بازخانی ضابطۂ حیات میں ہماری دلچسپی

پڑھنے والے بھی بادشاہ لوگ ہیں۔ گزشتہ کالم کے آغاز میں عرض کیا گیا تھا کہ ایک کالم جناب بی کے ماچھی کے افکار و نظریات اور حیات و خدمات کا احاطہ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، نیز ان کے اوصافِ حمیدہ کے تفصیلی تعارف کے لیے یہ فورم بھی مناسب نہیں کہ اخبار کے یہ صفحات جید دانشوروں کے رشحات قلم کے لئے مختص ہے۔

پھر بھی مہربانوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا ہے کہ ان کی زندگی کا یہ اجمالی جائزہ کچھ زیادہ ہی اجمالی ہے۔ مراد یہ ہے کہ تشنگی برقرار ہے۔ ہم حکم کی تعمیل میں جناب باز خان ماچھی کی زندگی کے چند مزید گوشے فی سبیل اللہ بے نقاب کرتے ہیں۔

جناب بی کے ماچھی جب سورج ڈھلنے سے قبل مختصر وقت کے لیے چودھری کی حیثیت سے منظر عام پر آتے تو اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھتے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رات کو انہوں نے بیٹھک میں لوگوں کو جانکاری نہ دی ہو کہ آج ان کا زری کھسہ، بوسکی، ریڈیو اور گھڑی دیکھ کر کون کون اندر سے جل بھن گیا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جل بھن کر رہ جانے والے کم بختوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہوتے، جن سے ادھار سدھار اور مانگ تانگ کر انہوں نے عارضی بنیادوں پر اپنی چودھراہٹ کا ساماں کیا ہوتا تھا۔

دوسری طرف باز خان کو مار اپنے مالکوں کے گھر سے پڑ رہی تھی، جہاں ان کے مستند رقیب ہمارے دادا جان انہیں بے عزت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ مابین فریقین وجہ عناد ہم عرض کر چکے ہیں۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے ہم عمر ہونے کے ہر دو دعویداروں کے درمیان برسہا برس تک سرد جنگ جاری رہی۔ یہ جنگ دادا جان کو غصہ آتے ہی گرم جنگ میں تبدیل ہو جاتی اور وہ گالی گلوچ پر اتر آتے۔

گرم جنگ کا تو انہیں ویسے بھی خاصا تجربہ تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران وہ ایران، عراق، مصر اور فرانس کے محاذوں پر سپاہی کی حیثیت سے داد شجاعت دے چکے تھے۔ تب انگریز سرکار نے دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کی غرض سے ان کی بہادری سے خوب فائدہ اٹھایا تھا، جو اپنی مشہور زمانہ بندہ شناسی کی صلاحیت کی بنا پر انہیں زبردستی اپنی فوج میں بھرتی کرکے لے گئے تھے۔

اب وہ یہی تجربہ باز خان کے ساتھ اپنی رقابت کی جنگ میں آزماتے تھے اور گالم گلوچ کے آتشیں ہتھیاروں سے ہر روز اس جنگ میں کامیابی حاصل کرتے تھے۔ ویسے بھی ہم لوگوں کا وتیرہ ہے کہ جب پلے میں دلائل نہ رہیں تو گالم گلوچ ہی ہمارا موثر ہتھیار ہوتا ہے، بلکہ ہماری تو دلیل کے ہاتھ میں بھی جوتا ہوتا ہے۔

یہ جنگ ہمیشہ یک طرفہ ثابت ہوتی، جس میں دادا حضور ہی فاتح ٹھہرتے۔ بحثیت گھریلو ملازم بی کے ماچھی کبھی دادا کے سخت الفاظ کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہ آ سکے اور ہمیشہ چپ چاپ اپنے ارمانوں پر آنسو بہا کر حویلی مویشیاں کی طرف نکل جاتے، جہاں وہ گائیوں اور بھینسوں کو دادا کے لہجے میں باور کراتے کہ میڈم نور جہاں ان کی ہانڑی، یعنی ایج فیلو ہے۔

ملکہ ترنم سے متعلق اس نازک اختلاف پر گائوں میں دو مکاتب فکر پائے جاتے تھے۔ ہر باضمیرانسان باز خان کے موقف کا حامی تھا۔ اس کی بڑی وجہ بی کے ماچھی کی مضبوط دلیل تھی کہ میڈم نور جہاں جوان بندہ ہے اور وہ خود بھی جوان ہیں۔

دوسرا اکثریتی مکتبۂ فکر دادا جان کے موقف کا پُرجوش حامی تھا۔ یہ دستکار برادری کے وہ لوگ تھے، جنہیں دادا ان کی خدمات کے عوض سالانہ گندم کی بوریاں دیتے تھے۔ تب یہ محاورہ عملاً اپنے جوبن پر تھا کہ جس کے گھر دانے، اس کے کملے بھی سیانے۔

ہمیں یقین ہے کہ اگر دادا حضور خود کو ملکہ ترنم سے عمر میں چھوٹا بھی گردانتے تو یہ مکتبہ فکر اس دعوے پر بھی بلا چون و چرا اپنی مہر تصدیق ثبت کر دیتا۔ خود ہم خاندان کے بچے بھی باز خان کو حق پر سمجھتے تھے مگر اقتصادی مجبوریاں ہمارے پائوں کی بیڑیاں تھیں کہ صبح سکول جاتے وقت دادا ہی ہمیں چونی، اٹھنی عنایت فرماتے تھے۔

ہم تو بی کے ماچھی کو نور جہاں کا ”ہم عصر‘‘ بھی سمجھتے تھے کہ وہ اکثر ہمیں اپنی سریلی آواز سے محظوظ کرتے تھے۔ آپ کبھی کبھار شاعری پر بھی منہ مار لیتے تھے۔ ان کے عارفانہ کلام کا ایک لافانی شعر تو ہمیں آج بھی یاد ہے، جس میں آپ نے اپنی چوری چکاری جیسی عادات کو بڑی جرأت کے ساتھ آشکار کیا۔ اس کلام کی دھن بھی انہوں نے خود ہی ترتیب دی تھی، جسے ان کی دلگداز آواز نے امر کر دیا۔ اکثر گنگناتے تھے:

آوے ماہی رَل کے باغے وچوں کھٹے کھوہاں
کھو کے مُڑونجاں، متاں دوئے وَل نپے ونجاں

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ جناب بی کے ماچھی شوقین و رنگین مزاج واقع ہوئے تھے۔ تاحیات ان کی سوچ اسی مزاج کے حصار میں رہی، جس سے نت نئے آئیڈیاز برآمد ہوتے رہتے۔ یہ جو آج ہم رنگ برنگے قمقموں سے منور بچوں کے خوبصورت جوتے دیکھتے ہیں، یہ آئیڈیا بھی بنیادی طور پر باز خان ہی کا تھا۔

ایک دن اپنے مالکوں سے فرمائش کر بیٹھے کہ مجھے ایسا جوتا چاہیے، جس میں بلب لگا ہو۔ چونکہ ایسے مواقع پر بازخان ملازمت چھوڑ جانے کی دھمکی بھی دیتے تھے، سو اس حیران کن مطالبے پر گھر کے مردوں نے دادا سے چھپ چھپا کر ہمدردانہ غور کیا۔ گائوں کے سادہ لوح موچیوں کے آگے یہ منصوبہ رکھا گیا تو لکیر کے ان فقیر حضرات نے معذرت کر لی.

تاہم ہمارے بڑوں کے پرزور اصرار پر ایک نوجوان موچی نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ اس نے کافی غور و خوض کے بعد بازخان کو بتایا کہ اس کے جوتے کے سامنے کے حصے میں ٹارچ کا بلب نصب ہو گا، جو ایڑی میں چھوٹا بیٹری سیل ڈالتے ہی روشن ہو جائے گا اور اسے نکالنے پر بجھ جائے گا۔

جناب بی کے ماچھی نے یہ آئیڈیا سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا: جوتا ایسا ہو کہ میں پائوں زمین پر رکھوں تو بلب روشن اور پائوں اٹھائوں تو گُل ہو جائے۔ اگرچہ ان کی یہ خواہش نااہل کاریگر پوری نہ کر سکے مگر یاد رہے کہ باز خان نے ستر کی دہائی میں یہ آئیڈیا اس وقت پیش کیا، جب چاند پر قدم رکھنے والے گورے کے وہم وگمان میں بھی ایسا جوتا نہیں تھا۔

جناب بی کے ماچھی جب تک حیات رہے، اپنے وضع کردہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کی کسی جاننے والے سے ملاقات ہوئی ہو اور انہوں نے اس کے آگے دست سوال دراز نہ کیا ہو۔ ان کی عمر دشتِ غربت کی سیاحی میں بسر ہوئی‘ مگر خیال کی وادیوں میں وہ گائوں کے چودھری رہے۔

گزشتہ کالم پر فیڈ بیک اور حالات و واقعات کے گہرے مشاہدے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بازخانی ضابطہ حیات میں مہربانوں کی دلچسپی حکمت سے خالی نہیں کہ یہ طرز زندگی ہی ہمارا حقیقی قومی ورثہ ہے۔ ہم بنیادی طور پر ”چودھری‘‘ باز خان کی سنت پر عمل پیرا نمودونمائش کے شوقین لوگ ہیں اور ان کی طرز حیات ہمارے قول و فعل کا عملی نمونہ ہے۔

ہوائی قلعوں کے معمارِ خاص باز خان اور ہماری فکری اساس میں کوئی خاص فرق نہیں۔ کل کی فکر کے آزار سے وہ بھی آزاد تھے اور ہم بھی۔ گائوں کا چودھری بننے کی تڑپ بی کے ماچھی کے دل میں بھی تھی اور ہم نے بھی دنیا کی قیادت کا شوق پال رکھا ہے۔

آپ بھی مانگے تانگے کی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تاحیات ایڈہاک بیس پر چودھری رہے اور ہم لوگ بھی اور اندرونی و بیرونی قرضوں کے زور پر عارضی بنیادو ں پر سردار رہے ہیں۔

نازک بات چل ہی نکلی ہے تو کیوں نہ ہم موقع سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے صاف الفاظ میں گستاخی کر دیں کہ بلا تخصیص مردوزن، ہم میں سے ہر کوئی اپنی ذات میں ایک مکمل بازخان ہے۔ اسی لیے تو آج دنیا ہمیں گلوبل ولیج کا بازخان سمجھتی ہے۔

ہم خواب و خیال کی وادیوں میں دیکھتے ہیں کہ ساری دنیا ہم سے جلتی ہے اور ہم سے خوفزدہ ہو کر ہمارے خلاف سازشوں کے تانے بانے بنتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تماشائی دنیا ہماری ”بازخانیوں‘‘ کا تماشا کرکے انٹرٹین ہو رہی ہے‘ اور ہم اسے اپنی چودھراہٹ خیال کیے بیٹھے ہیں۔

ایک مہرباں بریگیڈیئر(ر) اختر نواز جنجوعہ نے گزشتہ کالم پر تبصرہ کیا ہے کہ یہ دنیا ”بازوں‘‘ کی نہیں شکروں کی ہے۔ ہمارے خیال میں اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

بشکریہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words