جمال خاشقجی کے دوستوں نے سعودی عرب کو شرمندہ کرنے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ لیا


 

سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خاشقجی کے المناک قتل کے ذمہ داران تو شاید کبھی کیفر کردار کو نہ پہنچ سکیں البتہ امریکہ میں ان کے دوستوں، ساتھی صحافیوں اور انسانی حقوق کارکنوں نے اُن کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے ایک ایسے اقدام کا مطالبہ کر دیا ہے جو سعودی حکومت کو یقیناً بہت ناگوار گزرے گا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق گزشتہ روز جمال خاشقجی کے دوستوں، ساتھی صحافیوں اور انسانی حقوق تنظیموں کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ایک پرامن مظاہرے میں شرکت کی اور اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ امریکی دارالحکومت میں سعودی سفارتخانے کے سامنے سے گزرنے والی شاہراہ کو ’’شاہراہِ جمال خاشقجی‘‘ کا نام دے دیا جائے۔ اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ سعودی حکومت جمال خاشقجی کی لاش ان کے ورثاء کے حوالے کرے تاکہ ان کی باعزت طور پر تدفین کی جاسکے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمال خاشقجی کے دیرینہ ساتھی نہاد عود کا کہنا تھا کہ سعودی سفارتخانے کے سامنے سے گزرنے والی شاہراہ کو جمال خاشقجی کا نام دینا اُن کے قاتلوں کو شرمندہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ امریکی میڈیا اور دیگر بااثر حلقوں کی جانب سے بھی اس مطالبے کی حمایت کی گئی ہے اور عین ممکن ہے کہ امریکی حکومت آئندہ چند دنوں میں اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔

یاد رہے کہ 60 سالہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کے روز ترک شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کردیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر سعودی حکام نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا تاہم بعد میں یہ موقف اپنایا کہ قونصل خانے میں ہونے والے ایک جھگڑے کے دوران جمال خاشقجی کی موت ہوگئی تھی۔ عالمی برادری کی جانب سے اس موقف کو رد کئے جانے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ سعودی سکیورٹی ایجنسیوں سے وابستہ کچھ افراد نے اپنے طور پر جمال خاشقجی کے خلاف کارروائی کی تھی۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ قتل کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

Facebook Comments HS