خدارا گھر واپس آ جائیں


پاکستان تحریک انصاف نے نئی طرح ڈالی ہے۔ سیاست میں سب کچھ جائز ہے تبدیلی کے نام پر جو امیددی تھی۔ اس کی بلندی کوخود عمران خان بھی چھونے سے قاصر ہیں۔ دفاع کرنے والے کہتے پھر رہے ہیں کہ پرانے پاکستان میں بھی لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، معاشی بحران تھا۔ پرانے پاکستان کے میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی حکومتوں میں کون سی دودھ کی نہریں بہہ رہی تھی۔ بات تو سچ ہے۔

دوسری بات یہ کہی جا رہی ہے کہ راتوں رات تبدیلی نہیں آتی ہے۔ یہ بھی درست ہے۔ ( بائیس سال جدوجہد کرنا پڑتی ہے) تیسری بات کچھ اس طرح کی جارہی ہے کہ عمران خان کچھ کریں یا نہ کریں ہمیں ان سے پیار ہے۔ یہ بھی اچھا موقف ہے۔ مجھے اچھا لکھنا تو نہیں آتا ہے۔ میں کوئی دانشور اور کالم نگار بھی نہیں ہوں۔ بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جب قوت اقتدار حاصل کرلی جائے تو پھر تبدیلی راتوں رات ہی آتی ہے۔ بہانے اور جواز نہیں تراشے جاتے ہیں۔

پھر یہ نہیں کہا جاتا کہ پہلے والے کون سی دودھ کی نہریں بہایا کرتے تھے۔ پھر تبدیلی کے لئے باقاعدہ نظام دیا جاتا ہے تاکہ عوام کو لوڈشیڈنگ، غربت، مہنگائی، بے روزگاری سے نجات ملے۔ پھر طرز حکومت میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سے مختلف ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف سے مزید قرضے لینے کی نوبت نہیں آتی ہے۔ ابھی تک پی ٹی آئی حکومت کے جو خدوخال سامنے آئے ہیں۔ اس سے یہی امر واضح ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی واضح پروگرام نہیں ہے۔ کوئی قومی پالیسی مرتب نہیں کی گئی ہے۔ کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں بنائی گئی ہے۔ حکومت احتساب کے پہلو پر زیادہ زور دیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ احتساب کے لئے بھی کوئی جامع پالیسی اور حکمت عملی نہیں ہے۔

بس شور ہے۔ انتخابی طرز کی بیان بازی اور بڑھکیں ہیں۔ عوام فوری احتساب، فوری تبدیلی اور فوری انصاف کے طلب گار ہوتے ہیں۔ خاص کر جس سے زیادہ امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔ اس کے خلاف ردعمل بھی اسی شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ حکمرانوں کے طرز عمل سے یہی لگتا ہے کہ وہ اس امر سے بے خبر ہیں کہ انتخاب کے دور کی باتوں، نعروں اور تقاریر سے یکسر باہر نکل کر ایک ذمہ دار حکمران کی حیثیت اختیار کرنا پڑتی ہے۔ عوام آج پی ٹی آئی کو نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ وزیراعظم، وزیروں، مشیروں اور حکمرانوں کو دیکھ رہے ہیں۔

عام شہری اپنے گھر کے خرچے کم دیکھنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم ہاوس کے خرچوں سے کیا لینا دینا ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے جیل جانے سے کیسی کاچولہا جلے گا اور نہ ہی عام آدمی کو روزگار نصیب ہوگا۔ یہ حکمران طبقہ کی لڑائی ہے۔ غریب تو بس امید لیے ہوئے ہیں کہ عمران خان کی تبدیلی سے ان کے حالات بھی تبدیل ہوں گے۔ امید ٹوٹ رہی ہے۔ بھروسہ ختم ہو رہا ہے۔ ابھی وقت ہے۔ امیدیں پوری کی جا سکتی ہیں۔ بھروسہ قائم رکھا جا سکتا ہے۔

عمران خان کو بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ جو اے پی سی اپوزیشن بلانا چاہتی ہے۔ عمران خان کو بلانے کی ضرورت ہے۔ بڑے لیڈر قوم کو مسائل پر متحد کرتے ہیں۔ جھولی اٹھا کر مانگنے نہیں چل دوڑتے۔ مانگے کی معیشتیں مسائل ختم نہیں کرتی ہیں۔ اس امر کو یاد رکھا جائے کہ عمران خان اور اس کی ٹیم انقلاب کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی کوئی انقلابی جماعت ہے۔ دھونس نہیں چلے گی اور نہ ہی کوئی چلنے دے گا۔

مارے مارے پھرنے اور جھولی پھیلانے سے بہتر ہے کہ ملک وقوم کو مزید بحرانوں سے دوچار کرنے کی بجائے عمران خان عقل و دانش سے کام لیں بذات خود میاں نواز شریف، آصف زرداری، فضل الرحمن سمیت تمام سیاسی قوتوں کے پاس جائیں۔ سب کو ایک میز پر لے کر آئیں۔ مسائل کے حل کے لئے قومی ایجنڈے پر قوم کو متحد کریں۔ عوام کے پاس جائیں۔ عوام کو اعتماد میں لیں۔ ملک سب کا ہے اور عمران خان صاحب آپ سب کے وزیراعظم ہیں۔ جس قوم نے اقتدار دیا ہے۔ وہ مسائل کے حل کے لئے بھی ساتھ دے گی۔

ملکوں اور قوموں کے مفادات اپنے ہوتے ہیں۔ سعودی عرب اگر ادھار دے گا تو اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے دے گا۔ پاکستانی قوم کی فلاح چین، امریکہ یا کیسی اور کو کیونکر عزیز ہو سکتی ہے۔ حالات بدل چکے ہیں۔ آصف زرداری یہ تجربہ کرچکے ہیں جو ایڈ نہیں ٹریڈ کی بات کرتے تھے۔ کیسی نے ایڈ دی نہ ٹریڈکی تھی۔ آج کا پاکستان زیادہ کمزور ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی کیسی نے نیک نیتی اور دیانت داری نہیں جانچنی ہے۔ خداراہ گھر واپس آجائیں۔ اپنے گھر کو ٹھیک کریں۔ یہی مسائل کے حل کا راستہ ہے۔

Facebook Comments HS