متحدہ اپوزیشن کی جانب بڑھتے قدم اور تحریک انصاف کی مجبوریاں


ضمنی انتخابات کے نتائج نے اپوزیشن کے جذبات میں حرارت پیدا کر دی ہے اور متحدہ اپوزیشن کے قیام کی طرف سیاسی جماعتوں کے اکابرین کی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کے قیام کے لئے ہم خیال جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور اس میں زیادہ سے زیادہ جماعتوں کی شرکت کے لئے مولانا فضل الرحمن کو متحرک کر دیا گیا ہے جن کو آصف علی زارداری اور میاں نواز شریف کی حمایت حاصل ہے۔

متحدہ اپوزیشن کے قیام میں ابھی تک بڑی رکاوٹ شریف فیملی کا واضح لائحہ عمل نہ ہونا ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنی برطرفی سے لے کر جیل جانے اور ضمانت پر رہا ہونے تک اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی کوشش کی مگر ان کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کی مسلسل کوشش یہی رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے ڈیل کر لی جائے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس سے پیپلز پارٹی خوفزدہ ہوتی ہے کہ ماضی کی طرح کہیں ایسا نہ ہو کہ پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ سے ٹکروا کر میاں نواز شریف خود اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرکے جدہ یا لندن نکل جائیں۔ اسی لئے آصف علی زارداری نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے والی احتجاجی مہم کی قیادت خود میاں نواز شریف کو آگے بڑھ کر سنبھالنی ہوگی۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں قربتیں بڑھوانے کے لئے مولانا فضل الرحمن خوب سرگرم عمل ہیں۔ ان کے پاس اس وقت قومی اسمبلی کی 16 نشستیں ہیں اور حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی تحریک چلانے کے لئے پیپلز پارٹی کی 55 اور ن لیگ کی 85 نشستوں کے ساتھ ان 16 نشستوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکے گا۔ معتبر ذرائع کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد اس وقت 156 نشستوں کے ساتھ حکومتی اتحاد کی 177 نشستوں کو بھرپور ٹکر دینے کی پوزیشن میں ہے۔

حکومتی اتحاد میں اگرچہ اکیلی تحریک انصاف کی 155 نشستیں ہیں مگر حکومت سازی کے لئے مطلوبہ نشستوں کے حصول کے لئے اسے ق لیگ کی 5، بلوچستان نیشنل پارٹی کی 4، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5، جی ڈی اے کی 3 اور ایم کیو ایم کی 7 نشستوں کے ساتھ مل کر اتحاد قائم رکھنا پڑے گا۔ اس اتحاد میں شامل ایم کیو ایم اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو حکومت کے ساتھ شدید تحفظات ہیں۔ اگر یہ دونوں جماعتیں کسی بھی اختلافی معاملہ پر حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن سے مل جاتی ہیں تو سیاست کا سارا منظر نامہ ہی بدل جائے گا۔ یہی وہ نقطہ ہے جس کی طرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے قائدین ساری توجہ دے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی ایک اور مجبوری یہ بھی ہے کہ ان کی جماعت میں شامل جتنے بھی الیکٹیبلز قومی اسمبلی کے اراکین منتخب ہوئے ہیں ان کی اکثریت وفاقی وزارتوں اور مشاورتوں میں اپنا حصہ مانگ رہے ہیں جبکہ عمران خاں نے بذات خود ان میں سے کئی ایک کے ساتھ وزارتیں دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اگر عمران خاں اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کرتے ہیں اور ان الیکٹیبلز کو وفاقی کابینہ میں شامل کرتے ہیں تو تحریک انصاف کے پرانے کارکنان جو الیکشن جیت کر اسمبلی پہنچے ہیں ان میں مایوسی اور بد دلی پھیلے گی۔

ویسے بھی وفاقی کابینہ کا حجم پہلے ہی اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اس میں مزید اضافہ کی گنجائیش تو نہیں ہے مگر تحریک انصاف کی کور کمیٹی ان ممبران اسمبلی کو مطمئن رکھنے کے لئے انہیں انصاف ٹاسک فورسز میں شامل کر سکتی ہے۔ یہ بذات خود ایک بڑا مسئلہ بنے گا کیونکہ ہر وزارت کا آئینی و قانونی انچارج تو اس کا وفاقی وزراء ہی ہیں جو اپنی وزارت کے امور میں ان ٹاسک فورسز کی مداخلت پر شدید معترض ہوا کریں گے۔

اپوزیشن ابھی حکومت کی ان مجبوریوں اور بے چینیوں کا بغور جائزہ لے رہی ہے مگر وہ وقت کچھ زیادہ دور نہیں دکھائی دے رہا جب یہ منجھے ہوئے سیاستدان نوزائیدہ حکومت سے نالاں تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کی صفوں میں فارورڈ بلاک جیسا کھیل متعارف کروانے کے لئے صف بندیاں کریں گے۔ اور جیسے ہی اس مقصد میں اپوزیشن کامیابی حاصل کرتی ہے تو انہیں حکومتی اتحاد میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کو اپنی طرف راغب کرنے میں زیادہ مشکلات پیش نہیں آئیں گی۔

Facebook Comments HS