ایساکب تک چلے گا ؟
بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی 9 ماہ سے چیئرمین کے بغیر چل رہاہے۔ تعلیمی بورڈراولپنڈی کے کام کو چلانے کے لئے وقتی طورپر ڈویثرنل کمشنر کو اضافی چارج دیا گیا تھا۔ ان کے ٹرانسفر کے بعد راولپنڈی بورڈ کے روزہ مرہ کے کام کو چلانے کے لئے بھی کوئی اتھارٹی نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر محمد ظریف نے اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے علاوہ 9 ماہ کی توسیعی مدت 26 جنوری کو پوری ہونے کے بعد اپنے گھر چلے گئے تھے اور اس کے بعد لیگی حکومت کی طرف سے مناسب نہیں سمجھا گیا تھا کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن را ولپنڈی کا مستقل چیئرمین لگایاجائے۔
ادھر پتہ چلاہے کہ پنجاب میں ایک دو نہیں بلکہ 7 تعلیمی بورڈوں کے چیئرمین کے عہدے خالی پڑے ہیں۔ اورنواز لیگی حکومت کی طرف سے ان میں تعلیمی بورڈوں کے چیئرمین کا چارج ڈویثرنل کمشنروں کو دے کر جان چھڑا لی گئی تھی۔ ان تعلیمی بورڈوں کے چیئرمین نہ لگانے کے پیچھے جو کہانی پتہ چلی ہے، وہ یہ ہے کہ نواز لیگی حکومت تعلیمی بورڈوں کے چیئرمین سول سروس پاکستان کے افسران میں سے لگانے میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن ادھر اکثریت سول سروس پاکستان کے بی پی ایس 20 کے افسران تعلیمی بورڈوں کے چیئرمین کی حیثیت میں خدمات سرانجام دینے کی بجائے کمشنر لگنے میں دلچسپی رکھتے تھے مطلب ان کی تعلیمی بورڈوں میں اپنی خدمات دے کر ا ن میں میرٹ اور دیگر معاملات کو بہتر کرنے میں اتنی دلچسپی نہیں تھی، جتنی کہ کمشنری انجوائے کرنے میں تھی۔
اس طرح انہوں نے انکارہی کر دیا اورلیگی حکومت تھی کہ ان سول سروس پاکستان کے بابوؤں کو اپنی خواہش کے مطابق تعلیمی بورڈ وں کا چیئرمین لگاکر ان کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتی تھی۔ یوں سب گول ہے کا سلسلہ چل نکلا۔ ادھر واقفان حال یہ کہانی بھی سناتے ہیں کہ پچھلی لیگی حکومت تعلیمی بورڈوں کے معاملات کے جھنجٹ سے جان چھڑانے کے لئے بھی ان سول سروس پاکستان کے گریڈ 20 کے افسروں کو تعلیمی بورڈوں میں اس لیے چیئرمین لگانا چاہتی تھی کہ وہ روزہ مرہ کے معاملات کو لاہور کی منظوری کے ساتھ نتھی کرنے کی بجائے اپنی سطح پر حل کرلیتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق کالجوں کے پروفیسروں میں بحیثت چیئرمین بورڈاس بات کی اہلیت ہی نہیں ہوتی ہے کہ وہ خود فیصلہ لے سکیں بلکہ وہ لاہور کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور ان کے آرام میں مخل ہوتے ہیں۔
رہے نام اللہ کا۔ مطلب جن کالجوں کے پروفیسروں کا پورا کیریئر ہی اس تعلیمی ماحول میں گزرا ہے، وہ لیگی حکومت کے لئے نا اہل اور نالائق پرزے تھے جبکہ سول سروس پاکستان کے افسران ہی ایسے تھے جوکہ تعلیمی بورڈوں کے ایشوز کو لاہور کے مطابق چلاسکتے ہیں۔ یوں لیگی حکومت نے تعلیمی بورڈ ز کی چیئرمین شپ کے حصول کے لئے سول سروس پاکستان کے افسران کو ایک اخبارات میں اشتہار دے کردعوت دی کہ حضور تشریف لائیں لیکن دلچسپ صورتحال اسوقت بنی جب ایک بھی پاکستان سول سروس کے آفیسر نے تعلیمی بورڈ کی چیئرمین شپ کے حصول کے لئے درخواست دینا بھی گوارا نہیں کیا۔
ادھرشہبازشریف حکومت بضد تھی کہ ان کے لاڈلے سول سروس پاکستان کے افسران ہی تعلیمی بورڈ کی سربراہی قبول کریں جبکہ سول سروس پاکستان کے افسران تھے کہ وہ کمشنر لگ کر اپنی د نیا سنوارنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے انکار اور بے توجہی کے باوجود بھی خادم اعلی پنجاب شہبازشریف کی حکومت اس بات پر راضی نہیں تھی کہ کالجوں کے موزوں پروفیسروں کو بورڈ ز کا چیئرمین لگا دیا جائے۔ ضد کا ویسے بھی کوئی علاج نہیں ہوتا اور حکمران کا ضد تو اللہ معاف کرے، یوں کالجوں کے پروفیسروں کو تعلیمی بورڈ میں بحیثت چیئرمین خدمات سرانجام دینے سے دوررکھنے کے لئے نواز لیگی حکومت نے یہ حل نکالا کہ ڈویثرنل کمشنروں کو تعلیمی بورڈوں کی چیئرمین شپ کا ایڈیشنل چارج دے دیا۔
پھر وہی ہوا کہ تعلیمی بورڈ کے ایشوز انتظار میں لٹک گئے ہیں جبکہ ”صاحب بہادر“ اپنی کمشنری کے اخیتارات میں اتنے مصروف ہیں کہ ان کے لئے تعلیمی بورڈوں کے دفاتر میں آکر ضروری فائلوں پر بروقت احکامات جاری کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی ہے۔ اور وہی سلسلہ عروج پر ہے، جیسے ایڈیشنل چارج والے کرتے ہیں کہ کل کرلینگے، صاحب بہادر مصروف ہیں، یہاں بھی وہی ہورہاہے کہ تعلیمی بورڈ کے اہلکاروں کو حکم ہے کہ فائلوں کو کمشنر آفس لانا ہے اور وہیں پر بات ہوگی۔
یوں صاحب بہادر کو سیکرٹر ی بورڈ اور کنڑولر کی طرف سے جو بھی آگاہی دی جاتی ہے وہ اس کے مطابق احکامات جاری کردیتے ہیں۔ ان کے پاس بورڈ میں بیٹھ کر اپنے کام کو بہتر انداز میں کرنے اور طلبہ کے ایشو کو حل کرنے کے لئے نہ وقت ہے اور نہ ہی دلچسپی ہے۔ یوں تعلیمی بورڈوں کے حالات سدھرنے کی بجائے گھمبیر ہوتے جارہے ہیں جس کا خمیازہ طلبہ اور بورڈ ملازمین کے علاوہ والدین بھگت رہے ہیں۔ ادھر خیر سے تحریک انصاف کی حکومت پنجاب میں آچکی ہے لیکن حالات چغلی کرتے ہیں کہ ابھی تک شہبازشریف کی پالیسوں کو تبدیلی کرنے کی جرات عثمان بزدار کو تو نہیں ہوئی ہے۔
بزدار حکومت کی طرف سے ابھی تک تعلیمی بورڈ راولپنڈی کے ساتھ ساتھ پنجاب کے 7 تعلیمی بورڈوں کے مستقل چیئرمین لگانے کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا ہے اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار خاموش ہیں۔ شاید ان کو ابھی تک اس اہم ایشو پر آگاہی نہیں دی گئی ہے۔ یہاں یہ بھی دیکھنا پڑیگا کہ عثمان بزدار بھی نیب کے ملزم شہبازشریف کی طرح سول سروس پاکستان کے گریڈ 20 کے افسران کامنت ترلہ کریں گے کہ تعلیمی بورڈوں کی مستقل چیئرمین شپ قبول کرلیں یاپھر اسی طرح ایڈہاک ازم پر کمشنروں کے پاس چارج رہیگا یاپھر میرٹ کے مطابق کالجوں کے پروفیسروں کو جوکہ اس شعبہ میں زندگی گزار چکے ہیں اور اسی شعبہ میں بھرپور تجربہ رکھتے ہیں، ان کو چیئرمین بورڈ کی ذمہ داری دی جائے گی۔
ہمارے خیال میں ان اساتذہ کرام پر اعتماد کیا جائے، ان کو کھوٹا سکہ سمجھ کر پھینک نہ دیا جائے۔ پروفیسرز صاحبان چیئرمین بننے پر پوراوقت تو دیں گے اور تعلیمی بورڈوں کے معاملات میں بہتری بھی لائینگے۔ ہمارے خیال میں صاحب بہادر کمشنری انجوائے کریں اور پروفیسروں کو کام کرنے پر لگایا دیا جائے۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر صاحب بہادر کی خاطر ایسا کب تک چے گا۔


