کوکوکورینا، کوک اسٹوڈیو اور چائے کے کپ میں طوفان.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی تھوڑے دن پہلے کی بات ہے گھر میں بچوں کے ساتھ کوک اسٹوڈیو کی تازہ پیشکش داستان مومل راڻو پہ بات ہورہی تھی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے اس سر کو مخصوص انداز میں گایا جاتا ہے، میری پیڑھی کے لوگ اس کو استاد منظور علی خان، عابدہ پروین اور حمیرہ چنا کی آوازوں میں سنتے آئے ہیں ان کے کانوں میں وہ ہی طرز اور انداز گونج رہی تھی۔ جب سیف سمیجو کا گایا داستان مومل راڻو سنا تو متاثر نہ کر پایا۔ میں اپنے بیٹوں کے سامنے اس پہ تنقید کی، جس پہ میرے ایک بیٹے نے کہا کہ آپ کو کیا پتا بابا کہ یہ آج کی نوجوان نسل کو کتنا اچھا لگا ہے اور وہ کتنا پسند کررہے ہیں آپ ابھی تک پرانی دنیا میں رہ رہے ہیں۔

ایسی ہی صورتحال کچھ سال پہلے پیش آئی تھی جب عاطف اسلم کے گائے تاجدار حرم کی دھوم تھی۔ میں اس وقت کسی کام کے سلسلے میں بہاولپور کسی کام کے سلسلے میں گیا ہاتھا دوستوں کے ساتھ بیٹھے صرف یہ کہا کہ عاطف اسلم کی کوشش بہت اچھی ہے مگر اس کو بہترین انداز میں صابری برادران نے گایا ہے۔ میری یہ کہنے کی دیر تھی کہ میرا ایک دوست آگ بگولہ ہوگیا کہنے لگا آپ کو کیا پتا کہ عاطف اسلم کی اس قوالی کو کتنا پسند کیا جا رہا ہے نہ صرف یہاں بلکہ سرحد کے اس پار بھی اور آپ جن صاحبان کی بات کر رہے ہیں ان کو میری عمر کے لوگ پہچانتے ہی نہیں۔ یقین جانیے میں خاموش ہوگیا۔

کوکوکورینا کو جن لوگوں، جن میں ہماری وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق بھی شامل ہیں، نے اس وقت سنا ہوگا ان کو یقینن کوک اسٹوڈیو کی اس کوشش سے دھچکا پہنچا ہوگا مگر یاد رکھیں وقت رکتا نہیں آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ سارہ جھگڑا جنریشن گیپ کا ہے، نئی نسل کی اپنی پسند اپنی ترجیحات ہیں پرانی نسل اپنی تصوراتی آئیڈیل دنیا میں گم ہے۔ بہتر یہ ہے کہ جن کو پرانے والا گایا ہوا پسند ہے وہ اس کو سنیں اور جن کو نیا والا وہ اس کو سنیں۔ باقی ان باتوں پہ بحث کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر بحث کرنی بھی ہے تو ان باتوں پہ کریں جو ہماری صحیح سمت کے تعین میں مددگار ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •