قائد اعظم یونیورسٹی سنہری دور سے تاریک دور تک


ایک زمانہ تھا جب اسلام آباد میں واقع قائداعظم یونیورسٹی کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا تھا۔ آخر وہ سنہری دور کیسے تاریک دور میں بدلا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اس تحریر کے آخر میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ پہلے چلتے ہیں اس فساد کی جانب جو کئی روز تک قائداعظم یونیورسٹی میں ہوتا رہا اور گزشتہ روز سنا ہے عارضی سیز فائر ہوگئی ہے۔ دو روز پہلے قائداعظم یونیورسٹی میں دو لسانی طلبا گروہوں کے درمیان تصادم ہوا جس سے درسگاہ میدان جنگ بنی رہی۔

اس لڑائی جھگڑے میں دس سے زائد طلبا زخمی ہوئے۔ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ اسٹودنٹس یونینز کے قائدین نے عارضی طور پر دونوں لسانی گروہوں کے درمیان صلح کرادی ہے۔ ادھر یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لسانی گروہوں سے وابستہ طلبا کے پاس اب بھی ڈنڈے اور اسلحہ وغیرہ موجود ہے۔ کبھی بھی ان کے درمیان دوبارہ تصادم ہوسکتا ہے جس سے تشویشناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے چیف کمشنراسلام آباد کو اس حوالے سے خط تحریر کیا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں اس وقت کافی تعداد میں رینجرز اور پولیس ہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔

پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کا اب سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں طالبعلم نہیں پڑھتے بلکہ سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی قسم کی مخلوق کا بسیرا ہے۔ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریاز اور کھوکھوں وغیرہ میں یہ پنجابی، بلوچ، پختون اور سندھی طالبعلموں کی علیحدہ علیحدہ بیٹھک ہوتی ہے۔ یہ تمام طالبعلم چوبیس گھنٹے لسانی گفتگو کرتے ہیں اور سب گروہوں کی بیٹھک میں ایک ہی بات چل رہی ہوتی ہے کہ کیسے مکمل طور پر یونیورسٹی میں ان کا مکمل کنٹرول قائم کیا جاسکتا ہے۔ کبھی کبھار بلوچ کی پنجابی کے ساتھ یا پختون کی سندھی یا پنجابی طالبعلم کے ساتھ تلخ کلامی ہوجاتی ہے اور بعد میں یہ تلخ کلامی لڑائی مار کٹائی تک پہنچ جاتی ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ درسگاہ میدان جنگ بن جاتی ہے۔

پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ابھی تک قومیت کا تصور پیدا نہیں ہوسکا۔ وہ ملک جو قومیت کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا وہاں ابھی تک قومیت کا وجود نہیں ہے۔ یونیورسٹی میں لسانی، صوبائی اور خاص مکتب فکر قسم کے گروپس ہیں۔ ایک خاص مکتب فکر یہی چاہتا ہے کہ تمام طالبعلم وہ کچھ کریں جو ان کا مکتب فکر کہتا ہے۔ وہ سوچیں جو وہ چاہتے ہیں۔ لسانی گروپوں کی خواہش ہے کہ ان کی طاقت اور حکومت ہو۔ یونیورسٹی کلاسیں لینے اور امتحانات دینے کا نام نہیں ہوتا ہے۔

یونیورسٹی صرف ڈگری لینے کے لئے نہیں ہوتی۔ یونیورسٹی میں صحت مندانہ علمی ماحول ہوتا ہے جہاں سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ بحث ومباحثہ کیا جاتا ہے اور تخلیقی رویے پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان کے طالبعلم یونیورسٹی میں پنجابی، بلوچ، سندھی، پختون، دیوبندی، بریلوی وغیرہ کا لیبل اپنے ماتھے پر سجاکر آتے ہیں۔ ان کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ وہ اچھے مارکس کے ساتھ ڈگری لیں۔ یہ اپروچ بزات خود بہت منفی اور خطرناک ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ یونیورسٹیوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ قائداعظم یونیورسٹی میں ایک ماہ سے وائس چانسلر نہیں ہے۔ جس وائس چانسلر کو تعینات کیا گیا تھا یونیورسٹی کے ٹیچرز نے اسے یونیورسٹی میں اپنے دفتر آنے نہیں دیا۔ سنا ہے اپنی ٹرم مکمل ہونے کے بعد وہ وائس چانسلر امریکا چلا گیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یونیورسٹی کے ٹیچرز درسگاہ میں کیسے رویے اختیارکیے ہوئے ہیں۔ اب یونیورسٹی انتظامیہ تمام معاملات دیکھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایچ ای سی کہاں ہے؟ ایچ ای سی نے ہی کردار ادا کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ خاموش ہے۔ یونیورسٹی کے ٹیچرز کے درمیان خود بڑے پیمانے پر کھینچا تانی چل رہی ہے۔ ٹیچرز کے کئی لسانی اور مکتب فکر قسم کے گروپس ہیں، ہر گروپ اپنا وائس چانسلر لانا چاہتا ہے۔

پنجابی ٹیچرز چاہتے ہیں کہ پنجابی وائس چانسلر تعینات ہوجائے، پختون، بلوچ ٹیچرز اور طالبعلموں کی کوشش ہے کہ ان کے گروہ کا وائس چانسلر تعینات ہوجائے۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں یہ کھینچا تانی چل رہی ہے جس سے ایچ ای سی بھی خاموش ہے اور حکومت پاکستان بھی چپ سادھے ہوئے ہے۔ یہ سب کچھ اس قائد اعظم یونیورسٹی میں ہورہا ہے جس کا شمار کبھی دنیا کی پہلی پانچ سو بہترین اور معیاری یونیورسٹیوں میں ہوتا تھا۔

قائداعظم یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور اسٹاف ایسوسی ایشن کے لوگ اپنے بچوں اور مکتب فکر کے لوگوں کو نواز رہے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے قائد اعظم یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے 900 طالبعلموں نے اپلائی کیا، ان میں سے 18 پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹس شارٹ لسٹ کیے گئے اور نوکری اس طالبعلم کوملی جس کا باپ اسی فیکلٹی میں پروفیسر تھا۔ کیا قائد اعظم یونیورسٹی میں اب لیکچرشپ اسے ملتی ہے جو اسٹاف ممبران اور سینڈیکیٹ بورڈ کے لوگوں کے مکتب فکر کا ہو؟ میرٹ کا کردار کہاں ہے؟ وہ میرٹ جس کا ذکر بار بار عمران خان کرتے نہیں تھکتے۔ ایک خاص تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک خاص صوبے کے لوگوں کو قائد اعظم یونیورسٹی میں لیکچرار کے لئے بھرتی کیا جاتا ہے۔

کیا بدقسمتی کی بات ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے اپنے مفادات ہیں۔ سینڈیکیٹ بورڈ کے اپنے مفادات ہیں اور اسٹاف ممبران کے اپنے مفادات ہیں۔ سب کے سب اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے لڑ رہے ہیں۔ طالبعلموں میں بھی یہی رویہ ہے کہ وہ پنجابی، پختون اور بلوچ ہیں یا پھر دیوبندی بریلوی ہیں اور اسی خاطر وہ اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے درسگاہ کو میدان جنگ بنادیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں علم کے لئے صحت مندانہ رویے کیسے پیدا ہوں گے۔ جب انتظامیہ میں ہی خرابی ہے تو کیسے درسگاہ کی نالج فیکلٹی ترقی کرسکتی ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کا سنہرا دور وآپس آسکتا ہے اس کے لئے ایمانداری، وژن اور میرٹ کے نظام کو لانے کی ضرورت ہے۔ درسگاہ میں سوال کرنے کی اجازت ہو۔ یہ جدید زمانہ ہے جس میں ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہاپنے دماغ سے خود سوچے اور کچھ نیا کرنے کا آرٹ تخلیق کرے۔ تعلیم کی بنیاد جب رٹے کے نظام پر رکھی جائے گی تو اسی طرح یونیورسٹیاں میدان جنگ بنی رہیں گی، علم و فکر کا سنٹر نہیں بن سکیں گی۔

Facebook Comments HS