تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ: اقبال کا ایک تاریخ ساز فکری کارنامہ (اقبال میموریل لیکچر)


کائنات کا نیا تصور

کائنات کے متعلق بنی نوع انسان کے ابتدائی اساطیری تصورات کچھ اس قسم کے تھے کہ یہ بس دیوی دیوتاؤں کی مرضی اور منشا کی آماج گاہ ہے جس میں کسی قاعدے قانون کو دخل نہیں۔ چنانچہ آفات و بلیّات سے محفوظ رہنے کے لیے لازم تھا کہ دیوتاؤں کو خوش رکھنے کی ہر ممکن سعی کی جائے اور ان کی خدمت میں نذرانے پیش کرکے ان کی خوشنودی حاصل کی جائے۔

اس کے برعکس فلسفہ یونان میں ایک نئے تصور نے جنم لیا جسے انھوں نے کوسموس کا نام دیا جس کا مطلب ہے نظم و ترتیب۔ یعنی ہماری یہ کائنات الل ٹپ نہیں بلکہ قواعد و ضوابط کی پابند ہے۔ یہاں جو بھی وقوعہ ہوتا ہے وہ کسی قاعدے کے تحت رونما ہوتا ہے اور اس کے کچھ اسباب ہوتے ہیں۔ چنانچہ ا س کائنات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان قوانین اور اسباب کو دریافت کیا جائے اور ان کا علم حاصل کیا جائے۔

فلسفہ یونان میں الیاطی(Eleatic ) دبستان نے ہستی کا تصور ایک ناقابل تغیر، ناقابل فنا، ناقابل تخلیق اور ناقابل تقسیم حقیقت کا پیش کیا ہے۔ یہ بلاک یونیورس کا تصور ہے جس میں کسی تغیر، تنوع، یا نئی تخلیق کا کوئی گزر نہیں۔ بلاک یونیورس کے تصور کا نتیجہ جبریت کا وہ مابعد الطبیعیاتی نظریہ ہے جسے اولاً دیمقراطیس (Democritus ) نے بیان کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ تمام واقعات جو ظہور پذیر ہو چکے ہیں، ہو رہے ہیں یا ا ٓئندہ ہوں گے، وہ ازل سے ہی لازمی طور پر مقدر ہو چکے ہیں۔ یہ محدود و مسدود کائنات کا تصور ہے۔

یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ جدید سائنس نے محدود و مسدود کائنات کے تصور کو رد کرکے ایک لا محدود کائنات کے تصور کو اجاگر کیا ہے لیکن اس کے باوجود پارمینیڈیز سے آئن سٹائن تک زیادہ تر فلسفی اور سائنس دان بلاک یونیورس کے حامی ہیں۔ اسی بنا پر آئن سٹائن کے بارے میںیہ کہا گیا ہے کہ وہ دور جدید کا پہلا نہیں بلکہ دور قدیم کا آخری عظیم شخص تھا۔

 گزشتہ صدی کی پچاس کی دہائی میں جب کارل پوپر کی پرنسٹن یونیورسٹی میں آئن سٹائن سے ملاقات ہوئی تو پوپر نے اسے اوپن یونیورس کے تصورپر قائل کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں اپنی خود نوشت سوانح ( Unended Quest) میں اس ملاقات کو پارمینیڈیز سے ایک ملاقات کا عنوان دیا تھا۔ آئن سٹائن چونکہ اپنے خیالات کو مذہبی اصطلاحوں میں بیان کرنے کا شوقین تھا تو پوپر نے اسے کہا:

خدا اگر چاہتا تو وہ ابتدا ہی سے ایسی کائنات تخلیق کر سکتا تھا جو ہر اعتبار سے مکمل ہو، ایسی دنیا جس میں کوئی تغیر نہ ہو، جس میں اجسام کسی ارتقا کے مراحل سے نہ گزریں، جہاں انسانوں کو حرکت و تغیر کا کوئی تجربہ نہ ہو۔ لیکن اس نے شاید سوچا کہ ایسی زندہ کائنات کی تخلیق زیادہ معنی خیز ہو گی جس میں ایسے وقوعات رونما ہوں جو اس کے خالق کے لیے بھی غیر متوقع ہوں۔

مابعد الطبیعیاتی جبریت پر انیسویں صدی میں لاپلاس( Laplace ) نے سائنسی جبریت کااضافہ کرکے نیوٹن کی میکانکی کائنات کے تصور کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ سائنسی جبریت کا نظریہ مابعد الطبیعیاتی نظریہ پر دعوائے علم کا اضافہ کر دیتا ہے۔ اس کی رو سے متعین اور مقدر مستقبل کا پیشگی علم حاصل کرنے پر کوئی اصولی قدغن عاید نہیں ہوتی۔ ہم موجود شواہد اور قوانین فطرت کی مدد سے آئندہ واقعات کا پیشگی علم حاصل کر سکتے ہیں۔ ہماری پیش گوئیوں میں اگرچہ عدم تعین کا عنصر عملاً شامل رہتا ہے لیکن سائنسی جبریت کا دعویٰ ہے کہ جیسے جیسے ابتدائی شرائط کا ہمارا علم ترقی کرتا جائے گا ہماری پیش گوئیاں بھی زیادہ سے زیادہ تعین اور درستگی کی حامل ہوتی چلی جائیں گی۔

ٓآئن سٹائن کے نظریہ اضافت کی جو تعبیر بالعموم اختیار کی گئی اور علامہ اقبال کے زمانے میں بہت معروف تھی، اس میں زمان کو مکان کے ایک بعد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ علامہ اقبال نے اس تعبیر کو قبول نہیں کیا کیونکہ اس کے نتیجے میں زمان اپنی واقعیت ( Actuality)سے محروم ہو جاتاتھا۔ اقبال کہتے ہیں:”مغربی ریاضیات میں اس وقت جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں ان کا حاصل تو یہ ہے کہ زمانہ کوئی حقیقت نہیں بلکہ مکان ہی کی ایک شکل ہے۔۔۔ آئن سٹائن کے نظریے میں زمانہ اپنی خصوصیت مرور کھو بیٹھتا اور ایک پراسرار طریق پر مکان ہی میں مدغم ہو جاتا ہے۔“ ( ص، 205)

اقبال کے تصور زمان و مکان پر ڈاکٹر رضی الدین صدیقی اور ڈاکٹر محمد سلیم کے بہت اہم مقالات شائع ہو چکے ہیں جن سے اس مسئلے کی بہت عمدہ وضاحت ہو جاتی ہے۔ البتہ ان دونوں مضامین میں یہ کہا گیا ہے کہ نظریہ اضافت نے جبریت کو رد کر دیا ہے۔ میرے علم و مطالعے کی حد تک یہ بات درست نہیں ہے۔ مغرب کے سائنس دانوں اور فلسفہ سائنس سے اشتغال رکھنے والے فلسفیوں کی اکثریت جبریت کے نظریے کی ہی قائل ہے۔ حتی کہ اب تو کوانٹم فزکس میں بھی ہائزن برگ کے اصول عدم تعین کو محض استعارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کچھ سائنس دانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انھوں نے ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز طے شدہ ہے، کسی عدم تعین کا اس میں کوئی امکان نہیں۔

 نظریہ اضافت کی مروجہ تعبیر سے اولاً وائٹ ہیڈ، برگساں اور بعد ازاں چند دوسرے لوگوں نے بھی اختلاف کیا ہے۔ پروفیسر میلیچ چاپک ( Milic Capek)نے اپنی کتب اور مقالات میںاس اختلافی نقطہ ءنظر کو بہ دلائل بیان کیا ہے۔ اقبال کی خاصیت اس باب میںیہ ہے کہ اعلیٰ ریاضی کا باقاعدہ علم نہ رکھنے کے باوجود انھوں نے مسئلے کو سمجھ لیا تھا اور اقلیتی رائے کے ساتھ چلنے کا حوصلہ پید ا کیا تھا۔ مستقبل کے غیر متعین اور غیر حقیقی ہونے کو بیان کرنے والے آج بھی اقلیت میں ہیں۔چاپک کے نزدیک زمان کو مکان میں تحویل کرنا نظریہ اضافت کی غلط تعبیر ہے۔ زمان کو مکان میں تحویل کرنے سے زمان حقیقی حرکت سے محروم ہو کر محض شعور و ادارک کی صفت بن جاتا ہے۔

چاپک کی رائے میں کونیات ( (Cosmologyکا موجودہ رجحان ، بالخصوص پھیلتی کائنات کا نظریہ، اس حقیقت کی طرف ایک اضافی اشارہ ہے کہ مکان تکوین ( Becoming) کا ایک پہلو ہے نہ کہ تکوین مکان کے ظرف میں رونما ہو رہی ہے۔ تکوین محض ایک شعوری اور ادراکی امر نہیں بلکہ ایک حقیقی واقعہ ہے۔ماضی اور مستقبل ہم عصر نہیں ہیں۔ اگر زمان کی حقیقت کا انکار کیا جائے تو یہ ہم عصر ہو جائیں گے۔ اگر دو واقعات زمانی بعد میں رونما ہوتے ہیں تو وہ کسی بھی فریم آف ریفرنس میں ہم عصر نہیں ہو سکتے۔

 اقبال نے بہت پہلے اسی تصور کو بیان کیا تھا۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اگر کائنات کے اس تصور کو مان لیا جائے تواس ”کے یہ معنی ہوں گے کہ کائنات کو جو کچھ بننا تھا بن چکی، مستقبل طے شدہ ہے اور حوادث کے اس سلسلے نے جو پہلے ہی سے متعین ہے اور جس میں اب کوئی تبدیلی ممکن نہیں، ایک بہتر اور برتر قسمت کی طرح اللہ تعالیٰ کی تخلیقی فعالیت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک مخصوص راستے پر ڈال دیا ہے۔“ (ص، 118)

لاک یونیورس میں تکوین کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ اس میں زمان کی حقیقی حرکت کا اثبات ممکن رہتا ہے۔ اس لیے برگساں نے کہا تھا کہ زمانیت اور وجوب ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ زمان کو حقیقی نہ ماننے سے یا جبریت لازم آئے گی یا دوسرا راستہ وہ ہے جسے غزالی نے اختیار کیا تھا۔ اس پر کمالی صاحب کی رائے قابل غور ہے: ”غزالی نے زمان کے حقیقی ہونے سے انکار کرکے دراصل تاریخ کے حقیقی ہونے سے انکار کیا تھا۔ سارے واقعات کا دار و مدار انھوں نے مشیت ایزدی کی ہر آن دخل اندازی پر قرار دیا تھا۔ چنانچہ ان کے افکار کے پھیلاؤ نے جس مسلم ذہن کی پرورش کی وہ تاریخی حقائق، اسباب و علل سے بے پروا تھا،ا س کی نظر ہمیشہ خدائی دخل اندازی کی منتظر رہتی تھی، وہ کرامتوں اور معجزوں کا ہر آن تقاضا کرتا تھا۔“ (ص 152)

علامہ اقبال نے اپنے تصور کائنات کی بنا جدید طبیعیات اور حیاتیات میں رونما ہونے والی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں پر استوار کی ہے۔ سکونی کائنات کا نظریہ رد ہو چکا تھا۔ اقبال نے وائٹ ہیڈ اور برگساں کی پیروی میں زمان-مکان کی اس حرکی تعبیر کو ترجیح دی تھی جو اس کے کھلے مستقبل کے تصورسے ہم آہنگ تھی۔

ہماری مابعد الطبیعیاتی فکر کا رجحان وحدت الوجود کی جانب رہا ہے جس میں کسی حرکت و تغیر یا تخلیق و تکوین کا کوئی امکان نہیں۔ اقبال کو چونکہ حرکت و تکوین کا نظریہ پسند تھا اس لیے اس نے برگساں اور وہائٹ ہیڈ کے نظریے کو سکونی تعبیر والے نظریے پر ترجیح دی ہے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اقبال کا فلسفہ Being کے بجائے Becomingکا فلسفہ ہے۔اسی حقیقت کو اس شعر میں بیان کرتے ہیں:

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکون

 اقبال میموریل لیکچر کا چوتھا حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6