خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات: کیا فسانہ؟ کیا حقیقت؟


ہراسانی کے حوالے سے اکثر اداروں میں باقاعدہ کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں جن کی سربراہ اکثر کوئی نہ کوئی خاتون ہوتی ہے تاہم یہ خاتون کس حد تک اپنا کام کرتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتی ہے یہ ایک الگ سوال ہے جس کا جواب ایسے عہدوں پر فائز خواتین ہی دے سکتی ہیں یا پھر وہ خواتین جن کو اس طرح کے کیسز کی وجہ سے اینٹی ہراسمنٹ سیل کی ان سربراہان سے ملنے کا موقع ملا ہو۔ اس حوالے سے ہم نے پاکستان کے چند معردف اداروں میں کام کرنے والی خواتین سے گفتگو کی جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہم سے اپنے تجربات شیئر کیے۔

شازیہ نامی ایک خاتون نے بتایا کہ ان کے ایک ساتھی ان سے اپنے۔ حصے کا کام بھی کرنے کو کہتے تھے جب انھوں نے ان کی بات پر عمل کرنے سے انکار کیا تو ان کو دھمکی دی گئی کہ ان کی شکایت ایچ آر میں کردی جائے گی جس کے بعد ان خاتون نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواد ہی ایچ میں اپنی شکایت پہنچادی جس کے بعد ایچ آر ہیڈ نے ان کو اینٹی ہراسمنٹ سیل کی انچارج، جوکہ ایک خاتون تھیں ان سے ملنے کا مشہورہ دیا۔ شازیہ مجبورا جاکر انچارج خاتون سے ملیں جنھوں نے ان کو نہایت میٹھے لہجے میں ان کو یہ کہا کہ یا تو وہ اپنی شکایت واپس لے لیں یا پھر جاب چھوڑنے کے لیے تیار ہوجائیں کیونکہ وہ خاتون چاہتے ہوئے بھی ان کی کمپلین پر کارروائی نہیں کرسکتیں کیونکہ جن کے خلاف شکایت ہے وہ ایک بڑے عہدے پر فائز آدمی کے قریبی رشتے دار ہیں۔

ہراسانی کے حوالے سے ایک اور واقعہ ایک نیوز چینل پر کام کرنے والی خاتون رپورٹر نے بتایا کہ ان کے باس ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھتے تھے بات بے بات تضحیک کا نشانہ بنایا جانا ان کا روٹین تھا جب انھوں نے شکایت کی تو کچھ عرصے کے لیے تو ان صاحب کا رویہ بہتر ہوا تاہم بعد میں ان کو معمولی سے بات کو وجہ بنا کر نوکری سے فارغ کردیا گیا۔

ایک خواتن نے اس حوالسے اپنا تجربہ شیئر کیا کہ ان کے باس ان سے بات بے بات بدتمیزی کرتے اور چیخنے کی و کوشش کرتے جب انھوں نے ا س بات کی شکایت ڈپارٹمنٹ ہیڈ سے کی تو ان کو یہ مشہورہ دیا گیا کہ امیڈیٹ باس سے معاملات خود ہی سدحارنے کی کوشش کرو۔

ایسے اور اس طرح کے نجانے کتنے ہی واقعات ہیں جن سے ہماری خواتین روز مرہ روٹین میں نبرد آزما ہوتی رہیتی ہیں تاہم ان واقعات کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ہر ادارہ برا نہیں ہر انسان برا نہیں۔ اسی ملک میں کئی ادارے ایسے بھی ہیں جہاں ناصرف ٖ اینٹی ہراسمنٹ سیل بے حد فعال ہے بلکہ ادارے کے مالکان بھی اس معاملے میں خواتین کو سپورٹ کرتے نظر آتے ہیں۔

تاہم انھیں معاملات کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ وہ خواتین جو کسی بھی حوالے سے ہراسانی کا شکار ہوکر یا وقتی طور پر صورتحال سے گھبرا کے وہ ادارہ یا جاب چھوڑ دیتی ہیں۔ ان خواتین کو مورد الزام ٹہرانا بھی قطعاً درست نہیں بعض اوقات انسان منفی چیزوں سے گھبرا کے وہ جگہ یا لوگ چھوڑ دیاتا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ قصووار ہے۔ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں اس وقت اس صورتحا ل سے نمٹنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ ہوسکتا ہے کہ آنے والے وقت میں ایسی خواتین خود میں حوصلہ پیدا کرکیں اور سچائی کو دنیا کے سامنے لے کر آئیں۔

یہاں ہم ان لوگوں کو بھی جو خواتین کسی بھی حوالے سے ہراساں کرنے کا باعث بنتے ہیں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نا وقت ایک سا رہتا ہے نہ انسان آج آپ کے پاس عہدہ ہے تعلقات ہیں آپ ہو سکتا ہے وقتی طور پر یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ جیت آپ کا مقدر بن گئی ہے مگر یاد رکھیں مکافات عمل بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ وہ نہ بھی ہو تو بھی دنیا کے بعد کی جزا و سزا سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ آخر میں ان خواتین کے نام ایک نظم جو معاشرے کی نا انصافیوں پر وقتی خاموشی اختیار کرتی ہیں مگر حوا کی یہ بیٹیاں اپنے اندر علم و عمل کا وہ طوفان چھپائے ہیں جو آج نہیں تو کل اس معاشرے کے سفاک کرداروں کو آئینہ دکھانے پلٹ کے ضرور آئے گا۔

ابھی یہ وقت بدلے گا
ابھی یہ ڈھنگ بدلے گا

ابھی کچھ سال ہونے دو
ابھی کچھ کام ہونے دو

ابھی ان کو بھی آنا ہے
ابھی دنیا کو بتانا ہے

کہ کبھی چپ چاپ جانا بھی
کسی کو کچھ نہ بتانا بھی

خوداپنے آپ میں کئی مفہوم رکھتا ہے
ہمیشہ سب کو سب کچھ بتانا ہی ضروری تو نہیں ہوتا

سمے کی تال پر ہر دم
پسند کا گیت گانا ہی ضروری تو نہیں ہوتا۔
ابھی نغمے ادھورے ہیں کہ جن کو وقت آنے پر۔

انھیں جاکر سنا نا ہے
ابھی کچھ سال ہونے دو
انھیں واپس تو آنے دو
کہ جن کے سچ کی آوازیں تمھیں اب بھی ستاتی ہیں

ابھی ان کو بھی آنا ہے
زمانے کو بتانا ہے
زرا وہ وقت آنے دو
ذرا وہ وقت آنے دو

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2