بلیک مارکیٹ کے روشن پہلو
پھاٹک مفتی والاں میں جہاں کہ اخبار ”ریاست“ کا دفتر تھا، اس بلڈنگ میں ایک کمرہ باہر ڈیوڑھی کے پاس ہے، جس میں گرمیوں کے زمانہ میرا دفتر ہوا کرتا۔ کیونکہ اوپر کی منزل میں گرمی ناقابل برداشت ہوتی، میں گرمیوں میں تو دن بھر اس کمرہ میں اور رہتا، مگر سردیوں کے موسم میں اس کے اندر دوسرا سامان رکھ دیا جاتا۔ اور اگر کسی شخص کو چند روز کے لئے ضرورت ہوتی، یا زیادہ دن رہنے والا مہمان آتا، تو اس کمرہ میں ہی اس کا انتظام دیا جاتا۔
چنانچہ چند برس ہوئے، برسات زیادہ ہوئی، تو پڑوس کے ایک مسلمان کے مکان کی چھت گر گئی۔ اس بیچارے کے پاس رہنے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی، تو یہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر اس کمرہ میں ہی آ گیا، اور اس میں دو ماہ کے قریب رہا، جب تک کہ برسات ختم ہونے کے بعد اس مکان کی مرمت نہ ہو گئی۔ سردیوں کے دنوں میں اس کمرہ میں صرف سامان رکھا تھا، کہ میرے پڑوس کے ایک صاحب جو موسیقار ہیں، تشریف لائے، اور آپ نے فرمایا، کہ ان کے ایک دوست تبدیل ہو کر شملہ سے آئے ہیں، اور ان کو رہائش کی وقت ہے، باہر کا یہ کمرہ ان کو چند روز کے لئے دے جائے۔
میں نے پوچھا، کہ :۔
وہ اکیلے ہیں، یا بیوی بچوں کے ساتھ ہیں؟ ”
اس موسیقار نے بتایا کہ :۔
” وہ فی الحال اکیلے ہی ہیں، مکان ملنے پر وہ اپنے بیوی بچوں کو شملہ سے لے آئیں گے“۔
یہ سن کر میں نے کہا، کہ :۔
” ان کے رہنے کے لئے میں ایک دوسرے کمرہ میں انتظام کر دیتا ہوں، جہاں کہ ایک اور دوست مقیم ہیں۔ آپ ان سے کہئے، کہ وہ اپنا سامان یعنی ٹرنک بسترہ لے آئیں“۔
میرا یہ جواب سن کر ان موسیقار نے کہا، کہ :۔
” باہر کا کمرہ دے دیجئے، اور وہ اس کا کرایہ دیں گے“۔
میں نے جواب دیا، کہ :۔
” کرایہ کا کوئی سوال ہی نہیں، اور نہ میں نے آج تک کوئی کمرہ کسی کو کرایہ پر دیا، کیونکہ اس کو قانوناً اور اخلاقاً دونوں صورتوں میں جرم سمجھتا ہوں اور باہر والے اس کمرہ میں کاغذ کے سینکڑوں رم پڑے ہیں۔ میں دوسرے کمرہ میں آپ کے دوست کی رہائش کے لئے انتظام کر دیتا ہوں، اور جب وہ کسی دوسرے مکان کا انتظام کر لیں تو وہاں چلے جائیں۔ “
میرے اس کہنے پر بھی وہ بار بار باہر کا کمرہ چاہتے تھے، اور کرایہ پر دینے کے لئے زور دے رہے تھے حیران، کہ ان کے دوست کو بغیر کرایہ چند روز رہائش کے لئے جگہ دے رہا ہو ں، مگر یہ اس سے انکار کر رہے ہیں، اور کرایہ پر باہر کا کمرہ لینا چاہتے ہیں۔ میں نے جب اس موسیقار کے ایک پڑوسی سے کرید کر پوچھا، تو پتہ چلا، کہ اس موسیقار کی سکیم یہ تھی، کہ :۔
” وہ اس کمرہ پر قبضہ کر کے کسٹوڈین کے دفتر سے اس کمرہ کو اپنے نام الاٹ کرا لے، اور وہاں یہ موسیقی کا سکول جاری کرے“۔
میں نے اس شخص کی نیت کے متعلق جب یہ سنا، تو حیران رہ گیا، کیونکہ پبلک میں کریکٹر کی اس کمزوری کے پیدا ہونے کی وجہ صرف بلیک مارکیٹ تھی۔ میرے محلہ میں ایک صاحب تبادلہ آبادی سے پہلے کے آباد تھے، جن کا اصلی وطن ملتان تھا۔ تبادلہ آبادی کے سلسلہ میں جب پاکستان کے علاقہ سے ہندوستان آئے، تو ان کو جہاں سر چھپانے کو جگہ ملی، وہاں چلے گئے۔ دہلی میں پنجاب کے رہنے والوں نے بھی نئے آنے والے شرنار تھیوں کی بہت امداد کی۔
ملتان کے یہ صاحب اس محلہ میں پچیّس برس سے رہتے تھے۔ ان کے ایک دوست جب تبادلہ آبادی کے سلسلہ میں دہلی آئے، تو انہوں نے اپنے اس دوست کے لئے اوپر کی منزل میں ایک کمرہ عارضی طور پر خالی کر دیا، تاکہ جب تک یہ اپنا کوئی دوسرا انتظام نہ کرلیں، وہاں رہ سکیں، اور یہ پریشانی کا شکار نہ ہوں۔ بغیر کسی کرایہ کے ا ن کے دوست کو اس کمرہ میں رہتے ہوئے ایک عرصہ ہو گیا، تو ایک روز کسٹوڈین کے دفتر سے مالک مکان کے نام حکم پہنچا، کہ اوپر کا وہ کمرہ جس میں ان کا دوست رہتا ہے، رہائش رکھنے والے کے نام الاٹ کر دیا گیا ہے۔
مالک مکان اس حکم کو دیکھ کر حیران، کہ وہ کمرہ صرف ان کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے بغیر کرایہ دیا گیا، اور اب سرکاری طور پر ان کا قبضہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ، مالک مکان نے کسٹوڈین کے دفتر میں جا کر پتہ کیا، تو معلوم ہوا، کہ ان کے دوست نے یہ دیکھ کر کمرہ کو الاٹ کرنے کی درخواست دی، کہ یہ دس روپیہ ماہوار کرایہ دیتا ہے۔ مالک مکان کو اس کمرہ کی ضرورت نہیں، اس لئے یہ کمرہ اس کے نام الاٹ کر دیا جائے۔ یعنی بلیک مارکیٹ اور مکانات کی دقت نے دوستوں کے لئے دوستوں کو بھی سانپ اور غدار دیا، اور احسان شناسی کی جگہ احسان فراموشی نے حاصل کر لی۔
بلیک مارکیٹ اور سمگلنگ کے سلسلہ میں کراچی کا ایک دلچسپ واقعہ بھی سن لیں۔ میں پچھلے سال پاکستان گیا، تو چار روز کراچی میں رہا۔ دہلی میں پاکستا ن کی سمگلنگ کے بہت قصے سنا کرتا تھا، کہ اتنے من سونا پکڑا گیا، اتنے لاکھ کی گھڑیوں پر پولیس نے قبضہ کیا، اور جو گھڑی دہلی میں چار سو روپیہ میں ملتی ہے، وہ پاکستان میں سمگلروں کے ذریعہ ڈیڑھ سو روپیہ میں مل سکتی ہے۔ کیونکہ سمگلر سمندر کے راستہ بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے کروڑوں روپیہ کا مال کویت وغیرہ عرب ممالک سے پاکستان لاتے ہیں، کراچی پہنچنے کے بعد میں نے دوسرے روز ایک دوست سے کہا، کہ وہ کسی سمگلر کو میرے پاس لائیں، میں اس سے سمگلنگ کے متعلق، بات چیت کر کے معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
چنانچہ وہ دوست ایک سمگلر کو یہ کہہ کر میرے پاس لائے، کہ ایک بیو پاری چند ہزار روپیہ کی گھڑیاں خریدنا چاہتا ہے۔ یہ سمگلر معہ ایک درجن کے قریب مختلف قسم کی قیمتی گھڑیوں کے تشریف لائے۔ ان سے بات چیت ہوئی، اور گھڑیوں کو دیکھا، تو معلوم ہوا، کہ فوجی حکومت کے باعث ان کے مال کی قیمتیں بہت چڑھ گئی ہیں اور ان ”بیچاروں“ کا کاربار بھی ٹھپ ہے۔ چنانچہ ایک گھڑی کے متعلق میں نے دریافت کیا، تو معلوم ہوا، کہ اس گھڑی کی قیمت فوجی حکومت سے پہلے ڈیڑھ سو روپیہ تھی، اب اس کی قیمت تین سو روپیہ ہے، اور یہ گھڑی ہندوستان کے بازاروں میں ساڑھے تین سو روپیہ میں ملتی ہے۔ میں نے اس سے اور دوسری گھڑیوں کے موجودہ مارکیٹ ریٹ معلوم کیے، تو میں نے اس سمگلر سے ( چونکہ میں نے کوئی گھڑی خریدنی نہ تھی، اور سمگلنگ کے متعلق صرف معلومات حاصل کرنی تھیں ) کہا، کہ :۔
” میں تو اس خیال میں تھا، کہ جو گھڑی مارشل لاء سے پہلے ڈیڑھ سو روپیہ میں ملتی تھی، وہ اب بھی ڈیڑھ سو روپیہ میں ملے گی“۔
تو میرے اس کہنے پر اس سمگلر نے بہت ہی دلچسپ جواب دیا۔ اس نے کہا، کہ :۔
” جناب وہ زمانہ چلا گیا، جب یہ گھڑی ڈیڑھ سو روپیہ میں مل سکتی تھی۔ اب تو مارشل لاء کا زمانہ ہے۔ لاکھوں روپیہ کا مال ضبط ہو جاتا ہے، اور اس کے علاوہ اگر گرفتاری ہو، تو مارشل لاء کی عدالتیں سات سال سے کم عرصہ کے لئے جیل خانہ میں نہیں بھیجتیں۔ آپ خود ہی خیال کیجیے، کہ اتنے بڑے خطرہ کی صورت میں اب ہم یہ گھڑی ڈیڑھ سو روپیہ میں کیسے دے سکتے ہیں“۔
اس سمگلر کا یہ بیان سن کر میں نے مسکراتے ہوئے مذاقاً اس نے کہا :۔
” گویا کہ مارشل لاء کے خطرہ کے باعث آپ نے ڈیڑھ سو روپیہ کی گھڑی پر ڈیڑھ سو روپیہ انشورنس فیس زیادہ کر لی ہے، اور اس انشورنس فیس کو شامل کر کے آپ یہ گھڑی اب تین سو روپیہ میں فروخت کرتے ہیں“۔
میرے اس جواب پر یہ سمگلر بھی ہنس پڑا اور چلا گیا۔ کیونکہ اس نے سمجھ لیا، کہ ہندوستان کا یہ سکھ تاجر مال کی زیادہ قیمت ادا نہیں کر سکتا، اور یہ مارشل لاء کے زمانہ سے پہلے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
ان چند واقعات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے، بلیک مارکیٹ اور سمگلنگ نے ہندوستان اور پاکستان کی پبلک کے کریکٹر پر کیا اثر کیا۔ اور یہ خلاف توقع نہ ہو گا، اگر کریکٹر کی یہ گراوٹ دونوں ممالک میں ایک دوامی حیثیت حاصل کر لے، کیونکہ اب تک نہ تو ہندوستان میں کانگرس گورنمنٹ لوگوں کے کریکٹر کو بلند لے جا سکی، اور نہ پاکستان کے مارشل لاء کا ہنٹر ہی وہاں کی پبلک کو مستقل طور پر بلند لے جا سکا۔ اور اس ہنٹر کا کچھ مفید اثر ہوا، تو صرف اس زمانہ تک کے لئے عارضی صورت میں، جب تک کہ سختی جاری رہی۔
کتاب ”سیف و قلم“ سے اقتباس

