ہمارے تعلیمی نصاب کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم ہی سے معاشرے کی ساخت وضع کی جاتی ہے اور اس میں نئے نئے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ یہ انسان کو باشعور بناتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو منطقی سوچ کاحامل ہو۔ جو چیزوں کی جانچ پرکھ کے قواعد سے آگاہ ہو۔ جسے معاصر فکری روایت کا ادراک ہو اور دنیا کے مسائل جانچنے اور ان کا حل جاننے کی اہلیت پیدا ہو جائے۔

نصاب کسی ملک کی تعلیمی پالیسی کا عکاس ہوتا ہے۔ نصاب کی اساس اس بات پر رکھی جاتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کوکس قالب میں ڈھالنا چاہ رہے ہیں اور اس دنیا کے لئے کیسے افراد تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی نوجوان نسل کو کیسا انسان دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے نظامِ تعلیم کی گوناگوں خرابیوں کی جڑ ہی نصاب ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ ایک تو یہ کہ ہمارے ہاں تین متوازی نظام ہائے تعلیم رائج ہیں: سرکاری تعلیمی ادارے، غیر سرکاری تعلیمی ادارے اور دینی مداراس۔ یہ مختلف نوعیت کے نظام معاشرے کو مختلف سوچ کے حامل افراد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی اکثریت منطقی سوچ سے عاری ہے اور اسے عجیب نظریات و افکار کے جنگل میں دھکیل دیا گیا ہے۔ تعصب، نفرت، قوم پرستی، لسانی تفرقات اور نجانے کیسی کیسی خرافات اسی نظامِ تعلیم کا کرشمہ ہیں۔ شدت پسندی جیسے دیوہیکل مسائل کا حل کم از کم موجودہ نظامِ تعلیم اور مروجہ نصاب سے تو ممکن نظر نہیں آتا۔

ہمیں اپنے بچوں کومحبت سکھانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسانیت کی قدر سکھانی ہے۔ دوسروں کو رائے اور ان کی انتخاب پسندی کا احترام سکھانا ہے۔ انہیں زندگی سے پیار کرنا سکھانا ہے اور اس کے ساتھ یہ سکھانا ہے کہ رنگا رنگی میں ہی زندگی کا حسن ہے۔ انہیں یہ بھی سکھانا ہے کہ صرف آپ کا نکتہ نظر ہی درست نہیں ہو سکتا بلکہ کسی اور کا بھی ہو سکتا ہے۔ انہیں سکھانا ہے کہ کسی کی نجی زندگی میں جھانکنا ایک بری روایت ہے۔ لوگوں کو ان کی مرضی کا طرزِ زندگی اپنانے کاحق حاصل ہے۔ ہم نے انہیں شاہ دولے کے چوہے نہیں بنانا بلکہ ایک سائنسی رویے کا حامل فرد بنانا ہے۔ اس کے لئے ہمیں نصاب میں بڑی بنیادی قسم کی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ سائنس کے مضامیں سائنسی انداز میں پڑھانے ہوں گے۔ ادب، فلسفہ، نفسیات، موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ کو نصاب کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔ اسی میں ایک تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ اور نئے پاکستان کا راز مضمر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں