بلیک مارکیٹ کے روشن پہلو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1942 ء میں جب مہاتما گاندھی اور کانگرسی لیڈر گرفتار ہوئے، تو اس سے پہلے نہ تو ہندوستان میں زیادہ گرانی تھی، اور نہ بلیک مارکیٹ۔ کانگرسی لیڈروں کے گرفتار ہوتے ہی بازار میں ہر شے کی قیمتیں چڑھ گئیں، اور بلیک مارکیٹ کا زور ہو گیا۔ میں بھی کانگرسی اصحاب کے ساتھ گرفتار ہوا تھا۔ حالانکہ میں نہ کبھی کا نگرسی تھا، اور نہ اب کانگرسی ہوں۔ صرف ایک بار مرحوم مولانا عارف ہسوی مجھ سے چار آنہ کانگرس کی۔ ممبری کے چندہ نام پر لے گئے تھے۔

میں اگست 1942 ء میں گرفتار ہوا، اور 1943 ء کے آخر میں نظر بندی سے رہا کیا گیا۔ اس رہائی کے بعد میں نے دیکھا، کہ دہلی کا نقشہ ہی بدلا ہوا ہے۔ ہر شے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہے، اور کوئی مکان بھی بغیر ”پگڑی“ ( یعنی مکان کرایہ پر لو، تو کرایہ کے علاوہ چند سو یا ہزار روپیہ بغیر لکھت پڑھت کے بطور رشوت دو ) نہیں مل سکتا۔ اس زمانہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے ملا واحدی صاحب ایڈیٹر ”نظام المشائخ“ نے ایک واقعہ لکھا :۔

آپ کشمیری دروازہ جا رہے تھے، تو ایک لالہ جی نے ایک ٹانگے والے سے پوچھا، کہ :۔
” چاندنی چوک چھوڑنے کا کرایہ کیا لو گے؟ “

ٹانگے والے نے جواب دیا :۔
” ایک روپیہ“۔

تو لالہ جی نے کہا، کہ ”۔
” میو نسپل کمیٹی کے مقررکیے ہوئے ریٹ کے مطابق تو کرایہ بارہ آنہ گھنٹہ ہے، تم چاندنی چوک چھوڑنے کا ایک روپیہ طلب کیسے کرتے ہو؟ “

اس کے جواب میں ٹانگے والے نے جواب دیا :۔
” لالہ جی! گھوڑے کا چارہ اور دانہ بھی تو بلیک مارکیٹ میں خریدتا ہوں، اگر میں نے ٹانگہ کا کرایہ بلیک میں طلب کر لیا، تو کیا غضب ہو گیا“۔

واحدی صاحب نے منظر کو دیکھ کر اپنے رسالہ میں ایک مضمون لکھا تھا، جس میں یہ شکایت کی گئی تھی، کہ :۔
” بڑے لوگ لاکھو ں روپیہ بلیک مارکیٹ کے ذریعہ پیدا کر رہے ہیں، اگر غریب بھی بلیک مارکیٹ میں چند پیسے زیادہ لیں، تو یہ جرم قابل معافی قرار دینا چاہیے“۔

میری نظر بندی کے زمانہ میں سٹاف کے بعض لوگ دفتر کا ہزار ہا روپیہ تغلب کر کے دہلی چھوڑ گئے تھے اور یہ خیال کرتے ہوئے، کہ جب تک جنگ جاری ہے، میں رہا نہ ہوں گا، اور نہ معلوم کتنے برس نظر بند رہوں، شیخ احسان الحق مرحوم نے میرا رہائشی مکان مالک کو واپس کر دیا۔ اور دو گیراج لے کر تمام سامان اس میں بھر دیا گیا، تا کہ کرایہ کا بوجھ مجھ پر نہ پڑے۔ چنانچہ رہائی کے بعد میرے سامنے سب سے اہم سوال نیا مکان کرایہ پر لینے کا تھا، جہاں کہ میں رہ سکوں، اور اخبار کو پھر جاری کیا جائے۔

چند دوستوں نے مکان تلاش کرنا شروع کیا، تو معلوم ہوا کہ چند ہزار روپیہ ”پگڑی“ ادا کیے بغیر مکان کا ملنا ممکن نہیں۔ مگر میرے پاس ”پگڑی“ تو کیا، کرایہ پیشگی دینے کے لئے بھی روپیہ موجود نہ تھا۔ آخر محلہ گھڑیا میں ایک خالی مکان کا پتہ لگا۔ میں نے یہ، مکان جا کر دیکھا، تو معلوم ہوا، کہ یہ بہت بڑا مکان ہے۔ مکان کے اوپر کے اور پچھلے حصوں میں کئی لوگ آباد ہیں، اور سامنے کے تین چار بڑے کمرے خالی ہیں۔ میں نے ان کمروں کے خالی رہنے کی وجہ پوچھی، تو ایک پڑوسی نے مجھے بتایا، کہ :۔

” یہاں ایک غلط افواہ گرم ہے، کہ ان کمروں میں بھوت رہتے ہیں، اس لئے کوئی شخص ان کمروں کو کرایہ پر لینے کی جرات نہیں کرتا“۔

میں نے جب یہ سنا، تو میرے ذہن نے بھی بھوتوں کے خوف کا کچھ اثر محسوس کیا، کیونکہ میں بھوتوں کے وجود کا قائل ہوں۔ مگر کرتا بھی کیا، جب کہ دوسرا کوئی مکان چند ہزار روپیہ پگڑی کے بغیر نہ مل سکتا تھا، او ر میری جیب میں ایک سو روپیہ بھی نہ تھا۔ میں نے مالک مکان کے نمائندہ مسٹر سبزواری سے مذاقاً یہ کہہ کر مکان کرایہ پر لے لیا، کہ :۔

” میں بھی تو آخر والیان ریاست کے لئے بھوت ہوں۔ اور اگر ا ن کمروں میں بھوت رہتے بھی ہیں، تو بھوت ضرب بھوت صفر کے مطابق، میرے یہاں آنے پر بھوت ان کمروں کو چھوڑ جائیں گے“۔

چنانچہ میں نے کمرے پجاس روپیہ ماہوار کرایہ پر لے لئے، اور شرط یہ طے ہوئی، کہ مالک مکان مسٹر ادریس جو یو۔ پی میں انجینئر ہیں، اور جو عنقریب رٹیائر ہونے والے ہیں، رٹیائر ہو کر جب واپس دہلی آئیں گے، تو یہ کمرے ان کے لئے خالی کرنے ہو ں گے۔ یہ شرائط زبانی طے پائیں اور کرایہ نامہ بھی لکھا گیا، کیونکہ مسٹر ادریس کے نمائندہ کے دل میں میرے لئے عزت کے جذبات تھے، اور وہ میری زبان پر اعتبار کرتے تھے۔ کمروں کے کرایہ پر لینے کے بعد میں اپنا سامان لے آیا۔ تمام سامان کو درست کیا، ایک کمرہ میں رہائش اختیار کی۔ ایک کمرہ میں اپنا ذاتی دفتر رکھا، اور بڑا کمرہ سٹاف کے لوگوں کے لئے وقف کر دیا۔

مالک مکان مسٹر ادریس انجینئر کی ملازمت میں اگر ایک سال کا اضافہ نہ ہوتا، تو آپ میرے مکان لینے کے چھ ماہ بعد ریٹائر ہو جاتے۔ مگر آپ کی ملازمت میں ایک سال کا اضافہ ہو گیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا، کہ مجھے ان کمروں میں ڈیڑھ برس رہنے کا موقع مل گیا۔ ڈیڑھ برس کے بعد ادریس صاحب ملازمت سے علیحد ہ کر دیے گئے، اور آپ واپس دہلی پہنچ گئے۔ انجینئروں اور سنروں وغیرہ کے پاس عام طور پر بہت کافی فرنیچر ہوتا ہے، کیونکہ ان کی تحویل میں لکڑی کے گودام ہوتے ہیں، اور جتنا فرنیچر یہ چاہیں، بغیر ایک روپیہ صرف کیے بنواتے چلے جاتے ہیں۔ ادریس صاحب جب آئے، تو فرنیچر اور سامان کا مال گاڑی کا بھرا ہوا ڈبہ بھی ساتھ لائے۔ دہلی پہنچنے کے بعد میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے فرمایا، کہ :۔

” آپ کا قیام تو فی الحال ان کے کسی رشتہ دار کے ہاں ہے، کیونکہ بیوی بچے ساتھ تھے۔ سامان مال گودام میں پہنچ چکا ہے، اور اس سامان کے رکھنے کا سوال ہے“۔ انہوں نے جب یہ کہا، تو میں نے ان کے سامان کے لئے فوراً ہی ایک کمرہ خالی کر دیا، تاکہ ان کے سامان پر ڈیمرج نہ پڑے۔ یہ ٹھیلوں پر سامان لے آئے، اور انہوں نے اس بڑے کمرے میں اپنا سامان بھر دیا۔ سامان رکھنے کے بعد باتیں ہوئیں، تو انہوں نے فرمایا، کہ میں نے مکان لیتے وقت یہ وعدہ کیا تھا، کہ جب یہ ریٹائر ہونے کے بعد دہلی آئیں گے، تو کمرے خالی کر دیں گے۔ میں نے جواب دیا کہ :۔

” آپ اطمینان رکھیے، میں یہ کمرے چند روز میں خالی کر دوں گا، چاہے مجھے جمنا کے کنارے چھپروں میں بھی کیوں نہ رہنا پڑے“۔

میں ان کمروں کو چند روز میں ہی خالی کر دینے کا وعدہ کیا، اور کوئی دوسرا مکان تلاش کرنے پر آدمی مقرر کر دیے۔ دہلی میں مکانات کی بہت وقت تھی۔ کئی روز تلاش کرنے پر بھی کوئی مکان نہ ملا، تو مسٹر انور مالک رسالہ ”بانو“ نے مجھے سے کہا، کہ :۔
” جب تک کوئی مکان نہیں ملتا، یہ اپنے مکان کے چند کمرے میرے لئے خالی کر دیتے ہیں“۔

چنانچہ میں اپنا سامان انور صاحب کے مکان میں منتقل کرنے کا انتظام کر رہا تھا، تو معلوم ہوا، کہ ادریس صاحب چیف کمشنر سے ملے ہیں، اور آپ نے چیف کمشنر سے کہا ہے کہ :۔
” دیوان سنگھ تو کمرے خالی کر رہا ہے، مگر دوسرے لوگ کمرے خالی نہیں کرتے۔ اور چونکہ آپ ریٹائر ہو کر دہلی آگئے ہیں، اور ان کو اپنی رہائش کے لئے سرکاری طور پر باقی کمرے بھی حکماً خالی کرائے جائیں“۔

ادریس صاحب کی اس درخواست کو سن کر چیف کمشنر نے جواب دیا، کہ :۔
” چونکہ قانوناً کسی کرایہ دار کو مکان سے نکالا نہیں جا سکتا، اس لئے گورنمنٹ بے بس ہے، اور چیف کمشنر اس سلسلہ میں کچھ نہ کرنے کے لئے مجبور ہیں“۔

چیف کمشنر کے اس جواب کی اطلاع سن کر اس بلڈنگ میں رہنے والے ایک صاحب میرے پاس آئے، اور آپ نے میرے کان میں کہا، کہ :۔
” ادریس صاحب کو چیف کمشنر نے جواب دے دیا ہے، اور ادریس صاحب قانوناً مکان خالی نہیں کر سکتے، میں ان کمروں کو بھی خالی نہ کروں“۔

یہ سن کر میں نے جواب دیا، کہ :۔
” میں تو کمرے خالی کروں گا، چاہے مجھے کسی جنگل میں جھونپڑی بنا کر رہنا پڑے۔ کیونکہ میں قانون کے مقابلہ میں اخلاق، اور اپنی زبان کا زیادہ پابند ہوں“۔

چنانچہ میں نے یہ کمرے خالی کر دیے۔ ادریس صاحب نے پچیّس روپیہ کا چیک مجھے دے دیا، جو کہ یہ ان کے ذمہ باقی تھا، کیونکہ میں ہر ماہ کرایہ پیشی دیا کرتا، اور میں اپنا سامان انور صاحب کے مکان میں لے آیا۔ ادریس صاحب کے گھر کے لوگ بہت کافی تعداد میں تھے۔ اور میرے چھوڑنے والے کمرے ان کے لئے کافی نہ تھے۔ چنانچہ وہاں سے چلے آنے کے بعد ایک روز ادریس صاحب ملے، تو انہوں نے بتایا، کہ :۔

” ایک شخص نے پانچ سو روپیہ لے کر کمرہ خالی کیا، حالانکہ اس کمرہ کا کرایہ صرف پندرہ روپیہ ماہوار تھا“۔

یعنی اس کمرہ میں رہنے والے نے الٹا مالک مکان سے دو برس اور دس ماہ کا کرایہ وصول کر کے کمرہ خالی کیا ( بلیک مارکیٹ کی تجارت بھی کیسی دلچسپ ہے، کہ نہ صرف مکان کا کرایہ مکان دار کو ادا نہ کرو، بلکہ اس سے الٹا روپیہ وصول کر کے مکان خالی کیا جائے ) یہی حالت بعض دوسرے کرایہ داروں کی تھی، اور بعض نے تو قانون کی آڑ میں اب تک اپنے کمرے خالی نہیں کیے، حالانکہ مالک مکان کو ان کمروں کی سخت ضرورت تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon