تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ: اقبال کا ایک تاریخ ساز فکری کارنامہ (اقبال میموریل لیکچر)


انسان کا تصور

اہل مذہب ہوں یا آزاد خیال مفکرین، فلسفی ہوں یا سائنس دان، غالب اکثریت کا موقف یہی ہے کہ انسان مجبور محض ہے اور اس کی آزادی بس ایک واہمہ ہے۔ اہل مذہب نے خدا کے علم اور قدرت کو بنیاد بناتے ہوئے انسان کی حریت فکر و عمل سے انکار کیا ہے تو سائنس دانوں نے کائنات میں جاری علت و معلول کے میکانکی نظام کی بنا پر آزادی کی نفی کی ہے۔ جبر و قدر کے باب میں دنوں طرف کے دلائل بہت مشہور و معروف ہیں، اس لیے ان کے اعادے کی کوئی ضرورت نہیں۔

مذہبی اور فلسفیانہ دلائل سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر بنی نوع انسان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو جبر کے دلائل کے رد کا وافر سامان موجود ہے۔ انسان کی آزادی کا ثبوت اس کی ایجاد و اختراع کی صلاحیت ہے جو اسے دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہے۔ کتاب مقدس میں کہا گیا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اب خدا کی کوئی صورت تو ہے نہیں۔ مراد اس سے یہی ہے کہ انسان کو خدائی صفات، ارادہ و اختیار اور ایجاد و اختراع، سے حصہ دیا گیا ہے۔ انسان کے تہذیبی اور تمدنی سفر کی تاریخ کو دو جملوں میں بیان کیا جا سکتا ہے: اپنے تخیل کی قوت کو استعمال کرتے ہوئے درپیش مسائل کا جدت پر مبنی حل تلاش کرنا، دستیاب اور میسر سے مطمئن نہ ہونا اور اس کو بہتر اور موثر تر بنانے کی سعی و جہد کرنا۔

بندر ڈھائی کروڑ سال سے موجود ہیں اور ان میں بعض وہ خصائص موجود ہیں جو انسانوں کا خاصہ سمجھے جاتے ہیں، مثلاً لڑائی میں ڈنڈوں اور پتھروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بندروں نے کبھی ان ہتھیاروں کو ترقی نہیں دی، اور پتھر کا کلہاڑا بنانے کی کوشش نہیں کی۔ کروڑوں سال سے حیوانات ایک ہی طرح کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کے طرز زندگی میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

ابتدا میں شکار کے لیے انسان نے بھی ڈنڈوں اور پتھروں کا استعمال کیا۔ پتھر استعمال کرتے ہوئے کسی کو یہ خیال آیا ہو گا کہ ان گھڑ پتھر کو زیادہ موثر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اس نے اسے دھار دار بنا کر پتھر کا کلہاڑا بنا لیا۔ آج ہمارے لیے یہ تصور کرنا بھی شاید مشکل ہو کہ اس عظیم شخص نے یہ کارنامہ کس طرح انجام دیا ہو گا۔ مائیکل اینجلو کی پیدائش سے لاکھوں سال پہلے اس نے پتھر میں کلہاڑے کی شکل دیکھی ہو گی۔ اس پر سے فالتو پتھر کس طرح ہٹایا ہو گا، کیونکہ اسے آہنی اور مشینی اوزار میسر نہیں تھے۔ پتھر کا یہ کلہاڑا بنانا کتنا مشکل کام تھا اس کا اندازہ اس مثال سے کیا جا سکتا ہے۔

 چند دہائیاں پیشتر امریکہ کی برکلے یونیورسٹی میں بشریات کے شعبے میں سمسٹر کے آغاز پر پوری کلاس کے طلبہ کو پتھر دیے گئے جن سے انہوں نے پتھر کے کلہاڑے بنانے تھے۔ وہ کوئی ایسا اوزار استعمال نہیں کر سکتے تھے جو اس زمانے کے انسان کو میسر نہ تھا۔ پورا سمسٹر گزر گیا مگر کوئی طالب علم اس قدیمی کلہاڑے کے قریب بھی نہ پہنچ پایا۔

اپنے ثقافتی ارتقا کے مراحل میں انسان نے کتنے ہی سنگ ہائے میل عبور کیے ہیں۔ اس ارتقا کی بڑی جست زبان کی ایجاد ہے۔ ایک ایسا وقت آیا جب آوازوں نے باقاعدہ حروف کی شکل اختیار کی اور وہ معجزہ نمودار ہوا جسے زبان کا نام دیا جاتا ہے۔ انسان نے حیوان گنگ سے جب حیوان ناطق کے درجے پر ترقی کی تو اس کی دماغی کاوشوں میں کافی تیزی آ گئی۔اس کے بعد تحریر کی ایجاد نے ثقافتی ارتقا کی رفتار کو بہت بڑھا دیا۔

افسوس ہوتا ہے کہ انسان کی ایجاد و اختراع کی تاریخ کو نظر انداز کرتے ہوئے بہترین اذہان جبر کے حق میں دلائل وضع کرنے میں اپنی توانائیاں ضائع کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ نظریہ جبر کی ہمہ گیر ی کے علی الرغم جدید مغرب میں نشاة ثانیہ کی تحریک کے دوران میں آزاد اور خود مختار انسان کا ایک نیا تصور سامنے آیا جو انسانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا اور اسے روایت پسندوں نے خدا کے خلاف انسان کی بغاوت کا نام دیا۔ پندرھویں صدی کے اواخر [ 1486] میں اٹلی میں جووانی پیچو ( Giovanni Pico della Mirandola) نے شرف انسانی پر ایک خطاب ( Oration on the Dignity of Man) میں کہا:

[اے آدم]میں نے تمہیں نہ تو کوئی پیشگی طے شدہ مقام عطا کیا ہے، نہ کوئی خاص جہت،نہ کوئی اعلیٰ اعزاز کیونکہ تمہیں اپنی مرضی اور منشا سے ان کا اکتساب کرنا ہے۔ دیگر مخلوقات کی فطرت پر عاید پابندیاں میرے مقرر کردہ قوانین کی حدود میں ہیں۔ تمہیں اپنی فطرت کا خود تعین کرنا ہے کسی جبر و ا کراہ کے بغیر، اس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے جس کی استعداد میں نے تمہیں عطا کی ہے۔ میں نے تمہیں بنایا ہے نہ سماوی نہ ارضی، نہ فانی نہ لافانی، تاکہ ایک آزاد ا ور خود مختار کار سازکے مانند تم اپنے آپ کو اس صورت پر ڈھال سکو جس کو تم نے اپنے لیے خود پسند کیا ہو۔

”ایک آزاد ا ور خود مختار کار ساز“یہ ہے وہ تصور جو کانٹ سے لے کر بیسویں صدی کے ان تمام فلسفیوں میں مشترک ہے جو روشن خیالی کے فلسفے کے علم بردار ہیں۔ اس تصور نے اس دعوے کی جڑ بنیاد ہلا کر رکھ دی کہ انسان کوئی مخصوص فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ فطرت تو حیوانوں کے اندر ہوتی ہے اور وہ اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بھیڑیے ہمیشہ سے ایک ہی طرح کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور بھیڑوں کا وتیرہ بھی ہمیشہ سے ایک سا رہا ہے۔ نہ کسی بھیڑیے نے کبھی بھیڑ کا شعار اپنایا ہے اور نہ بھیڑ کبھی بھیڑیا بنی ہے۔ مگر انسان کے پاس ارادہ ہے اور انتخاب کی آزادی ہے اس لیے اسے اپنی راہ عمل کا تعین خود کرنا ہے اور اس کے نتائج و عواقب کا بھی سامنا کرنا ہے۔ قانون و اخلاق کا تعلق انسانی زندگی کے ساتھ ہے۔ خیر و شر ، نیکی بدی، رحم دلی اور سنگ دلی کے تصورات کا تعلق صرف اور صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص ہے، حیوانات یا نباتات و جمادات پر ان کا کوئی اطلاق ممکن نہیں۔

 اقبال کی فکر میں اسی تصور انسان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ وہ بھی اسے کار آفریں، کار کشا و کارساز قرار دیتا ہے اور کبھی خود گر، خود شکن، خود نگر کہتا ہے۔ مسلم فکر میں اس اعتبار سے اقبال کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے انسان کی تخلیقی آزادی کو بہت بلند آہنگ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اقبال کا خدا اور انسان دونوں ہی ہمہ وقت مصروف تخلیق ہیں۔ ہر آن فعال لما یرید خدا اپنی تخلیق میں اضافہ کر رہا ہے اور انسان بھی اپنے خلاقانہ جوہر دکھا رہا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسان خدا کا ہمکار بن جاتا ہے۔ انسانی زندگی تخلیق و جستجو سے عبارت ہے۔ حرکت زندگی ہے اور جمود موت کا نام ہے۔

اقبال کی یہ فکر ہے جس پر روایت پسند حلقوںسے صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے اور اس پر کفر کے فتاویٰ صادر کرتے رہتے ہیں۔ اقبال اس کے برعکس ملا کے مذہب کو نباتات و جمادات کا مذہب قرار دیتے ہیں۔ اسے تو وہ جنت بھی قبول نہیںجو آرزو اور جستجوسے تہی ہو:

گر نجات ما فراغ از جستجو ست

گور خوشتر از بہشت رنگ و بو ست

کائنات کی تخلیق خدا کے مقاصد کا محض میکانکی اظہار نہیں بلکہ اس نے ایسا ماحول تخلیق کیا ہے جس میں آزاد افراد اپنی آزادی کو ، گرچہ محدود ہی سہی، حقیقی معنوں میں بروئے کار لا سکیں۔

 

اقبال میموریل لیکچر کا پانچواں حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6