پرائیویٹ سکولوں کی بڑھتی فیسوں پر پریشان نہ ہوں۔۔۔۔
چند روز قبل پرائیویٹ اسکولز پیرنٹس ایسوسی ایشن کے تحت بچوں کے والدین پرائیویٹ اسکولوں کی بڑھتی فیسوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور پلے کارڈ پر لکھ رکھا تھا ہم اے ٹی ایم نہیں، ہمیں اس فیسوں کے ظلم سے بچایا جائے۔
آج ایک دوست کے توسط سے ان کا پیج نظر آیا، ایک پوسٹ پر کمنٹ لکھا کہ اگر فیسیں زیادہ ہیں تو بچوں کو سرکاری اسکولوں میں کیوں نہیں بھیجتے۔ پیج ایڈمن کا جواب آیا، سرکاری اسکولوں میں کیا رکھا ہے، وہاں تعلیم نہیں ملتی، وہاں سہولیات نہیں ہیں۔ اغیرہ وغیرہ۔
جواب تو یہ بنتا ہے کہ بھائی پرائیویٹ اسکولوں میں کیا ایسا رکھا ہے جو بچوں کو ملتا ہے۔ سوائے قید اور سختی کے۔ ”ہم بھی عجیب قسم لوگ ہیں، جسے ووٹ دیتے ہیں پھر اس کے خلاف نعرے بھی لگاتے ہیں۔ جن سکولوں میں بچے پڑھاتے ہیں پھر ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ جانتے بھی ہیں، بلکہ سکولوں میں بچے داخل کراتے وقت ایک معاہدہ بھی دستخط کرتے ہیں کہ ہم اس سکول کی شرائط پر اتفاق کرتے ہیں، صرف سکول کا برانڈ پڑھے، لیکن شرائط پڑھے بغیر معاہدہ طے ہوجاتا ہے، پھر جب سکول انتظامیہ فیسیں بڑھاتی ہیں ہم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
لیکن ہم حکومت اور اداروں پر تنقید کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ وزیر تعلیم سندھ نے جب اپنی اکلوتی بیٹی سرکاری سکول میں داخل کرائی وہ سب کے لیے مشعل راہ ہونا چاہیے تھا۔ جس سرکاری نظام کی درستگی چاہتے ہیں اس میں اپنا کردار ادا ہی نہیں کرنا چاہتے، وہاں اپنے بچے بھیجنا جہالت سمجھتے ہیں۔
میں ذاتی طور پر پنجاب کے ایک پسماندہ سے سرکاری سکول میں پڑھا ہوں۔ اللہ کے کرم سے جس ادارے سے بھی وابستگی رہی ہے وہاں او لیول اے لیول lums، beaconhouse، umt، uol ان کے علاوہ بڑے اداروں کے ڈگری ہولڈر بھی ہم پلہ رہے ہیں، بس وہ ذرا انگریزی اچھی بول لیتے ہیں اور ہم ذرا اپنی زبان ان سے اچھی بول لیتے ہیں، مجھے اس پر ہی فخر ہے کہ اپنی زبانیں بولتے ہوئے ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔
ہم دیہاتی زندگی سے بھی بھرپور لطف اندوز ہوئے ہیں اور شہر میں جینے کا ہنر بھی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ ہم نے انگریزی بھی چھٹی جماعت سے پڑھنا شروع کی تھی اور پھر اعلیٰ تعلیم بھی انگریزی میں حاصل کرلی۔ کچھ نہیں ہوتا، بچوں کو نجی تعلیمی اداروں سے کی قید سے آزاد کر کے پڑھائیں یہ جتنے زیادہ آزاد ہوں گے اتنے غلامی سے بھی آزاد ہوں گے۔
ایک ڈاکٹر دوست نے بتایا دو پرائمری لیول کے بچوں کی فیس چالیس ہزار روپے ادا کرتے ہیں کسی برانڈڈ سکول میں اس لیے کہ بیگم صاحبہ ناراض ہوتی ہیں، انہوں نے بتایا تھا کہ اب ایسا دل چاہتا ہے کہ لاہور سے پراپرٹی بیچ کر واپس گاؤں چلا جاؤں، ورنہ اس قدر مہنگائی سے گھر کا نظام نہیں چلتا اور ساتھ سکول میں پڑھنے والے بچے بھی ان چیزوں کی خواہش لے کر آتے ہیں جو امریکہ میں بھی کبھی نہیں دیکھیں ہم نے، بچے اب گاڑی کا برانڈ بھی بدلنے کو کہہ رہے ہیں مگر پیسے نہیں ہیں۔
سچ تو یہ ہے سرمایہ داروں کے ادارے ہیں جو آپ کی نسلوں کو غلامی کے لیے تیار کرتے ہیں، پیسہ بھی اپنا ادا کیا جاتا ہے اور بچے بھی اپنے غلام بنائے جاتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں والے بچے اچھی انگریزی بولیں تو والدین سمجھتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر انجینئر بن گیا بس قابل ہوگیا لیکن صاحب قسمت آگے کیا کرتی ہے، کسی کو علم نہیں، کتنے ڈاکٹر انجنیئر یا افسر نکلتے ہیں، کوئی علم نہیں کتنے ڈرگز ایڈکٹ، عاشق، لور، ڈانسر، فنکار یا کچھ اور بن کر نکلتے ہیں اس کی بھی کوئی خبر نہیں۔ ۔
اگر سٹیٹس ہائی رکھنا کے تو پھر فیسیں بھی ادا کرنی پڑیں گی، دلچسپ بات یہ ہے کہ پرائیویٹ سکول والے انگریزی بولنا ہی اچھا کردیتے ہیں وگرنہ ہر سال بورڈ میں لی جانے والی پوزیشنز کا تقابلی جائزہ لیں تو پوزیشنز سرکاری اداروں کے بچوں کو ہی ملتی ہیں۔
اب بھلا حکومت کیا کرے ہر طرف یونینز بنی ہوئی ہیں، پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف ایکشن لے تو ان کی ایسوسی ایشن کھڑی ہو جاتی ہے، کچھ چپ رہے تو یہ لوٹنے لگ جاتے ہیں۔ آپ اٹھیں اس لیے احتجاج کریں کہ بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں۔ اب حکومت بھی کچھ کنٹرول پالیسی ضرور طے کرے پرائیویٹ سکولوں میں فیسوں کے حوالے سے لگام دے، اور سرکاری سکولوں کا بھی معیار اور حالات بہتر بنائے۔


