استحقاق اور ایمان


کینسر ہوگیا تھا ان کو۔ پھیپھڑوں کا کینسر۔ بائیوپسی کے بعد پیتھالوجسٹ نے یہی رپورٹ دی تھی۔ رپورٹ دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ اہل خانہ کواب بتانا ہوگا اور بہتر ہے کہ میں ہی بتاؤں۔ گذشتہ تین چار دنوں میں ان سے اور ان کی بیوی، بیٹی سے باتیں ہوتی رہی تھیں پھر پتہ چلا کہ وہ عامر کے والد ہیں۔ عامر میرے ساتھ ہی تھا کالج میں۔ ہم دونوں نے ساتھ ہی ایم بی بی ایس کیا، میں ڈاکٹر بن کر لندن چلاگیا جبکہ عامر امریکہ کا امتحان پاس کرکے وہاں چلا گیا تھا۔ پھر کچھ پتہ نہیں چلا۔ تین سو کی کلاس میں کون کہاں جاتا ہے، کسے پتہ لگتا ہے۔

وہ اپنی بیٹی کے ساتھ میری کلینک میں آئے تھے۔ کئی دنوں سے انہیں کھانسی تھی اور اب تو بلغم کے ساتھ خون بھی آجاتا تھا کبھی کبھی۔ پہلے تو انہوں نے کسی کو بتایا بھی نہیں مگر جب ایک دن کھانس کھانس کر بے حال ہوگئے تو ان کی بیوی نے بیٹی کو فون کرکے بتایا جو دوسرے دن ہی انہیں لے کر میرے پاس آگئی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ انہیں ٹی بی ہوگئی ہے۔ ان کے بڑے بھائی کا انتقال بھی ٹی بی کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔

وہ دبلے پتلے، سادھے سے آدمی تھے۔ گہرا سانولا رنگ، بڑی بڑی آنکھیں، سر پر گھنے سفید بال۔ ان کے چہرے پر سب سے زیادہ نمایاں ان کی آنکھیں اور ہونٹ تھے۔ دور سے ہی نظریں جیسے چمٹ جاتی تھیں۔ وہ خاکی رنگ کا پینٹ اور سفید قمیض پہنے ہوئے تھے۔ پینٹ اور قمیض دونوں ہی گھر کی دھلی ہوئی تھیں اور کسی نے گھر میں ہی استری کی تھی۔ پہلی نظر میں ہی وہ مجھے اچھے لگے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پہلی نظر میں ہی اچھے لگتے ہیں یا پھر ان سے نفرت سی ہوجاتی ہے۔ ان میں کوئی خاص کشش تھی کہ مجھے متاثر کرگئے تھے وہ۔

تفصیل سے ہسٹری لینے اور معائنہ کے بعد میرے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بج گئی کہ شاید انہیں کچھ خطرناک بیماری ہے۔ شاید کینسر۔ میں نے ان کی گھبرائی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھا، پھر سوچ میں پڑ گیا۔ اب کیا ہوگا؟ داخلہ، بلغم، خون کا ٹیسٹ، برونکو اسکوپی، ایکسرے، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، آپریشن، کیموتھریپی۔ یہ تو بڑا خرچ ہوجائے گا۔ کیسے کریں گے یہ لوگ۔ ٹیچر کی آمدنی ہوتی ہی کتنی ہے۔

وہ لانڈھی میں رہتے اور لانڈھی کے ہی گورنمنٹ سکنڈری اسکول میں پڑھاتے تھے۔ تین سال ہوئے وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد گھر پہ ہی ایک ٹیوشن سینٹر کھول لیا تھا انہوں نے۔

میں نے انہیں کاؤچ پر ہی لیٹے رہنے کو کہا اور ان کی بیٹی صائمہ کو لے کر اپنے کمرے میں آگیا۔ ”انہیں داخل کرنا پڑے گا۔ کچھ ٹیسٹ کرنے ہوں گے پھر فیصلہ ہوگا کہ کیا کرنا ہے۔ “ میں نے تشویش بھرے لہجے میں کہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

”ڈاکٹر صاحب، خیر تو ہے نا۔ ابو ٹھیک ہیں ناں؟ “ اس نے بہت پریشانی سے پوچھا تھا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھی۔

”نہیں، ٹھیک نہیں ہیں۔ سب کچھ ٹھیک نہیں۔ “ میں کبھی بھی مریضوں سے ان کی تشخیص اور ان کی حالت چھپاتا نہیں ہوں خاص طور پر مریضوں کے رشتہ داروں سے۔ یہ بہتر ہے کہ مریض کے رشتہ داروں کو پتہ ہو کہ مریض کو کیا مرض ہے اور اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ مریض کو بھی اندازہ ہو کہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے، اور اگر مریض کو کینسر وغیرہ ہو تو مریض کو یہ بتانا چاہیے کہ زندگی کتنی باقی ہے۔ مریض پریشان ضرور ہوتے ہیں، ڈپریس ہوجاتے ہیں۔ بعض دفعہ ڈاکٹرپر ہی ناراض ہونا شروع ہوجاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ بہت کم وقت کے لیے ہوتا ہے۔ جلد ہی وہ اپنے آپ میں واپس آجاتے ہیں۔ سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں اور اپنی باقی ماندہ زندگی کو پلان کر لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

”کیا ہوا ڈاکٹر صاحب انہیں خدانخواستہ، علاج تو ہو سکے گا ناں؟ “ اس نے روہانسی سی آواز میں پوچھا تھا۔ ”ٹھیک ہو جائیں گے ناں؟ “ اس کی آواز میں پریشانی بھری ہوئی تھی۔

”دیکھیں ایسا ہے کہ ابھی داخلہ ہوگا پھر کچھ ٹیسٹ کرائیں گے ہم لوگ۔ ہوسکتا ہے کہ سب کچھ صحیح نکل آئے مگر شاید کوئی خطرناک بات بھی ہوسکتی ہے۔ اس کا اندازہ ٹیسٹ وغیرہ کے بعد ہی ہوسکے گا۔ “

اسی وقت صائمہ نے مجھے بتایا کہ اس کا بھائی بھی ڈاکٹر ہے اور سندھ میڈیکل کالج سے پڑھ کر ڈاکٹربنا ہے۔ نام سنتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ عامر کی بات ہورہی ہے۔ ”ارے، وہ تو میری کلاس میں تھا بلکہ میرا دوست تھا، اچھا دوست لیکن ایسے بچھڑے ہم لوگ کہ پھر کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ ارے کہاں ہے وہ۔ “ میں نے بڑے اشتیاق سے پوچھا تھا۔

”وہ تو امریکہ میں ہیں۔ “ اس کی آواز کی اُداسی سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ اس کے امریکہ میں ہونے کے ساتھ ساتھ کوئی اور سلسلہ بھی ہے۔

پھر وہ آہستہ سے بولی تھی، ”ابو کو مت بتایے گا ڈاکٹر صاحب کہ میں نے آپ کو عامر بھائی کے بارے میں بتایا ہے۔ وہ نام نہیں سننا چاہتے ہیں بھائی کا۔ انہوں نے عاق کردیا ہے ان کو۔ بس آپ جو کچھ کرسکتے ہیں کریں۔ میں جاکر بتاتی ہوں انہیں کہ داخل کرنا ہوگا۔ “

یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی اور میں سوچتا رہا کہ نہ جانے کیا ہوا ہوگا باپ، بیٹے کے درمیان۔ عاق وغیرہ تو بڑے انتہائی اقدامات ہوتے ہیں۔

میں نے انہیں وارڈ کے سائڈ والے کمرے میں داخل کرلیا۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ باتھ روم کے ساتھ تھا۔ عام طور پر ہم لوگ ڈاکٹروں کے جاننے والے مریضوں کو اسی کمرے میں داخل کرتے تھے۔ جنرل وارڈ اور جنرل وارڈ کے ٹوائلٹ کا تو برا ہی حال تھا۔ سرکاری ہسپتالوں کا جو حشر ہے ویسا ہی حشر ہمارے وارڈ کا بھی تھا۔ میں نے خود ہی ان کے داخلے کا فارم بھرا اور ڈاکٹر شازیہ سے کہا کہ انہیں داخل کرلے اور جو ٹیسٹ لکھے ہیں ان کے کرانے کا انتظام کرلے۔

عام طور پر شام کو میں ہسپتال نہیں جاتا ہوں ویسے بھی سرکاری ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹر کہاں جاتے ہیں۔ بارہ ایک بجے کے بعد، صرف جونیئر ڈاکٹر ہوتے ہیں اور ان کی مرضی سے ہی ہسپتال چلتا ہے۔ اس دن میں اپنے کمرے میں نہ جانے کیسے ایک ضروری خط بھول کر آ گیا تھا۔ اپنی پرائیوٹ کلینک جانے سے پہلے شام تقریباً پانچ بجے میں نے سوچا کہ اپنے وارڈ سے وہ خط لیتا چلوں۔ وارڈ کے باہر ہی میں بے شمار لوگوں کو کھڑا دیکھ کر حیران ہوگیا۔

عام طور پر مریضوں سے ملنے کے وقت پر مجمع تو ہوتا ہے لیکن اتنے زیادہ لوگ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھے تھے۔ اپنے کمرے سے خط لے کر میں نرسوں کے کمرے کی طرف جاہی رہا تھا کہ ڈاکٹر شازیہ مل گئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ سارے لوگ میرے مریض سے ملنے آئے ہیں اور یہ ہجوم انہی لوگوں کا ہے۔ مجھے یاد آگیا کہ میں نے آج ایک مریض داخل کیا ہے۔ میں بھی انہیں دیکھنے چلا گیا تھا۔

ان کا کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ صائمہ اور اس کی ماں وہاں موجود تھے اور مجھے دیکھ کر حیران ہوگئے۔ میں نے خیریت پوچھی تو ماسٹر صاحب نے مسکراکر کہا ”ڈاکٹر صاحب خیریت کہاں ہے، سارے اسٹوڈنٹ مجھے دیکھنے آگئے ہیں جیسے میں مرنے والا ہوں۔ آپ بتادیں ڈاکٹر صاحب کہ سب خیر ہے تاکہ مزید نہ آئیں اور دو دن میں تو میں ویسے ہی گھر چلا جاؤں گا۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں