گناہگاروں کی بے گناہیاں


اردو اخبارات کے مالکان اور پبلشروں کو تجربہ ہے، کہ کسی کاتب کے پاس مسودہ لے کر جائیے۔ اور کتاب کی بات کیجیے، تو کاتب بے تکلف دو تین روز کا وعدہ کرے گا۔ دو تین روز کے بعد جائیے، تو پھر دو روز کا وعدہ ہو گا۔ اور اس طرح ہی دس بارہ روز کی وعدہ بازی معمولی بات ہے، کیونکہ کاروبار کی دنیا میں وعدہ خلافی کو اخلاقی کمزوری قرار نہیں دیا جاتا۔

میرے پڑوس میں ایک صاحب کے ہاں چند مرغیاں تھیں۔ مرغیوں کی وباء پیدا ہوئی، تو ان مرغیوں نے مرنا شروع کیا۔ جب دو چار مرغیاں مر گئیں، اور ایک مرغی پر کچھ غنودگی کا اثر تھا، تو انہوں نے بھنگی کو مرغی دے کر کہا، کہ بازار جا کر فوراً اس مرغی کو جتنے میں فروخت ہو، بیچ آؤ۔ بھنگی اس نیم مردہ مرغی کو آٹھ آنہ میں فروخت کر آیا اور اس پڑوسی نے یہ خیال نہ کیا، کہ آپ نے آٹھ آنہ حاصل کرنے کے لئے مرغی خریدنے والے انسان کے جسم میں بیماری کے جراثیم داخل کر دیے۔ کیونکہ بیمار مرغی فروخت کرنا قانوناً یا اخلاقاً کوئی گناہ نہیں، اگر مرغی خریدنے والا تین روپیہ کی مرغی ارزاں سمجھ کر اٹھ آنہ خریدتا ہے۔

بہت برس ہوئے گرامو فون کمپنی اپنی دہلی کی براچ کے ذریعے اردو اخبارات کو اپنے ہاں سے جاری کیے گئے نئے گرامو فون ریکارڈ ریویو کے لئے بھیجا کرتی تھی، اور اس سلسلہ میں دفتر ”ریاست“ میں بھی ہر ماہ چار یا پانچ ریکارڈ آیا کرتے تھے۔ گراموفون ریکارڈوں کو بھیجنے کا یہ سلسلہ کئی برس تک جاری رہنے کے بعد فوراً بند کر دیا گیا، تو راقم الحروف نے اپنی اس کمپنی کے ایک کلرک سے ریکارڈوں کے بند ہونے کی وجہ دریافت کی، تو معلوم ہوا، کہ دہلی کے ایک اخبار نے ریویو والے ریکارڈ بازار میں ریکارڈ فروخت کرنے والی ایک دکان کے پاس فروخت کر دیے۔ اس کا علم گرامو فون کمپنی کے مالک لالہ ہیرا لال کو ہو گیا، تو آپ نے حکم دیا، کہ آئندہ ریویو کے لئے ریکارڈ اردو اخبارات کو نہ بھیجے جائیں۔ اس اردو اخبار کے مالک نے سمجھا ہو گا، جس طرح تبادلہ میں آئے ہوئے اخبارات روی خریدنے والے کے پاس فروخت کر دیتے ہیں، ان ریکارڈوں کو بھی ریکارڈ فروخت کرنے والی دکان کے پاس کچھ کم قیمت پر فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

اگر بازار میں کسی کا گرا ہوا نوٹ یا روپیہ وغیرہ کوئی سکہ مل جائے، تو شاید ایک شخص بھی ایسا نہ ملے گا، جو اس کو اٹھا کر اپنے جیب میں رکھ لینا گناہ سمجھتا ہو۔ حالانکہ اس کو اٹھا کر جیب میں ڈال لینا گناہ ہے، کیونکہ اس پر اٹھانے والے کا کوئی حق نہ تھا۔ اس جرم میں ہی سعودی عرب میں ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جاتی ہے۔ اور بغیر مہر لگے ہوئے ٹکٹ لفافوں سے اتار نے کے لالچ میں تو ہر شخص ہی مبتلا ہے، اور یہ نہیں سوچا جاتا، کہ یہ ”بے گناہی“ فی الحقیقت گناہ ہے۔

سرکاری دفاتر کے کلرکوں میں پچھتّر فیصدی ایسے بابو ضرور موجود ہیں، جو اپنے دفتر میں سے کاغذ پنسلیں، قلم، پنیں اور دوسری اسٹیشنری بغیر کسی تکلف کے اپنے بچوں کے لئے لے جاتے ہیں، اور اس چوری کو چوری قرار نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ یہ قانوناً قابل تعزیز چوری ہے، اور اخلاقاً ایک شرمناک گناہ۔

اوپر بیان کیے گئے سینگڑوں میں سے یہ صرف چند گناہ ہیں، جن کو گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ اور اگر کوئی ان ایسے گناہوں پر اعتراض کرے، تو ان گناہوں کو صرف ایک غلطی قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ گناہ قابل سزا جرائم ہیں، نہ کہ غلطی۔ کاش، کہ ہم گناہگار اپنی ان ”بیگناہیوں“ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں، اور جھوٹ، بے ایمانی اور بددیانتی کو سچ، ایمانداری اور دیانتداری قرار نہ دیں، اور مہاتما گاندھی کی زندگی کے صرف ایک واقعہ کو ہی اپنے لئے نصب العین قرار دیں۔ وہ واقعہ یہ ہے۔

مہاتما گاندھی کے سابرمتی آشرم میں ایک شخص بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اور اس کے ہاتھ میں ایک لیموں تھا، اس شخص نے یہ لیموں چھپا لیا، اور بچہ سے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ لیموں دریائے سابرمتی میں پھینک دیا ہے۔

مہاتما گاندھی کو جب بچہ کے ساتھ کیے گئے اس مذاق کا علم ہوا، تو آپ نے اپنی پراتھنا میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا، کہ آپ ایک بچہ کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے جھوٹ بولنا گناہ سمجھتے ہیں، اور چاہتے ہیں، کہ آئندہ کوئی شخص آشرم میں مذاق کرتے ہوئے بھی جھوٹ بولنے کا مرتکب بہ ہو۔
کتاب سیف و قلم سے اقتباس۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon