فیض احمد فیض سے فیاض الحسن چوہان تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 15
  •  

میں جب سکول کی ابتدائی کلاسوں میں تھا تو ہمارے گھر میں اس وقت تک فریج نہیں آیا تھا۔ ہماری پیاس کی مناسب تشفی کے لئے محلے کی مسجد کے کنوئیں سے پانی نکال کر گھڑے میں ڈال دیا جاتا۔ چھائوں میں رکھے اس گھڑے کا پانی بہت میٹھا اور فرحت بخش ہوتا تھا۔

گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں لیکن کھانا پروسنے سے قبل بازار سے برف منگوانا ضروری ہوجاتا۔ برف کے حصول کے لئے میری PRکلیدی کردار ادا کرتی۔میری اس ضمن میں اہمیت کی وجہ ہمارے محلے کا برف فروش تھا۔ وہ اچھو برف والے کے نام سے مشہور تھا۔

اس کی دوکان پر اس وقت بہت رش ہوتا۔مجھ پر نگاہ پڑتے ہی وہ برف کا ایک بڑا سا ٹکڑا بلاک سے الگ کرکے میرے حوالے کر دیتا اور مجھ سے اس کی قیمت بھی سرکے اشارے سے وصول نہ کرتا۔اس کا یہ عمل ہرگز خیراتی نہیں تھا۔

اچھو لاہور کے موچی دروازے میں منعقد ہوئے ہر جلسے کاسامع ہوتا تھا۔ روزانہ ایک اخبار بھی خریدتا۔ خود چٹا اَن پڑھ تھا۔ میں سکول کے لئے روانہ ہوتا تو اکثر مجھے روک کر خبروں کی سرخیاں سنتا اور اخبار لپیٹ کر اپنی گدی کے نیچے چھپا لیتا۔ کئی بار سہ پہر میں وہاں سے اخبار نکال کر مجھ سے خبروں کی تفصیل ہی نہیں،اداریے اور مضامین بھی تفصیل سے سنتا۔

کئی بار اسے کچھ مشکل الفاظ کے معانی بھی بتانا پڑتے۔ اس کی جانب سے ملے برف کے ٹکڑے درحقیقت خیرات نہیں میرے علم کا خراج تھے۔ وقت گزرگیا۔ میں کالج چلا گیا اور سوشلسٹ انقلابی ہوگیا۔

اچھو کا برف والا دھندا دریں اثناء فریجوں نے تباہ کردیا۔ اس کے بعد کریانے کی جو دوکان اس نے کھولی وہ چلی نہیں۔ بالآخر منڈی سے پھل خرید کر ریڑھی پر بیچنے کو مجبور ہوگیا۔ رزق حلال کمانے میں جتا رہا اور سیاست سے اپنی دلچسپی بھی برقرار رکھی۔ تھڑے پر ہوئے مباحث میں مگر ہمیشہ خاموشی اختیار رکھی۔ دوسروں کی باتیں غور سے سننے کی عادت اپنائے رکھی۔

ایک دن اس نے مجھے لاہور کے نسبت روڈ کے بشیر بختیار کے بنائے لیبر ہال میں ہوئی ایک تقریب کے بعد نکالے جلوس میں نعرے لگاتے دیکھا۔ وہ تقریب حسن ناصر کی یاد میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ صاحب بھارت کے حیدرآباد دکن کے ایک معزز و متمول خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔جوانی میں پاکستان آگئے اور ایسی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے جنہیں سرکار ہمیشہ ’’خطرناک‘‘ شمار کرتی ہے۔

ایوب خان کے لگائے مارشل لاء کے ابتدائی ایام میں انہیں اٹھا لیا گیا۔ ہمارے ہاں گزشتہ کئی برسوں سے مستعمل اصطلاح کے مطابق Missing Person ہوگئے۔کراچی سے لاہور کے مشہور زمانہ شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں لائے گئے اور تفتیش کے دوران پراسرار انداز میں مارے گئے۔

پنڈی سازش کیس کی وجہ سے مشہور ہوئے میجر اسحاق محمد نے ان کا مقدمہ عدالتوں میں اٹھاکر سچ دریافت کرنے کی بہت کوشش کی۔ حکومت کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے پائی۔ ترقی پسندوں کو ان کی موت کی وجہ سے مگرایک ہیرومل گیا۔ اچھو نے جس جلوس میں مجھے دیکھا وہاں ہم سینہ پھلا کر پرجوش آواز میں ’’حسن ناصر کا راستہ-ہمارا راستہ‘‘ کا نعرہ لگارہے تھے۔

شام ڈھلنے کے بعد جب میں گھرلوٹ رہا تھا تو اچھو ایک تھڑے پر اکیلا بیٹھا تھا۔ اس نے مجھے روک کر بہت اشتیاق سے جاننا چاہا کہ حسن ناصر کون تھا۔ میں نے بہت جوش سے اپنے انقلابی ہیرو کی داستان سنائی۔ وہ داستان مکمل ہوجانے کے بعد عموماََ خاموش طبع اچھو نے محض ایک فقرہ کہا ۔اس کا یک سطری مفہوم یہ تھا کہ ’’حسن ناصر کا راستہ-ہمارا راستہ‘‘ والا نعرہ بلند کرتے ہوئے مجھ جیسے انقلابی درحقیقت ’’گھروں ای مرن‘‘ نکلتے ہیں۔

اس کی دانش میں گویا اس نعرے سے شکست خوردہ ذہنیت آشکار ہوتی تھی۔’’منزل‘‘ پر پہنچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ سچی بات یہ بھی ہے کہ میرے پاس اس نعرے کے دفاع میں اچھو کو مطمئن کرنے والی کوئی مؤثر دلیل موجود نہیں تھی۔ وقت آگے بڑھ گیا۔ 80کی دہائی آ گئی۔ اس کے ابتدائی برسوں میں فیض صاحب کا انتقال ہو گیا۔

ان کے انتقال کے دو یا تین برس بعد لاہور میں فیض برسی کا اہتمام ہوا جہاں اقبال بانو کی گائی ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں مصروف ترقی پسندوں کے لئے رجز کی صورت اختیار کرگئی۔ اچھو سے مگر اس کے بعد میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ وگرنہ اسے بتاتا کہ ’’انقلابی‘‘ اب گھروں سے مرنے کے سفر پر روانہ نہیں ہوتے۔انہیں ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ والا اعتماد اور یقین محکم نصیب ہوگیا ہے۔

لاہور ہی میں گزشتہ ہفتے کے آخری دنوں میں ’’فیض میلہ‘‘ منعقد ہوا ہے۔ میں وہاں مدعو نہیں تھا ۔ ازخود جانے کا تردد بھی نہ کیا کیونکہ ’’اپنا یہ حال کہ …جی ہارچکے‘‘ والا معاملہ ہوچکا ہے۔ ’’محبت‘‘ جو ’’انداز پرانے‘‘ مانگتی ہے ان کے لئے دل ودماغ میں کوئی ہمت ہی موجود نہیں رہی۔

’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ والی رجز مگر وہ تصویر دیکھ کر بہت یاد آئی جس میں پنجاب کے وزیر اطلاعات وثقافت جناب فیاض الحسن چوہان صاحب اس میلے میں گلدستوں سمیت نظر آئے۔ محض تصویر دیکھنے کی وجہ سے اگرچہ میں یہ طے نہیں کر پایا کہ وہ یہ گلدستے فیض صاحب کے احترام میں لائے تھے یا ان کا مقصد فقط بھارت سے اس میلے میں خصوصاََ تشریف لائے جاویداختراور شبانہ اعظمیٰ کو وطنِ عزیز میں خوش آمدید کہنا تھا۔

وزیر اعظم چوہان صاحب کو ’’میرا چیتا‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ فیض میلے میں شریک لوگوں کی اکثریت مگر ان لوگوں پر مشتمل تھی جنہیں کپتان حقارت سے ’’خونی لبرلز‘‘ شمار کرتے ہیں۔ ’’چیتے‘‘ کا ’’خونی لبرلز‘‘ کی سجائی ایک محفل میں تشریف لاکرشبانہ عظمیٰ اور جاوید اختر کو گلدستے پیش کرنا میرے خوش گماں دل کے لئے ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ کا کچھ دیر کے لئے اثبات نظر آیا۔

جی کے خوش رکھنے کو ایک خیال میسر ہوگیا۔ اس خیال کی وجہ سے اس کالم کے لئے مواد بھی مل گیا۔ ذہن پر بوجھ ڈالے بغیر یہ کالم برجستہ مکمل ہوگیا۔میرے اندر موجود ’’جل ککڑے‘‘ نے ذرا غور کی ضرورت محسوس کی ہوتی تو شاید میرا جھکی ذہن یہ ثابت کرنے کو بھٹک جاتا کہ فیض احمد فیض Event Managementکے اس دور میں انقلاب یا تبدیلی وغیرہ کی علامت نہیں رہا۔

ایک پراڈکٹ (Product) برانڈ یا فیشن بن چکا ہے جسے مارکیٹ کیا جاتا ہے۔ فیض صاحب کے نواسے عدیل ہاشمی کو انقلاب یا تبدیلی کو مارکیٹ کرنے کا ڈھنگ بہت خوب آتا ہے۔ خدا اس کی عمر دراز کرے۔ تحریک انصاف کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ میں بھی اس کی صلاحیتوں نے گرانقدر حصہ ڈالا ہے۔

عمران خان صاحب کے ’’چیتے‘‘ کی سرپرستی میسر رہی تو فیض صاحب کی شاعری بھی تحریک انصاف کا ’’ثقافتی ورثہ‘‘ بن جائے گی۔ ابھی تک اس جماعت کے جوشیلے انقلابی فقط اقبالؔ ہی پر اٹکے ہوئے تھے۔ فیض کی صورت میں اب انہیں ایک اور انقلابی شاعر مل گیا ہے۔حبیب جالب کو شہباز شریف نے اُچک لیا تھا۔ ورنہ آئندہ کچھ برسوں میں شاید وہ بھی تحریک انصاف کے ہوجاتے۔

بشکریہ نوائے وقت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 15
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں