احتساب اور کرپشن کے سومنات؟
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کو پچاس روز سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے حالیہ دنوں میں اپنے دورہ لاہور کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا، کہ قوم کی لوٹی گئی دولت واپس لاکر ملکی قرض اتاریں گے، اور پورے ملک کو کرپشن سے پاک کریں گے۔ جس کا عملی ثبوت یہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی کرپشن کے خاتمے کے انتخابی پروگرام کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس پر آغاز کر دیا۔
پنجاب میں کلین اینڈ گرین پنجاب کے نام سے نا جائز قبضوں اور تجاوزات کے خلاف وزیر اعلی عثمان بزدار کی نگرانی میں بلا امتیاز آپریشن جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے سو روزہ پلان پر نظر دوڑائی جائے تو نئی حکومت کے سو روزہ پلان کے وعدوں پر عمل درآمد کیلئے وقت کم اور مقابلہ سخت نظر آتا ہے۔ خیر یہ تو آنے والے دن جو دور نہیں حکومتی کارکردگی کا پیمانہ طے کیے کھڑے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو عوام نے ملک کو ٖفلاحی ریاست بنانے اور غریب عوام کا معیار زندگی بلند کرنے سے جڑے منشور کے ساتھ ووٹ کے دوام سے پانچ سال کیلئے منتخب کیا ہے۔ قومی تعمیر و ترقی کیلئے ملک میں قدرتی وسائل ‘ادارے‘ انتظامی ڈھانچا اور پارلیمان موجود ہے۔
وزیر اعظم عمران خان اگر ملک میں موجود قدرتی وسائل سے استفادہ حاصل کرنے‘ انتظامی ڈھانچے کو متحرک کرنے‘ اداروں کو خودمختاری کی گرہ سے باندھ کر فعال کرنے اور پارلیمان مین ملک و ملت کے مفادات کے حق میں قانون سازی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو جہاں حکومتی وعدوں کی تکمیل کے ساتھ تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ مضبوط ہو گی‘ وہیں ملک ترقی و خوش حالی کی پٹڑی پر گام زن ہو جائے گا۔
ملک کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت پاکستان معاشی عدم استحکام کی نازک صورت احوال سے گزر رہا ہے وزیر اعظم عمران خان نے جو غریب آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے اس کیلئے سرمائے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر عوام کے مفادات کا تحفظ ممکن نہیں حکومت نے جو ٹیکسز کا دائرہ کار بڑھایا ہے اس سے تو اندازہ ہے کہ حکومتی امور چلانے کیلئے یہ ناگزیر فیصلہ تھا لیکن ملک کی جو موجودہ معاشی صورت احوال ہے اس کے اثرات سے براہ راست عام آدمی متاثر ہو رہا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر سوال اٹھتا ہے کہ ملکی معشیت کو کندھا دینے کیلئے کیا اقدامات کیے جائیں۔
جب سے عمران خان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے احتساب کرنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ببانگ دہل بیانات دیے جارہے ہیں لیکن اس کے بر عکس احتساب کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ جس کے باعث احتساب کے ضمن میں دیے جانے والے بیانات ویژن اور وزن سے عاری نظر آرہے ہیں۔ حکومت کے سامنے ملکی دولت لوٹنے والے دیو ہیکل مگر مچھوں کی پاناما اسکینڈل کی شکل میں طویل فہرست موجود ہے۔ حکومت اگر انہی قومی مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر ملک کی لوٹی گئی دولت واپس لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ملکی معشیت پٹڑی پر آجائے گی؛ جس سے ملک کو درپیش مسائل اور بحرانوں سے خلاصی ممکن ہے۔ کرپشن کے سومناتی بتوں نے جس انداز میں اس ملک کے وسائل اور خزانہ کو لوٹ کر سرحد پار ممالک کی معشیت کو مضبوط اور ملکی معشیت کو عدم استحکام سے دوچار کیا یہ کسی رعائت کے مستحق نہیں ہیں۔
بحثیت پاکستانی میری سوچ بھی ان کروڑوں پاکستانیوں کے سوچ‘ نظریہ اور ویژن کو مکمل کرتی ہے جو اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا دیکھنے کے متمنی ہیں۔ پچھلی حکومتوں کے حکمرانوں نے اس ملک کو معاشی طور پر اس حد تک ابتری سے دوچار کر دیا کہ پوری دنیا تماشائی کی نظر سے پاکستان کو دیکھ رہی ہے۔ان حالات میں قرض کیلئے نو منتخب حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ آئی ایم ایف پاکستان کو کس حد تک اور کن شرائط پر قرض دے گا، اس سوال سے قطع نظر حکومت کو چاہیے کہ احتساب کے عمل کو مزید تیز کر کے کرپٹ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے عمل کا گھیرا تنگ کر کے ان سے ایک ایک پائی کا حساب لے۔ بلکہ ہڑپ کی گئی ملکی دولت کی واپسی کیلئے سعودی ماڈل کو اپنایا جائے۔
میں جانتا ہوں سعودی عرب اور پاکستان کے قوانین اور طرز حکمرانی ایک دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتے لیکن موجودہ معاشی صورت احوال کے پیش نظر عام آدمی دل گرفتہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر اس کرپٹ مافیاز کے خلاف ماورائے آئین اقدامات کر کے ان سے ملک و ملت کا حساب بے باک کیا جائے تو قطعا جمہوریت اور جمہوری روایات کو خطرہ لا حق نہیں ہو گا، بلکہ ملکی معشیت کی مضبوطی سے جمہوریت مضبوط اور ملک معاشی استحکام کے زینہ پر بھی قدم رکھے گا۔ ملک میں سرمایہ ہو گا تو صنعت کا پہیا چلے گا، نئے صنعتی زون قائم ہوں گے، جس سے ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب احتساب بلا امتیاز اور احتسابی عمل کو پر لگیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ ملک کی لوٹی گئی دولت کی واپسی کواپنی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے اس پر من عن عمل کرے۔ اس سے نہ صرف عمران خان کی حکومت کو سیاسی استحکام ملے گا بلکہ عام آدمی کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جن حالات میں وزارت عظمی کی کرسی سنبھالی اس حکومت کو جو سب سے بڑا مسئلہ در پیش آرہا ہے، وہ اقتصادی نا ہم واری کا جس کا عمران خان اور اس کے حکومتی وزرا برملا اظہار کر چکے ہیں۔ اب جو ملک میں احتساب کا عمل شروع ہوا ہے اس کو رولنگ ایلیٹ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ براہ راست وہ اس کا شکار ہو رہی ہے۔ یہی قوت اس عمل کو سبو تاژ کر کے احتساب کمیشن بنانا چاہتی ہے تا کہ ایک دوسرے کا تحفظ کیا جاسکے۔
حکومت کو چاہیے کہ احتسابی اداروں کی خامیوں کو دور کر کے اسے مضبوط بنایا جائے۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے انفرادی و ادارہ جاتی مؤثر جدوجہد کی ضرورت ہے۔ این آر او کے نام پر کرپٹ افراد کو رعائتیں دے دینا انصاف کے تقاضوں کا خون کر دینے کے مترادف ہے۔ تمام قابل اعتبار اعداد و شمار کی دستک بتاتی ہے، پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کرپشن دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ جب تک حکومت کرپٹ افراد کو کٹہرے میں نہیں لاتی اس وقت تک کرپشن فری پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ آج کے دور کی اسٹیٹ آف دی آرٹ کرپشن کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
جب ہم کرپشن کے تدارک کی دوڑ میں شامل ہو کر عام آدمی کا معیار زندگی بلند کر نے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہمیں ترقی کے زینہ پر قدم رکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔


