نیا پاکستان ، چندہ نامکس اور شیخ چلی
سنہ 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ نئے گھر تیار ہوتے ہیں۔ ان مکانوں کے لئے تعمیراتی طلب، پاکستان کی سیمنٹ کی صنعت اپنی 40 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ پیداوار کے ساتھ بمشکل پوری کر پاتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہاؤ سنگ سروے کے مطابق پاکستان کے دو بڑے شہر کراچی اور لاہور میں تعمیر شدہ پکے مکانات کی تعداد بھی پچاس لاکھ نہیں ہے۔ یعنی حکومت صرف پچاس لاکھ گھر نہیں بلکہ درمیانے درجے کے ایک درجن شہر بسانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے گویا معلوم ہوا کہ دس لاکھ گھر سالانہ بنانے کا تخمینہ ہماری قومی آمدن کا 12 فیصد، بیرونی قرضہ جات کا 40 فیصد، برآمدات کا 180 فیصد، سی پیک کے تحت سالانہ سرمایہ کاری کا 550 فیصد، سالانہ قومی سرمایہ کاری کا 65 فیصد اور سالانہ قومی بچت کا 200 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ سریہ، سیمنٹ، اینٹ، بجری اور ہر قسم کے تعمیراتی سازو سامان کے لئے جو وسائل درکار ہیں، ہماری قومی پیداوار کا بنیادی ڈھانچہ ان کا کا عشر عشیر بھی نہیں۔
حکومت کے مطابق یہ 50 لاکھ گھر پاکستان کے متوسط طبقے کے لئے بنائیں جائے گے۔ پاکستان کی فی کس آمدنی کے مطابق متوسط طبقے سے مراد وہ خاندان ہیں جن کی ماہانہ آمدن 10 سے 20 ہزار روپے ہے۔ 15 سے 20 لاکھ روپے مالیت کے یہ مکانات نجی مالیاتی اداروں (کمرشل بنک) کی وساطت سے ”ہاؤسنگ فنانس سکیم“ کے تحت صارفین کو بیچے جائیں گے۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی ہاؤسنگ فنانس رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہاؤسنگ کی مد میں جاری کردہ قرضوں کی کل مالیت 70 ارب روپے کے قریب ہے یعنی کہ بمشکل 55 کروڑ ڈالر۔ تو گویا معلوم ہوا کہ ان گھروں کی فروخت کے لئے ہمارے قومی بنکاری کی کو صنعت آج کے مقابلے میں تقریباً 7000 فیصد زیادہ رقم قرضے کی مد میں جاری کرنا ہو گی۔
فرخ سلیم کے مطابق 15 سے 20 لاکھ روپے میں تعمیر کردہ ہ یہ مکانات 2.3 % سالانہ بیاج کے نرخ پر فروخت کیے جائیں گے۔ صارفین کو 10 فیصد رقم پیشگی اور باقی 10.15 سال کی اقساط میں ادا کرنی ہو گی۔ اس وقت پاکستان میں افراط زر کی شرح 8 فیصد کو چھو رہی ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے لگائے گئے نئے ٹیکس، افراط زر کی شرح کو 15 فیصد تک بڑھا دے گی۔ یعنی کے نجی مالیاتی ادارے اپنے سرمائے پر سالانہ 5 سے 12 فیصد نقصان اٹھا کر گھاٹے کا کاروبار کریں گے۔
دوسری طرف صارف جو 15 لاکھ کا مکان ڈیڑھ لاکھ پیشگی ادائیگی کر کے 3 فیصد شرح سود پر خریدے گا اس کو ہر ماہ، 15 سال تک 10875 روپے ماہانہ قسط ادا کرنی ہو گی۔ یہ رقم متوسط طبقے کی اوسط آمدنی کا 63 فیصد بنتی ہے۔ نجی بنکاری کے اصولوں کے مطابق رہائشی مد میں اخراجات، فرد کی آمدنی کے 30، 35 فیصد سے زیادہ ہو تو اس کے لئے معاشی بد حالی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ لہذا اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وزیراعظم صاحب کے 50 لاکھ گھروں والے خواب کی تعبیر، قومی معیشت کے لئے دیوالیہ پن کی بھیانک صورتحال بن کر ابھرے گی۔
اس بھیانک تصویر کو سمجھنے کے لئے 2008 کے امریکی اقتصادی بحران کی ہی مثال لے لیجیے جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ”دی گریٹ ریسیشن“ کہلایا۔ اس اقتصادی بحران کی جڑیں بھی رہائشی منڈی میں غیر ذمہ دارا نہ قرضوں کی ترسیل تھی، جس کو اقتصادی ماہرین ”ہاؤسنگ ببل“ کا نام دیتے ہیں۔ سنہ 2004 میں جب امریکی معاشی حالات سنبھلے، شرح بیاج و افراز زر کم ہوئی تو پیسے کی فرا وانی دیکھنے میں آئی۔ نجی مالیاتی اداروں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کم آمدنی والے خاندانوں اور متوسط طبقات کے لئے نہایت آسان اقساط پر قرضوں کا اجرا کیا۔
لیکن جیسے ہی سنہ 2007 میں شرح سود اور افراط زر نے بڑھنا شروع کیا، مکانوں کی ماہانہ قسط خوفناک حد تک بڑھ گئی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ 2500 ڈالر کمانے والے کی ماہانہ قسط 3000 ڈالر تک پہنچ گئی۔ صارفین نے قسط ادا کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے دیوالیہ ہونے کو ترجیح دی۔ لالچ اور حرص کے اس کھیل کی قیمت 8 ٹرلین ڈالر ادا کرنی پڑی۔
ان سارے اقتصادی اشاریوں اور پاکستان کے حالیہ وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ذی شعور شخص، ہوش و حواس میں پچاس لاکھ گھروں جیسا احمقانہ اور غیر حقیقی شوشا چھوڑ سکتا ہے؟ اگر کوئی مجنوں یا دیوانہ خیالی پلاؤ کی یہ دیگ چڑھائے تو ہنسنا جائز ہے۔ لیکن پاکستان کے اہم ترین عہدوں پر فائز افراد کو ڈبل شاہ جیسی حرکتیں کرتا دیکھ کر رونے کے ساتھ ساتھ خوف بھی آتا ہے۔
پاکستان کی اقتصادی حالت جو کہ پچھلے دور حکومت میں بمشکل سنبھلی تھی، موجودہ حکومت کی حماقتوں سے ایک دفعہ پھر منہ کے بل جا گری ہے۔ ایسے مخدوش حالت میں المیہ یہ ہے کہ ملک کی باگ دوڑ ایسے افراد کے ہاتھ میں آ چکی ہے جو پاکستان کی بنیادی اقتصادی حقیقتوں سے ہی نا آشنا ہیں۔ اسد عمر اور فرخ سلیم کے پیشہ ورانہ اور تعلیمی پس منظر سامنے رکھ کر سوچیں تو سوال ان کی اہلیت اور صلاحیتوں سے زیادہ ان کی فکری اور پیشہ ورانہ دیانت پر اٹھتا ہے۔
پاکستان کے سنجیدہ مسائل کو ایسے شیخ چلیوں کی نہیں بلکہ سنجیدہ لوگوں کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قومی سطح پر اور پارلیمان پاکستان میں قومی معیشت پر مدلل بحث کا آغاز کیا جائے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت تین قسم کے خساروں کا سامنا ہے۔ یہ خسارے کیا ہیں اور ان کی بیخ کنی کے لئے بنیادی اقتصادی بنیادی ڈھانچے میں کن دور رس اور طویل المدتی اصلاحات کی ضرورت ہے؟ ۔ پچھلی حکومت کا موجودہ اقتصادی بحران میں کتنا قصور ہے؟ اسحاق ڈار کی معاشی پالیسی کیا تھی؟ پاکستان میں کرپشن کے اسباب کیا ہیں؟ کرپشن کے ملکی معیشت پر اثرات اور اس کا سد باب کیسے ممکن ہے؟ ان سب نقاط پر میں سیر حاصل بحث اگلے مضمون میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔

