وہ کسی کا انتظار کر رہا ہے۔ بائیں مڑنے سے کچھ پہلے ایک دروازے پر SOAS لکھا دیکھ کے دروازے کو دھکا دیا۔ کھل کیا۔ پہلا دفتر خالی۔ دوسرے دفتر میں ایک عرب مرد نماز پڑھ رہے تھے۔ سلام پھیرا تو میں نے معذرت کی اور پوچھا۔ انہوں نے کہا بلڈنگ کے آخر میں سڑک عبور کرکے کچھ دور کے بعد بائیں مڑ جائیں۔ مقام مل جائے گا۔

مڑا تو یاد آ گیا کہ دو برس پہلے عزم صاحب مرحوم نے میرے اور ایرا میکسی مینکا کے لیے یہاں ایک شام رکھی تھی۔ بیرونی گیلری بھی عمارت کے ماتھے پر لکھا ہوا تھا۔ لوگ کھڑے تھے۔ پہلے عاصم علی شاہ نے ” آئیے ڈاکٹر صاحب، رائٹ فرام ماسکو“ کہہ کر گلے لگایا۔ اندر گیا تو نوید افضال اور ڈاکڑ عامر مختار ماہر امراض ذہنی سے ملاقات ہوئی۔ میرے گلے میں ” گیسٹ“ کا کارڈ آویزاں کر دیا گیا۔ کچھ دور کھڑے سینیٹر رضا ربانی کو اپنا نام اور ماسکو مقیم ہونے کا بتا کر مصافحہ کیا اور پھر مدارالمہام اکرم قائم خانی سے پوچھا کہ کہاں جا کے بیٹھوں۔ بولے جن نشستوں پر ریزرو لکھا ہو، نام کے بغیر کسی بھی سیٹ پر بیٹھ جائیے جا کر۔

میں نے تیسری قطار میں درمیان کی نشست چنی۔ رک سیک اور جیکٹ کا بوجھ پٹخا اور باقی لوگوں سے ملنے ہال سے باہر چلا گیا۔ خالد حمید فاروقی برسلز سے، منصور عالم ہالینڈ سے، خاقان مرزا اور دوسرے۔ لوٹا تو میری نشست پر خواتین قابض تھیں اور میرا سامان دوسری قطار کی نشست پر نام والا ریزرو کا کاغذ اتار کر وہاں رکھ دیا تھا۔ بیٹھنا پڑا۔ کچھ دیر میں میرے دائیں جانب کی دوسری نشست کے آگے پہلی قطار کی نشست پر آ کر ملالہ کے والد بیٹھے تو میں نے ان کی کمر چھو کر ان سے مصافحہ کیا۔ وہ بھی بہت اخلاق سے راغب ہوئے۔ تھوڑی دیر میں میرے ساتھ بیٹھے سوٹ میں ملبوس عینک لگائے ہوئے شخص نے میری جانب ہاتھ بڑھا کر کہا ” ارشد“۔ چہرا شناسا لگا مگر میں پہچانا نہیں۔ میں نے ان کے ساتھ سیلفی بنا کر ارشد کے بعد والا حصہ پوچھا تو وہ ارشد بٹ تھے۔ این ایس ایف کے سابق رہنما، ہم سب میں لکھنے والے اور ناروے میں مقیم۔ پھر میں تپاک سے ملا کہ شکر ہے کوئی ہم زباں میسر آیا۔

تقریب کا آغاز، عاصم علی شاہ نے ہمارے دوست اور بی بی سی کے پروڈیوسر، لاہور پریس کلب کے سابق صدر بھائی ثقلین امام کی دختر فضہ امام کو بلا کر کیا جس نے گیٹار بجا کر ” بول کے لب آزاد ہیں تیرے“ تبدیل کردہ لہجے میں سنایا۔ برطانیہ میں پرورش کا کچھ لفظوں پر اثر تھا جیسے ستواں کو ستھواں اور زباں کو زبان، ویسے گلوکار بھی شوقیہ اور خام تھی بچی مگر مجموعی طور پر ہمت کی اور داد پائی۔

اگلا سیشن تین کتابوں کے تعارف کا تھا۔ ایک ہمارے بزرگ مہربان دوست ایوب اولیاء کی کتاب ” سنگیت کار“ جو گلوکاروں سے متعلق تھی۔ ایک این ایس ایف کے سابق فعال کارکن اور پلاسٹک سرجن ڈاکٹر عمر دراز کی معمر اور مریض والدہ ملکہ بیگم کی محاوروں سے متعلق کتاب اور ایک برخوردار ڈاکٹر حسن جاوید کی بائیں بازو کے سابق رہنماؤں اور کارکنوں سے گفتگو پر مبنی کتاب، جن کی اکثریت عہد ماضی میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم این ایس ایف سے وابستہ رہی تھی۔

ان تینوں کتابوں کا فیض احمد فیض سے براہ راست تعلق نہیں بنتا۔ بنانا چاہیں تو یہ کہ اقبال بانو، نورجہاں اور فریدہ خانم نے فیض کا کلام گایا ہے۔ محاورے شاعری میں بھی برتے جاتے ہیں اگرچہ شاذ و نادر سہی۔ بائیں بازو کے کارکن فیض کو عزیز تھے اور فیض کارکنوں کو۔ لاہور کراچی میں ہونے والے ایسے ادبی فیسٹیول میں کتابوں کے سیشن بالکل علیحدہ ہوتے ہیں کہ کوئی چاہے تو شرکت کرے۔ مگر خیر یہاں منتظمین بوجوہ ایسا نہ کرا پائے۔ اس لیے یہ سیشن کوئی اتنا اچھا نہ رہ پایا اگرچہ ارشد بٹ نے گرمجوشانہ مضمون پڑھ کے اکتاہٹ کم کرنے کی سعی کی۔

اگلا سیشن وسعت اللہ خان کا حسب دستور طنزیہ مضمون تھا۔ خانصاحب ویسے بھی مقبول ہیں۔ لکھتے دل پذیر ہیں اور سوالوں کے جواب بھی برجستہ دیتے ہیں۔ ان کا مضمون صحافت اور ان کہی قدغنوں سے متعلق تھا۔ سوال کرنے والے بہت تھے۔ مجھے بھی سوجھی کہ سوال کر لوں۔ ہاتھ کھڑا کر دیا مگر ہمارے پیارے عاصم علی شاہ کی نگاہ نہیں پڑ رہی تھی۔ ایک بار وسعت صاحب نے خود اشارہ کرکے مجھے اٹھنے کو کہا۔ میرے کھڑے ہوتے ہوتے عاصم شاہ نے پھر کسی اور کو موقع دے دیا۔ اللہ اللہ کرکے وسعت صاحب کی نظر کرم سے مجھے موقع ملا مگر اس سے پہلے اداکار توقیر ناصر آکر ان دونوں کے بیچ براجمان ہو چکے تھے۔

میرا سوال اتفاق سے صحافی اور سٹار سے متعلق تھا۔ سوال یوں کیا، “ میں ڈاکٹر مجاہد مرزا ہوں، چھبیس برس سے ماسکو میں مقیم۔ وسعت صاحب اور میں ہم پیشہ ہیں۔ میں ان سے سوال بہت پہلے کرنا چاہتا تھا مگر اب توقیر بھی آ بیٹھے ہیں جنہیں معلوم نہیں کہ یہ میرے چھوٹے بھائی ہیں، میرے مظفرگڑھ سے ہیں اور ان کے بڑے بھائی بوبی میرے دوست ہیں، خیر سوال دونوں سے متعلق ہے وہ یہ کہ وسعت صاحب یہ بتائیے کہ جو صحافی ٹی وی سٹار بن جاتے ہیں ان کے مائنڈ سیٹ پر کیا اثر پڑتا ہے؟ “ وسعت صاحب نے نکہا کہ سمجھ نہیں آتا میں اس سوال کا کیا جواب دوں۔ مجھے سوال کرکے اس کے ضائع ہونے کا افسوس ہوا۔

باری تھی کسی نہ کسی حوالے سے سیاست سے وابستہ ان لوگوں کی اہم تقاریر کی جن کو فیض کی شاعری سے بھی کسی نہ کسی حد تک ربط ہے۔ اس کے لیے نظامت کی ذمہ داری ہمارے دوست، نرم گفتار خالد حمید فاروقی نے سنبھالی جنہوں نے سب سے پہلے ہزارہ ایکٹیوسٹ جلیلہ حیدر کو سٹیج پر نشست سنبھالنے کی دعوت دی۔ پھر انہوں نے ضیاءالدین یوسف زئی کو مدعو کرتے ہوئے بتایا کہ ملالہ کے والد اور اتالیق ہونے کے علاوہ ان کا اپنا پس منظر بھی فعال سیاسی کارکن اور زور زبردستی کے خلاف جرات مندی سے آواز اٹھانے والے کا رہا ہے۔ اتفاق سے اس وقت موصوف ہال سے باہر تھے چنانچہ انہوں نے رضا ربانی سے متعلق کچھ کہنا ہی شروع کیا تھا کہ مدارالمہام نے روسٹرم ان سے لے کر متعلقہ شخصیت کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق اور ان کی جہد سے متعلق بتانا شروع کیا یعنی بیک وقت دو نظامت کار ہو گئے۔ میں بے لاگ مبصر ہوں، مجھے اس تقریب میں ویسے بھی خاص طور پر مدعو نہیں کیا گیا تھا دوسرے مجھے اس نوع کی محفل میں اہم مقرر بننے کا کوئی شوق بھی نہیں کہ بلاوجہ وضعداری کا چلن اپنا کر نامناسب کو نامناسب نہ کہوں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4