پاکستانی معاشرہ سیکولر سوچ کے قریب کیوں ہو رہا ہے؟


ہمارا سماج تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے یہاں روز ایسے واقعات ہوتے ہیں جس میں ظالم اور مظلوم کا فرق واضح ہوتا ہے۔ ان حالات میں اگر ایک طبقہ مسلسل مظلوموں کے حق میں بولے گا اور دوسرا یا خاموش رہے گا یا اگر مگر کی پیچیدگیوں میں الجھا رہے گا تو عوام اسی فلسفے کو پسند کریں گے جو مظلوم کا ساتھ دے گا۔ عام آدمی عمل دیکھتا ہے اور اس سے متاثر ہوتا ہے، فلسفوں اور نظریات کی طرف اس کا جھکاؤ اسی بنیاد پر ہوتا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے ڈنڈا برداروں کے ہاتھوں مختلف شہروں میں لاکھوں شہری کئی دن تک جس اذیت میں مبتلا رہے اس پر تمام مذہبی رہنماؤں کا رویہ مکمل سنگ دلی کا عکاس تھا۔ سب کی کوشش تھی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور عوام کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اپنی اپنی سیاست چمکائی جائے۔ ایسے مواقع پر اسلامسٹ دانشور بھی یا تو سپریم کورٹ کے فیصلے میں خامیاں نکالنے میں مصروف رہے یا پھر ہزاروں برس پرانے فقہی مباحث سامنے لاتے رہے جو موجودہ دور میں فرسودہ ہو چکے ہیں۔ سڑکوں پر جاری غنڈہ گردی، موٹر وے پر پھنسے ہزاروں شہری، غریب لوگوں کے جلتے موٹر سائیکل۔ ان تمام مناظر سے نظریں بھی چرائی گئیں، ان کے جواز بھی تراشے گئے اور کئی بار ان واقعات کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی طبقہ شدید قسم کے اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکا ہے۔

انتخابی سیاست ایک ایسا آئینہ ہے جس میں مذہبی طبقہ خود کو مسلسل عوامی حمایت سے محروم ہوتا دیکھ رہا ہے۔ اسے اندازہ ہو چکا ہے کہ جمہوری رستے سے اس کے اقتدار میں آنے کا کوئی امکان نہیں اور اس کے نتیجے میں وہ ہر اس گروہ کی ڈھکی چھپی حمایت کرتا ہے جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرے۔ اس کے برعکس ریاست قدم بہ قدم اپنا کھویا ہوا اختیار واپس لے رہی ہے۔ طالبان کے خلاف فوجی آپریشن سے لے کر ممتاز قادری کی پھانسی اور آسیہ بی بی کی بریت تک ہونے والی پیش رفت ریاست کی بحال ہوتی قوت کے مظاہر ہیں۔ جس قدر ریاست طاقتور ہو گی اسی قدر مذہبی لوگوں کی بلیک میلنگ کی قوت کمزور ہو گی۔ یہ ریاضی کے کلیوں کی طرح ایک سادہ سا فارمولا ہے کہ ایک کی قوت دوسرے کی کمزوری ہے۔

اس وقت خادم حسین رضوی جیسے ایڈونچر پسند ریاست کو بار بار چیلنج کر رہے ہیں لیکن یہ لوگ ایسے بلبلے کی طرح ہیں جنہوں نے خود کو اپنی حیثیت سے زیادہ پھلا لیا ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ ریاست نے اصولی طور پر ان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ان کی بلیک میلنگ کا دور اب ختم ہونے کو ہے۔ حکومت سڑکوں پر پھیلی ان کی طاقت سے نہیں گھبراتی کیونکہ ان کی تعداد کہیں بھی دو چار سو سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے میں طالبان نے جس طرح چھپ چھپ کر وار کیے ہیں اور اہم ترین لوگوں کو قتل کیا ہے اس نے ہماری اجتماعی نفسیات میں خوف بٹھا دیا ہے جو حکومتوں کو بڑے فیصلے نہیں کرنے دیتا۔

اسی طرح سلمان تاثیر کا قتل بھی ایک اہم وجہ ہے جو حکومتی عہدیداروں کو خوف میں مبتلا رکھتی ہے۔ لیکن طالبان کے خلاف حاصل کی گئی فتح نے بہرحال ریاست میں اعتماد پیدا کیا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ یہ اعتماد بڑھتا جا رہا ہے۔ دیکھا جائے تو اس دفعہ تحریک لبیک پاکستان اپنی کوئی بھی بات نہیں منوا سکی اور اسے خالی دامن ہی لوٹنا پڑا ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ان کے دھرنے کی وجہ سے وزرا نے بھی استعفے دیے تھے اور حکومت نے اپنی ترمیم بھی واپس لی تھی۔ اس بار نہ ہی کسی حکومتی عہدیدار نے استعفی دیا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس ہوا ہے۔ الٹا حکومت نے جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔

گزشتہ ایک ہفتے کی روئیداد پر نظر ڈالی جائے تو ہمیشہ کی طرح مذہبی سیاسی جماعتیں اور دائیں بازو کے دانشور تاریخ کی غلط سمت پر کھڑے نظر آئے۔ جس طرح طالبان کے معاملے میں انہوں نے اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کی گھمن گھیریوں میں خود اور عوام کو الجھائے رکھا، اسی طرح موجودہ دھرنوں پر بھی ان کا رویہ یہی رہا ہے۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ جب بھی انسانی حقوق کا معاملہ درپیش ہوا ہے مذہبی طبقے نے خود کو چند نظری مباحث کی چادر میں چھپایا ہے اور انسانیت سے منہ موڑ لیا ہے۔

احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملے ہوں، طالبان کی طرف سے خود کش دھماکے ہوں، ہندو خواتین سے جبری شادی کا معاملہ ہو، سڑکوں پر ڈنڈا برداروں کا راج ہو یا پھر ہزارہ کمیونٹی کا قتل عام ہو، مذہبی طبقے نے یا تو خاموشی اختیار کی ہے یا ڈھکے چھپے انداز میں ظالموں اور قاتلوں کو شہہ دی ہے۔ ان کے ایسے ہی رویوں کی وجہ سے نئی نسل کا رجحان سیکولرازم کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔

ہم دریائے سندھ کے کنارے رہنے والے لوگ ہیں۔ ہم نے تمام عمر مٹی کے بڑے بڑے تودوں کو بے بسی کے عالم میں دریا میں غرقاب ہوتے دیکھا ہے۔ پانی خاموشی سے ان مضبوط تودوں کو اندر ہی اندر سے کاٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ فیصلہ کن لمحہ آن پہنچتا ہے جب زمین کے طاقتور ٹکڑے دھڑام سے پانی میں گر کر اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں۔ مغربی ممالک کی تاریخ میں جو کچھ کلیسا کے ساتھ ہوا ہے وہی سب پاکستان میں موجود مذہب کے اجارہ داروں کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔

اس کے بہت سے اشارے ہمارے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ انتخابات میں مذہبی لوگوں کا کم ہوتا ووٹ بینک اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام میں ان کی حمایت سکڑ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے رویوں پر ایسے نوجوان کھل کر تنقید کر رہے ہیں جو کسی طور بھی سیکولر اور لبرل نہیں ہیں۔ چونکہ یہ عوام کو پیش آنے والی تکالیف پر خاموش رہتے ہیں یا اس کے لیے جواز پیش کرتے رہتے ہیں اس لیے عوام بھی انہیں مسترد کیے جا رہے ہیں۔

ہماری قوم ایک ایسے تاریخی عمل سے گزر رہی ہے جس میں نظریات اپنی قدر کھو رہے ہیں اور انسان مرکزی اہمیت اختیار کر رہا ہے اس لیے جو نظریہ انسانوں کے حق میں بولے گا عوام اسی کو اپنائیں گے۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ سعادت صرف سیکولر طبقے کو نصیب ہو رہی ہے۔ پاکستان میں جہاں بھی ظلم ہوتا ہے اس کے خلاف یہی لوگ آواز اٹھاتے ہیں۔ اس لیے مجھے مستقبل قریب میں یہی سوچ حاوی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ پاکستانی قوم میں اسلام تو اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ قائم رہے گا لیکن مذہب کا سیاسی استعمال ختم ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.