تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ: اقبال کا ایک تاریخ ساز فکری کارنامہ (اقبال میموریل لیکچر)


ختم نبوت اور عقل استقرائی

 مندرجہ بالا گفتگو سے چند نتائج مرتب ہوتے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اعادہ کر لیا جائے:

1۔ خدا کی ذات کائنات کی خالق ہے اور تخلیق کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

2۔ یہ کائنات ایک بڑھتی پھیلتی کائنات ہے جوکچھ اصول و ضوابط کی پابند منظم کائنات ہے لیکن اس میں تازہ بہ تازہ اور نو بہ نو حوادث رونما ہوتے رہتے ہیں۔

3۔ انسان اپنی تقدیر کا خود مالک ہے اور یہ اختیار اسے اس کے خالق کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔

اگر مذکورہ بالا تینوں مقدمات کو مان لیا جائے تو پھرعلم کے سفر کا بھی جاری و ساری رہنا تسلیم کرنا پڑے گا۔ چناںچہ تازہ واردات کو کہنہ تخیلات کی مدد سے سمجھنا اور بیان کرنا سود مند نہیں ہو گا۔ اس کائنات کی تفہیم، انسان کا خود شناسی کا سفر اور تازہ علم کی تخلیق و ا بداع ایک غیر اختتام پذیر حرکت ہو گی۔ عہد گزشتہ کے علمی تصورات نئے واقعات و حوادث کی تعبیر کرنے سے قاصر ہوں گے۔ علم کے اس سفر میں نئے تصورات و خیالات ہی جنم نہیں لیں گے بلکہ ان کی جانچ پرکھ کے لیے نئے پیمانے بھی وضع ہوتے رہیں گے۔ گزشتہ ڈیڑھ صدی کے عرصے میں ریاضی اور منطق میں ہونے والی ترقی تنقید فکر کے نئے پیمانوں کی تشکیل کا واضح ثبوت ہے۔

ختم نبوت کا تصور

اپنے ان حرکی تصورات کے مضمرات کا ادراک کرتے ہوئے اقبال نے ختم نبوت کا اثبات کرنے کے لیے جس دلیل کا سہارا لیا ہے وہ بہت معنی خیز ہے۔ اقبال کے نزدیک نبوت کی ضرورت اسی وقت تک تھی جب تک انسانیت عالم صغر سنی میں تھی۔ اسے زندگی بسر کرنے کے لیے سہاروں کی ضرورت تھی۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ ”اسلام میں نبوت اپنے ہی خاتمہ کی ضرورت کو جان لینے میں اپنے معراج کمال کو پہنچی ہے“۔ کیونکہ ”انسان ہمیشہ سہاروں پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ اب لازم ہے کہ انسان پوری خود شعوری کو حاصل کرنے کے لیے اپنے وسائل سے کام لے“۔

 اقبال ختم نبوت کی دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”بہ اعتبار سرچشمہ وحی کے آپ کا تعلق دنیائے قدیم سے ہے، لیکن بہ اعتبار اس کی روح کے آپ کا تعلق دنیائے جدید سے ہے“۔ (ص،193 )

اقبال کے استدلال سے پروفیسر عبدالقیوم صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے: ”اگر کوئی شخص۔ ۔۔خالی الذہن ہو کر اقبال کے تصور ختم نبوت کا ،جیسا کہ انھوں نے تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ میں بیان کیا ہے، مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اقبال کے خیال میں ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ عہد جدید میں انسان کی ہدایت کے لیے وحی کی جگہ عقل نے لے لی ہے تو وہ شخص ایسا کرنے کا مجاز ہو گا۔“ (خطبات بیاد اقبال ، جلد ، ص 120)

 اقبال نے انسان کے اپنے وسائل سے کام لینے کو عقل استقرائی کے ظہور کا نام دیا ہے: ”لہٰذا اسلام کا ظہور۔ ۔۔ عقل استقرائی کا ظہور ہے۔ اسلام میں نبوت چونکہ اپنے معراج کمال کو پہنچ گئی، لہٰذا اس کا خاتمہ ضروری ہو گیا۔ اسلام نے خوب سمجھ لیا تھا کہ انسان ہمیشہ سہاروں پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ اس کے شعور ذات کی تکمیل ہو گی تو یونہی کہ وہ خود اپنے وسائل سے کام لینا سیکھے“۔ ( ص، 193)

علامہ اقبال کے زمانے میں چونکہ اس بات کو بہت شدومد سے بیان کی جاتا تھا کہ سائنسی منہاج استقرا پر مبنی ہے ، اس لیے یہاں عقل استقرائی کے ظہور سے مراد ان کی یہی ہے کہ اب انسان اپنی عقل و تجربہ پر بھروسہ کرے گا یا دوسرے لفظوں میں علم و تحقیق میں سائنسی منہاج کو استعمال کرے گا۔

یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے کہ مختصراً اس طرز فکر پر بھی تبصرہ کر دیا جائے جو اس وقت رائج تھابلکہ آج بھی ہمارے ہاں بہت مقبول ہے۔ فکری معاملات پر آزادانہ غور و فکر اور مسائل کا حل ڈھونڈنے کی سعی کرنے کے بجائے دور جدید کے بہت سے تعلیم یافتہ مسلمان اس بحث میں پڑ گئے کہ فلاں اور فلاں علمی دریافت کا سہرا مسلمانوں کے سر ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ اقبال بھی اس سے پیچھا نہ چھڑا سکے۔ اس اولیت کا شرف حاصل کرنے کی خاطر اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ جان سٹوارٹ مل نے ارسطو کے قیاس کی شکل اول پر جو اعتراض وارد کیا ہے وہ کئی صدیاں پیشتر رازی بیان کر چکے تھے۔ معاملہ یہ ہے کہ ارسطو کے قیاس کی شکل اول منطقی اعتبار سے بالکل درست ہے اور اس کا منطقی ثبوت بھی موجود ہے۔ جن لوگوں نے اس پر دور کا اعتراض کیا ہے وہ منطقی استدلال کے بنیادی لازمے سے ہی واقف نہیں۔ اس بات میں فضیلت جتانے کا کون سا محل ہے کہ یہ لغو اعتراض مل نے نہیں بلکہ رازی نے وارد کیا تھا۔ اقبال کو آج یہ جان کر افسوس ہوتا کہ نہ منطق میں مل کے اعتراض کو کوئی وقعت دی جاتی ہے اور نہ کوئی سائنس دان آج یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سائنسی منہاج استقراپر مبنی ہے۔

 اس مقام پر اس سوال سے اعتنا کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اقبال ختم نبوت کے اس تصورکے منطقی مضمرات کا ادراک رکھتے تھے؟ یہ لازم نہیں کہ کوئی مفکر اپنے نظریات کے تمام مضمرات کا ادراک بھی رکھتا ہو۔ میرا خیال ہے کہ وہ اس تصور کے نتائج و عواقب سے بڑی حد تک آگاہ تھے لیکن وہ ان کو واضح طور پر بیان کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے۔ ان کے چھٹے خطبے کا عنوان بہت اہم ہے: اسلام کی ساخت میں اصول حرکت۔ خدا، کائنات اور انسان، تینوں کا حرکی تصور پیش کرنے اور وحی کو زمانہ ماضی سے متعلق قرار دینے کے بعد اس خطبے کا یہی عنوان ہونا چاہیے تھا لیکن مقام افسوس ہے کہ اس اصول کا ا ثبات اقبال نے اجتہاد کے ذریعے کرنے کی کوشش کی۔

 کیا اجتہاد زمانے کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ اجتہاد بھی ہماری روایتی فقہ کی ایک اصطلاح ہے اور اس کا مطلب نئی قانون سازی نہیں ہے بلکہ نئی پیش آمدہ صورت حال کا حل روایتی قوانین کی روشنی میں تلاش کرنا ہے۔علامہ اقبال کے تصور اجتہاد پر ڈاکٹر خالد مسعود صاحب نے جو کچھ لکھ دیا ہے میرا خیال ہے کہ وہ کافی ہے۔ انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ اقبال کیوں اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا ایک سبب انھوں نے یہ بیان کیا ہے:

 ”علامہ اقبال اور ان کے فکری ہم سفروں نے جو سوالات اٹھائے تھے اور اسلامی قانون کو جمود سے نکال کر حرکت و ترقی کی طرف لے چلنے کا جو عزم کیا تھا اس کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اس عمل کو جرات کے ساتھ آگے بھی جاری رکھتے۔ لیکن مذہبی طبقوں کی مخالفت کے اندیشے سے اور چند افراد کی تنقید سے دل برداشتہ ہو کر انھوں نے قدامت پسندی میںدوبارہ پناہ لے لی حالانکہ علامہ اقبال اس مقام پر تھے کہ لوگ قدامت پسندوں کی بجائے ان کی بات زیادہ سنتے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہی مقام نئی راہیں اختیار کر نے میں آڑے آیا ہو۔ کیونکہ علامہ عزت و شہرت کے اس مقام پر پہنچ چکے تھے کہ وہ شاید اسے قربان نہیں کرنا چاہتے تھے۔“ (اقبال کا تصور اجتہاد، ص 108)

ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کی بات درست ہو لیکن میرا تاثر کسی قدرمختلف ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مقام پر پہنچ کر اقبال پر اصلاح امت کا جذبہ غالب آ گیا تھا۔ بحیثیت شاعر اور فلسفی وہ افکارہ تازہ کی اہمیت کابخوبی ادراک رکھتے ہیں لیکن جب اصلاح قوم کا جذبہ غالب آتا ہے تو وہ فکر تازہ سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں کہ ان کی قوم اس کے نتیجے میں مزید ا نتشار و ا ختلال کا شکار نہ ہو جائے۔ چنانچہ وہ تقلید کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” در زمانہ ءانحطاط تقلیداز اجتہاد اولیٰ تر است“۔ مقام تعجب ہے کہ جو مرض کا سبب ہے اسے ہی علاج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ رفتگاں کی اقتدا انحطاط و زوال کا تدارک کرنے کے بجائے اس کی رفتار تیز تر کر دے گی۔

فکر خام کو پختہ کار کس طرح بنایا جا سکتا ہے؟ اس کا ایک ہی طریقہ ہے تنقید، تنقید اور مزید تنقید۔ ایک طرف خود یہ کہتے ہیں کہ جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود۔ اب افکار تازہ آسمان سے تو نازل نہیں ہوں گے، کہنہ اور موروثی افکار کے تجزیہ و تنقید سے ہی جنم لیں گے۔ اقبال نے سائنس کو فکر گستاخ کا بھی نام دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ فکر اگر گستاخ نہیں تو پھر وہ فکر ہی نہیں۔ یہ فکر گستاخ ہی ہے جو سوال اٹھانے کا حوصلہ رکھتی، مسلمات کو چیلنچ کرنے اور پامال راستوں کو ترک کرکے نئے جہانوں کو دریافت کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔جس طرح تیراکی پانی میں اترے بغیر نہیں سیکھی جا سکتی، اسی طرح فکر میں پختگی بے لاگ اور بے رحم تنقید کے اصولوں کی مسلسل مشق کے بغیر پیدا نہیں کی جا سکتی۔

چنانچہ مغرب میں جو فکری انقلاب برپا ہوا اس کی بنیاد تنقید فکر کے اسی تصور پر تھی کہ حصول علم میں انسان اپنے وسائل پر بھروسہ کرے گا اور ہر تصور، خیال اور نظریے کو تنقید کی سان پر چڑھا کر پرکھا جائے گا۔ کوئی تصور، مفروضہ اور نظریہ تنقید سے بالاتر نہیں ہو گا۔ اس خیال کو اگرچہ بہت صراحت کے ساتھ بیسیویں صدی میں بیان کیا گیا ہے لیکن جدید سائنسی انقلاب کے زمانے سے اس پر عمل ہو رہا تھا۔ گیلی لیو کا یہی کہنا تھا کہ خدا نے ہمیں عقل اس لیے عطا نہیں کی کہ جب اس کے استعمال کا موقع آئے تو اسے ایک طرف رکھ دیا جائے۔ یعنی خدا نے ہمیں عقل عطا کی ہے تو ہم اسے استعمال بھی کریں گے اور عقل کا بنیادی وظیفہ تنقید فکر ہے۔

سائنس محض مشاہدات و تجربات کو جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ وہ ایک علمی تحریک ہے جس نے علم کی ایک نئی اخلاقیات کو بھی جنم دیا ہے۔ اس کی اساسی اقدار اختلا ف رائے، مخالف نقطہ نظر کا احترام، سوال اٹھانے کی آزادی، برداشت، عقلی استدلال کو ترجیح اور منصفانہ انداز نظر شامل ہیں۔ اسی لیے کارل پوپر نے سائنس کو دور جدید کی عظیم ترین روحانی تحریک قرار دیا تھا۔

لازم ہو گا کہ یہاں فکر اور عمل کی آزادی کے مابین فرق کو واضح کر دیا جائے۔ عمل کی آزادی کے متعلق بہت درست بات کی گئی ہے کہ آپ کے عمل کی حد وہاں تک ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔ فکر کی آزادی پر یہ قدغن عائد نہیں کی جا سکتی کہ آپ کی آزادی وہاں تک ہے جہاں سے دوسرے کا عقیدہ شروع ہوتا ہے۔عمل کی آزادی قوانین کی پابندی میں مضمر ہوتی ہے لیکن فکر کی آزادی پر کوئی پابندی لگانا اس آزادی کے پر کاٹنے کے مترادف ہو گا۔

 اقبال کی ختم نبوت کی دلیل اصلاً کانٹ کے انسان کے خود مختاری کے تصور پر مبنی ہے۔ کانٹ کے تصورکی اساس روشن خیالی پر مبنی تھی جس کی اس نے وضاحت ان الفاظ میں کی تھی:

روشن خیالی انسان کی ازخود مسلط کردہ محکومی کی حالت سے رہائی پانے کا نام ہے۔ اس حالت کا سبب انسان کی نااہلی ہے کہ وہ اپنی عقل اور ذہانت کو کسی خارجی رہنمائی کے بغیر استعمال نہیں کرتا۔ محکومی کی حالت کو خود مسلط کردہ میںنے اس لیے کہا ہے کہ اس کا سبب ذہانت کا ناپید ہونا نہیں بلکہ رہنما کی مدد کے بغیر اسے استعمال کرنے کی جرات اور ارادے کا فقدان ہے۔ اپنی عقل کو بروئے کار لانے کی جرات پیدا کرو۔ روشن خیالی کا یہی نعرہ مستانہ ہے۔

روشن خیالی کی تحریک کے اس نتیجہ فکر کو کانٹ نے پوری قوت سے بیان کیا تھا کہ اب انسان کو علم حاصل کرنے کے لیے کسی خارجی مدد یا رہنمائی کی ضرورت نہیں۔ اب انسان کے ذہنی اور نفسیاتی قویٰ اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ وہ از خود ہر قسم کا علم حاصل کر سکتا ہے۔ اب مذہب کے وہی احکام قابل قبول اور قابل عمل ہو سکتے ہیں جو عقلی معیار پر پورا اترتے ہوں۔ چنانچہ جب کبھی ہمیں خدا کا کوئی حکم بتایا جائے گا تو ہم یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں : کیا یہ خدا کا حکم ہے؟ کیا یہ خدا کا حکم ہو سکتا ہے؟ جسے خدا کا حکم بتایا جا رہا ہے وہ خدا کے کسی اور حکم سے متصادم تو نہیں؟ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی حکم پر عمل کرنے کے بعد اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری عمل کرنے والے کی ہوتی ہے۔

اقبال نے اگرچہ انسان کی خودشعوری اور خود مختاری کو ختم نبوت کی دلیل بنایا ہے لیکن نبوت کے خاتمے کے بعد مسلم تاریخ میں حریت فکر کی کسی بڑی تحریک نے جنم نہیں لیا۔ مسلمان بالعموم تقلید کو ہی ترجیح دیتے رہے ہیں۔ علوم اوائل کے ساتھ بھی یہ معاملہ رہا کہ کسی نہ کسی اتھارٹی کی پیروی ہی کی جاتی رہی ہے۔ ہیلانی فلسفے کے نظام فکر کو، بالخصوص ارسطو کو، کوئی شخص چیلنج نہیں کر سکا تھا۔ ابن تیمیہ وغیرہ نے اس نظام فکر میں پائی جانے والی کمزوریوں کی مناظرانہ نشان دہی ضرور کی تھی لیکن وہ کوئی متبادل تجویز کرنے میں ناکام رہے تھے۔

اقبال جب ختم نبوت کے اس تصور تک پہنچ گئے تھے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ مسلمانوں کی مذہبی روایت کا اسی جرات کے ساتھ جائزہ لیتے جس طرح سپائی نوزا نے یہودیت کی مذہبی روایت کی چھان پھٹک کی تھی۔ اے کاش وہ اس کے مضمرات کو بیان کرنے کے لیے سپائی نوزا کی طرح کوئی Tractatus Theologico-Philosophicus تحریر کرتے۔ خیر اگر یہ کام اقبال نے نہیں کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال کے بعد آنے والوں کی ذمہ داری ختم ہو گئی ہے۔

 اقبال میموریل لیکچر کا چھٹا حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6