عاصمہ جہانگیر صبح شام یاد آتی ہیں


پاکستان میں ان دنوں میڈیا سنسرشپ ہے یا نہیں، سنسرشپ ہے یا سیلف سنسرشپ، دباؤ ہے یا احتیاط، دباؤ ہے تو کس جانب سے؟ نہیں ہے تو بعض واقعات کی رپورٹنگ میڈیا میں کیوں نہیں ہورہی؟ میں ان سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کر رہا ہوں۔

یہ بات کہی تو جاتی ہے لیکن سمجھی نہیں جاتی کہ جمہوریت اور آزادی صحافت لازم و ملزوم ہیں۔ اگر بات کہنے نہیں دی جا رہی یا کہی جا رہی ہے لیکن رپورٹ نہیں ہو رہی تو اس کا مطلب ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے یا نہیں ہے۔ اسی لیے مطلق العنان حکمران، بادشاہ اور آمر ہمیشہ پہلا وار میڈیا پر کرتے ہیں۔ کیونکہ صحافی آزاد ہوگا تو سوال کرے گا۔ آپ کی حکمرانی کا جواز مانگے گا۔ جس کے پاس جواز نہ ہو، جواب نہ ہو، وہ سوال کرنے والے کو خاموش رکھنا چاہتا ہے۔

میں نے گزشتہ تین ہفتوں میں درجنوں لوگوں سے بات کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ سو سے زیادہ افراد ہوں گے۔ رپورٹرز، ایڈیٹرز، ڈائریکٹر نیوز، میڈیا مالکان، وزرا، فوجی حکام، اپوزیشن رہنما، وکلا، ادیب، شاعر اور استاد۔ بمشکل پندرہ سترہ افراد آن ریکارڈ انٹرویو دینے کو تیار ہوئے۔ ان میں سے نصف تعداد ان لوگوں کی تھی جو کہتے ہیں کہ ملک میں کوئی سنسرشپ نہیں۔ میں نے پوری ایمان داری سے ان کا موقف، ان کی گفتگو کاٹ چھانٹ کے بغیر شائع کر دی۔

کئی معتبر نام وہ ہیں جنھوں نے انٹرویو دینے کا وعدہ کرنے کے بعد فون نہیں اٹھایا۔ کئی ایسے ہیں کہ واٹس ایپ پر پیغام دیکھ لیتے ہیں لیکن جواب نہیں دیتے۔ بعضوں نے پہلا سوال سننے کے بعد معذرت کرلی۔ بعض لوگوں نے خوب کھل کر گفتگو کی لیکن کہہ دیا کہ اسے شائع نہ کیا جائے۔ چند ایسے بھی ہیں جنھوں نے گفتگو کی اشاعت پر رضامندی ظاہر کی لیکن وعدہ لیا کہ ان کا نام ساتھ نہیں لکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کو متعدد بار کال کی۔ انھوں نے ریسیو نہیں کی۔ واٹس ایپ پر پیغام پر بلو ٹک لگے ہوئے ہیں۔ اب کچھ دنوں سے فون بند ہے۔ شاید انھوں نے نمبر بدل لیا ہے۔ دوسرے وزرا کو فون کیا جائے تو کہتے ہیں کہ اس بارے میں وزیر اطلاعات ہی کچھ کہیں گے۔

کسی کا انٹرویو کرنا ہو تو پہلے اجازت لیتا ہوں کہ گفتگو ریکارڈ کرنا شروع کروں یا نہیں۔ نہیں کا مطلب ریکارڈنگ نہیں ہو گی۔ دو فون کالز ایسی ہوئیں کہ گفتگو کرکے میں خود بھی ہکابکا رہ گیا۔ اگر وہ ریکارڈ کرکے سنوا سکتا تو سب ششدر رہ جاتے۔ ان میں ایک حاضر سروس کور کمانڈر کو کی تھی۔ وہ میرا تعارف سن کر گھبرا گئے۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ مجھے کال مت کیجیے گا۔ پہلے بھی کبھی آپ نے بات نہیں کی۔ یاد رکھیں کہ ہمارا کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

ایک بریگیڈئیر صاحب کو فون کیا۔ وہ بہت محتاط تھے۔ مشکل سے تسلیم کیا کہ مطلوبہ افسر ہیں۔ میرا تعارف سن کر پریشان ہوئے۔ بات سننے سے پہلے کہا کہ نہ میں کسی خبر کی تصدیق یا تردید کروں گا اور نہ کسی کا نام یا نمبر بتاؤں گا۔

ہم نے دیکھا ہے کہ ضیا الحق کے مارشل لا میں صحافیوں نے کوڑے کھائے لیکن خاموش نہیں رہے۔ سیاست دان جیل گئے لیکن سیاسی جدوجہد نہیں چھوڑی۔ وکلا تحریک تو ابھی حال کی بات ہے۔

آج احتجاج کی ضرورت ہے تو مقبول سیاست دانوں نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ میں ممتاز صحافیوں کو آئیں بائیں شائیں کرتے دیکھ رہا ہوں۔ نامور وکلا کو بہانے بناتے ہوئے سن رہا ہوں۔ صبح شام مجھے بہادر عاصمہ جہانگیر یاد آ رہی ہیں۔

مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ پریشانی ہے تو یہ کہ اگر لوگ نہیں بولیں گے تو پاکستان کی تاریخ کا ایک صفحہ خالی رہ جائے گا۔ اگر کوئی صحافی یہ نہیں کہے گا کہ سنسرشپ ہے لیکن واقعات کو رپورٹ بھی نہیں کرے گا تو مستقبل میں اس کے کردار پر سوال اٹھیں گے۔ عمر چیمہ نے درست کہا ہے کہ مستقبل کا مورخ آج کے صحافیوں کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گا۔

چاروں جانب سناٹا ہے، دیوانے یاد آتے ہیں

Facebook Comments HS

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 194 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi