فرسٹریشن کے مارے ہوئے لوگ


جمعیت، جو کہ نہایت پر امن تنظیم ہے، کے صالح طالبِ علموں نے ایک بے راہرو لڑکی کو خوب سبق سکھایا۔ اس بیس بائیس سالہ لڑکی کو کئی بار اس کے ہم عمر نوجوان کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ یہ نوجوان صبح لڑکی کو یونیورسٹی چھوڑنے کے بہانے اس کی پر شباب رفاقت سے فیض یاب ہوتا تھا اور پڑھائی کا وقت ختم ہونے کے بعد اسے واپس لے جانے کے بہانے پھر آ دھمکتا تھا تا کہ پرہیز گار طلبہ کا امتحان لے سکے۔ وہ نا ہنجار لڑکی بھی اس کے ساتھ ہنس ہنس کے بات کرتی تھی، بس یہی بات سب کو بری لگتی تھی نیز وہ لڑکی ایسی اپنائیت اور لگاوٹ سے اس نوجوان کو دیکھتی تھی جیسے صالحین کو جلانا چاہتی ہو۔

چناں چہ صالحین نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سامنے اس پر تھپڑوں کی بارش کر دی ایسے میں وہ لڑکی چیخنے لگی ” انہوں نے کیا کیا ہے، مجھے بتاؤ! ہی از مائی ہزبینڈ! ہی از مائی ہزبینڈ۔ ” صالحین ایک نامحرم لڑکی کو کیسے بتاتے کہ اس نوجوان کا جرم کیا تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسی نوجوان لڑکی سے شادی کر کے اس سے گول گول روٹیاں پکوانے کے بجائے اس نے اپنی بیوی کو یونیورسٹی میں داخل کروا دیا دوئم یہ کہ اگر شادی کی تھی تو نکاح نامہ پیشانی پر آویزاں کیوں نہیں کیا؟ لہٰذا اس کی درگت بنائی گئی تو اس میں غلط کیا ہے۔

حیرت اس بات پر ہوئی کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعے کا نوٹس لیا۔ یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق اس لڑکی کے مبینہ شوہر کو مارنے والے پانچ طلبہ کو سسپینڈ کر دیا گیا ہے۔ ان طلبہ کا تعلق جمعیت سے تھا۔ ان کے ساتھ اس ایک گارڈ کو بھی سسپینڈ کیا گیا ہے جو وہاں موجود تھا لیکن اس نے انہیں مار پیٹ سے نہیں روکا تھا۔ اس واقعے سے چند نیکو کار طلبہ کی نشاندہی ہوئی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے صالحین کی کمی نہیں ہے جو بے حیائی کے سدِ باب کے لئے دل و جان سے کوشاں ہیں۔ بے حیائی کی حدود کا تعین بھی وہ خود ہی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تعین ان کی طرح کے نیک لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ ان کی اپنی اخلاقیات ہیں اور غیر اخلاقی حرکات کون کون سی ہیں یہ فیصلہ کرنا بھی ان کا ہی استحقاق ہے۔

اصل میں انہیں دنیا کو سدھارنے کا ٹھیکہ ملا ہوا ہے اور وہ پوری ایمانداری سے اپنا فرض نبھاتے ہیں۔ بے حیائی کا خاتمہ ان کا مشن ہے۔ بے چارے اپنی زندگیوں پر اتنی توجہ نہیں دیتے جتنی فکر انہیں دوسروں کو راہِ راست پر لانے کی ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک ہر برائی کہ وجہ عورت ہے۔ مرد بے چارہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس عورت کی وجہ سے کرتا ہے۔ دنیا میں جتنے جرائم ہوتے ہیں سب عورت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ عورت کی خاطر قتل ہوتے ہیں، عورت کی وجہ سے بے حیائی پھیلتی ہے۔

عورت کا تو وجود ہی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان عورتوں کی وجہ سے صالحین کے ایمان ڈگمگا جاتے ہیں۔ مثلاً ایک خوبصورت لڑکی اپنے لباس اور میک اپ سے مزید خوبصورت بن کر باہر نکلتی ہے تو بے چارے ایسے مرد جنہوں نے اپنی بے انتہا شرافت اور شرم و حیا کی وجہ سے اپنی بیویوں کو بھی کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا ہوتا ان کا دل مچلنے لگتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ایسی منحوس لڑکیوں پر دوسری نگاہ ڈالنا بھی گناہ سمجھتے ہیں، اس گناہ سے بچنے کے لئے وہ پہلی نگاہ ہی نہیں ہٹاتے اور ان کی بےحیائی پر سبق سکھانے کے لئے ایسی نگاہ ڈالتے ہیں جو ان لڑکیوں کے جسم کے آر پار ہو جائے۔ تا کہ اسے عقل آ جائے اور وہ باہر نکلنے کے بجائے آرام سے گھر بیٹھے۔

بعض راہِ راست سے بھٹکے ہوئے آزاد خیال دانشوروں کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو باہر نکلنے سےمنع کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ لڑکوں کی تربیت کی جائے کہ وہ اپنی نگاہ میں حیا پیدا کریں اور ہو سکے تو اپنے کردار کی اخلاقی تربیت بھی کریں۔ انسانیت نام کی چیز کو خود میں پیدا کریں کیونکہ اگر انسان میں انسانیت نہ ہو تو پھر وہ انسان کہلانے کا بھی حق دار نہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فرسٹریشن کے مارے ہوئے لوگ ہیں جو اپنی حسرتوں، ناتمام آرزؤں اور نا آسودہ خواہشوں کا انتقام ان کمزور لڑکیوں سے لیتے ہیں۔

اب ان آزاد خیالوں کو کوئی کیا سمجھائے کہ ان کے یہ باطل خیالات ان صالحین کے سر کے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔ جب عورت ایک فتنہ ہے تو پھر ان مردوں پر الزام لگانا زیادتی ہے۔ یہ مرد اگر چھوٹی بچیوں کو بھی نہیں چھوڑتے اور قبروں سے بھی مردہ لڑکیوں کی لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی کرتے ہیں تو اس کی ذمہ دار اسی طرح کی لڑکیاں ہیں جو بن سنور کر مردوں کے جذبات بھڑکا دیتی ہیں۔ اور یہ جذبات کو قابو میں رکھنا عورت کا کام ہے، مرد کا نہیں۔ مرد عورتوں والے کام کرتے اچھے نہیں لگتے۔ یہ فرسٹریشن کے مارے ہوئے لوگ نہیں ہیں بلکہ اصلاح معاشرہ کے علمبردار ہیں۔ انہیں کچھ نہ کہیں۔

Facebook Comments HS