کراچی اپنا قصور پوچھتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نام۔ کراچی۔ عمر۔71سال۔ شہریت۔ پاکستان۔ پہچان۔ منی پاکستان۔ کیاکرتے ہو ؟ کام۔ کام اور صرف کام۔ مگر تمہارے بینک اکائونٹ میں تو ایک پیسہ نہیں ہے۔ سر، میں پورے ملک کو 70فیصد ریونیو دے دیتا ہوں اور وہ جو مناسب سمجھتے ہیں مجھے دے دیتے ہیں۔ تم زبان کون سی بولتے ہو۔ میں نے کہا میں منی پاکستان ہوں۔ ہر زبان بولتا ہوں اور سب کو دل و جان سے چاہتا ہوں۔ تو پھر تمہارا مسئلہ کیا ہے۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرا قصور کیا ہے۔ مجھ پر شک کیوں کیا جاتا ہے۔ نہ میں اسلحہ بناتا ہوں اور نہ ہیروئن تو پھر یہ چیزیں یہاں سے کیوں دریافت ہوتی ہیں۔ میری زمین پر لوگوں نے محلات کھڑے کر لئے۔ راتوں رات کروڑ پتی اور ارب پتی بن گئے مگر میرا اکائونٹ بے نامی ہی نکلا بدنامی الگ ہوئی۔

تم پر الزام ہے کہ تم نے ہزاروں لوگوں کو قتل کیا۔ زبان اور مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کیا۔ میں تسلیم کرتا ہوں کیونکہ اس میں سب سے زیادہ نقصان تو میرا اپنا ہوا ہے۔ میں نے تو سب کو اپنے اندر جگہ دی۔ جس کا جہاں بس چلا وہیں اپنا گھر بنا لیا۔ جس زمین پر چاہا قبضہ کر لیا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میرا یہ بھی قصور ہے کہ میں نے ہمیشہ حکومت ِ وقت کی مخالفت کی اور وقت کی اپوزیشن کا ساتھ دیا تو مجھے اپوزیشن کا شہر کہا جانے لگا۔ ہاں میں نے 1953ء میں سب سے پہلے طلبا تحریک چلائی جس میں 8؍نوجوان پولیس فائرنگ سے شہید ہوئے۔ یہ بھی درست ہے کہ میں نے ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کی ایوب مخالف تحریک کا 1968میں ساتھ دیا۔ مگر میں نے اس کی قیمت بھی ادا کی۔

سر، یہ میرا غصہ تھا۔ کس چیز کا غصہ۔ میں پاکستان کا دارالحکومت تھا۔ یہاں سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ رہتے تھے۔ یہ الگ بات کہ آنے والے سالوں میں میں نے لوگوں کے ہاتھوں میں قلم کے بجائے اسلحہ دے دیا۔ انہیں قابل بنایا تھا۔ میں نے قاتل بنا دیا یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہوا بعد میں تو پورا ملک ہی اس کی لپیٹ میں آتا گیا۔

مجھ میں آہستہ آہستہ نظریات اور اُن نظریات پر کھڑے رہنے اور لڑنے کی سکت کم ہونا شروع ہو گئی۔ آخری بار اپوزیشن کا ساتھ 1977ء کی تحریک میں دیا ۔ بڑی جانیں گئیں مذہب کا نام استعمال ہوا اور ہم بھٹو مخالفت میں نکل پڑے۔ لیڈروں نے ہمیں کوٹہ سسٹم کے نام پر بھٹو مخالف بنایا اور ہمارے نوجوانوں کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی مگر جب 11سال کیلئے مارشل لالگاتو اندازہ ہوا کہ کھیل کچھ اور تھا۔ ہم تو صرف استعمال ہوئے۔

ان 11 سالوں میں جو اس شہر کا حال ہوا اُس کی سزا یہ شہر تو آج تک بھگت رہا ہے ملک نے بھی بھاری قیمت ادا کی۔ اُس کی کچھ شکل یوں بنی کہ ایران اور بعد میں افغانستان میں آنے والی تبدیلیوں کے اثرات مجھ پر بھی پڑے اور یہاں غیر ملکیوں کی پراکسی وار شروع ہو گئی اور ہم اس کا حصہ بنے۔ ان سالوں میں یکدم نئی نئی جماعتیں اور گروپ سامنے آنے شروع ہو گئے۔ مجھے خبر نہیں یہ سب کون کر رہا تھا۔ کسی سے پوچھنے کی کوشش کی تو جواب ملا۔ جانتے سب ہیں مگر سب چپ ہیں، تم بھی چپ ہو جائو۔

میں نے تو پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اب حکومت کا اور حکومت بنانے والوں کا ساتھ دوں گا۔ پھر تو میں نے اپوزیشن کا ساتھ بھی دوسروں کے کہنے پر دیا تاکہ مجھے حصہ ملتا رہے۔ میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ ایسا کرنے سے میرے حالات اچھے ہو جائیں گے۔ میری ملکیت کوئی لے کر مجھے بہتر بنائے گا۔

یہاں پورٹ تھی، سمندر تھا، اسٹیل مل تھی، PIDCتھا، کراچی شپ یارڈ تھا، سر کلر ریلوے تھی، ٹرام چلا کرتی تھی، سڑکیں دُھلتی تھیں۔ پارک تھے، کھیلوں کے میدان تھے، ڈسلو ٹائون کی پہاڑی بھی ہوا کرتی تھی۔ شاید اب بھی ہے مگر اب آبادی کے بوجھ تلے دب گئی ہے۔ یہاں تو سینما کا بھی مزا تھا۔ مشہور کالج ہوا کرتے تھے۔ پروفیشنل کالج بھی ہوتے تھے جیسا کہ ڈائو یا سندھ میڈیکل، NED، جامعہ کراچی، آپ کہیں گے یہ تو اب بھی ہیں اور کچھ تو کالج سے یونیورسٹی بن گئے ہیں۔ جی ہاں۔ عمارتیں موجود ہیں اور طالب علم بھی مگر کیا پڑھائی ویسی ہے۔ اگر ہے تو اب ویسے ہونہار کیوں نہیں نکل رہے۔

تو تم نے یہ سب کچھ بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ سر، میں نے کی تھی مگر اُس وقت تک ہاتھ خون میں رنگ لئے تھے۔ میں کبھی کبھی یہ سوچتا تھا اور آج بھی سوچتا ہوں۔

کوئی اور تو نہیں ہے پسِ خنجر آزمائی۔

ہم ہی قتل ہو رہے ہیں، ہم ہی قتل کر رہے ہیں۔

مگر سر! اس سب کے باوجود جب یہاں ایک ایک روز 40/50 لوگ مار دیئے جاتے تھے۔ خوف کا عالم تھا کسی علاقے میں پینٹ پہن کر اور کہیں شلوار قمیض پہن کر یا شکل دیکھ کر شک کیا جاتا تھا۔ میں ملک کو 70فیصد ریونیو دیتا رہا۔ سب یہاں آتے رہے اور سیاسی و لسانی کشیدگی کے باوجود لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ کیونکہ پتا تھا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ اسی دوران کم از کم تین حکومتوں کا خاتمہ میری وجہ سے ہوا کیوں کہ یہاں گڑبڑ ہوتی تھی تو اسلام آباد میں محسوس ہوتی تھی۔ آہستہ آہستہ میرا استعمال بڑھتا گیا کہ 2013ء آ گیا۔

میر ی آبادی تین کروڑ سے یا شاید ڈھائی کروڑ مگر پالیسی بنانے والے دو کروڑ بھی تسلیم نہیں کرتے اور مجھے ایک کروڑ کے مساوی حقوق بھی نہیں ملتے۔ یہاں ماورائے عدالت قتل اس طرح ہوئے کہ لوگ عدالت جانا بھول گئے۔ مگر دہشت گردی کی بھی انتہا ہو گئی تھی۔ چینل نہ ہونے کے باوجود بھی 90 کی دہائی میں لوگوں کو پتا چل جاتا کہ کسی علاقے میں جانا ٹھیک اور کہاں نہیں جانا۔

2013ء سے 2018ء تک شہر میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے شروع ہونے والا آپریشن ماضی کے آپریشن سے بہت بہتر رہا۔ دہشت گردی کی جگہ اب اسٹریٹ کرائم نے لے لی ہے۔

تو اب تو خوش ہو جائو۔ اب تو کوئی ملکیت لے گا تمہاری، اُس نے مجھ سے دریافت کیا۔ میں نے کہا سر، پتا نہیں خدشہ ہے مجھے پھر استعمال نہ کیا جائے۔ ہمارے حکمران کب سمجھیں گے کہ میں پاکستان کا معاشی حب ہوں۔ میں ہی پاکستان کو معاشی مشکلات اور قرضوں سے نکالنے کی محبت رکھتا ہوں۔ مجھ پر اعتبار تو کریں۔ میری حالت تو بہتر کریں۔

آپ صرف اتنا کرم کریں کہ میرے اختیارات مجھے واپس کر دیں۔ وزیراعظم کی باتیں مجھے اچھی لگتی ہیں اور ایک اُمید ہے کہ شاید 71سال بعد کسی کو میرا خیال آ جائے۔ میری اپنی پولیس ہو، سرکلر ریلوے بحال ہو، لوگ بہتر بسوں میں سفر کریں۔ لوگ یہاں کا پیسہ یہیں استعمال کریں۔ لوٹی ہوئی دولت ہی نہیں لوٹی ہوئی زمینیں بھی واپس ملیں۔ میری آبادی کا تعین درست ہو گا تو آپ پلاننگ کر پائیں گے۔ میں تھک گیا اور یاد رکھیں اگر تھکن بڑھتی رہی تو بہت نقصان ہو جائے گا۔ اب تو میرا خیال رکھنا آپ کا کام ہے۔ ہمیشہ مجھے استعمال کیا، اب تو مجھ پر تھوڑی نوازش کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “کراچی اپنا قصور پوچھتا ہے

Comments are closed.