عمران خان کو اپوزیشن سے خطرہ ہے یا اپنی نااہلی سے


پاکستان کے محترم وزیراعظم جناب عمران خان صاحب ملائیشیا میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ اپوزیشن پہلے دن سے انہیں اقتدار سے بے دخل کر نے کی خواہاں ہے۔ اب یہ ان کا گمان ہے، وہم ہے یا ان کے کسی قریبی ساتھی نے انہیں یہ باور کرایا ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ مگر خان صاحب نے کم و بیش وہی باتیں کہیں جو وہ اپنے ہر غیر ملکی دورے میں اپنے ملک میں کرپشن، منی لانڈرنگ اور مخالف قیادت کا اس کرپشن میں ملوث ہونے اور انہیں نشان عبرت بنانے کے بارے میں کرتے آئے ہیں۔ اسلم گورداسپوری نے شاید، خان صاحب جیسوں کے لئے ہی کہا ہے کہ ”پھرتے ہیں اپنے آپ میں ہم کیا بنے ہوئے۔ سارے جہاں کا ہم ہیں تماشا بنے ہوئے“

عمران خان صاحب جو محض چھ سات ووٹوں کی اکثریت کی بنیاد پر وفاق میں برسرِ اقتدار ہیں اسی طرح سے وہ پنجاب کے اقتدارِ اعلیٰ پر بھی قابض ہیں۔ اور یہی معمولی اور مصنوعی اکثریت انہیں اس وہم میں مبتلا کیے ہوئے ہے کہ اپوزیشن انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے پہلے دن سے سازشوں میں مصروف ہے۔ خان صاحب متحدہ قومی موومنٹ، بی اے پی، بی این پی مینگل سمیت مسلم لیگ ق اور جی ڈی اے کی حمایت کی وجہ سے برسرِ اقتدار ہیں، جن کے ساتھ خان صاحب نے مختلف نکات پر تحریری معاہدے کر کے اپنی حکومت کے لئے حمایت حاصل کی۔

لیکن محض ایک سو دن کی حکومت میں ان کا کوئی اتحادی ماسوائے جی ڈی اے اور چودہری برادران کے ان سے مطمئن نہیں ہیں۔ اختر مینگل وقت بوقت اپنے تحفظات اپنی شکایات کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ جو اسوقت بدترین ٹوٹ پھوٹ اور تنظیمی بدنظمی کا شکار ہے، وہ بھی گاہے بگاہے اپنی ناراضگیاں حکومت کے آگے بیان کرتی رہی ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی جن کے جام کمال بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ہیں اور وہ بلوچستان سمیت مرکز میں بھی تحریک انصاف کی اتحادی ہے وہ بھی حکومتوں کی تشکیل کے محض تین ماہ میں ہی اختلافات کا شکار نظر آرہی ہے، ان کے اندرونی خلفشار نے بھی شاید خان صاحب کو پریشان ہونے اور اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے پر مجبور کردیا ہے۔

چند روز پہلے اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر قدوس بزنجو نے حکومت بلوچستان اور اپنی پارٹی پر برستے ہوئے اپنے عہدے سے جلد مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے، اس دوران انہوں نے ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطہ کرکے ان سے مرکزی اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کے خلاف مدد اور حمایت مانگی تھی تاکہ دونوں حکومتوں کو فارغ کیا جا سکے۔ مگر دونوں اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے ان سے اس سلسلے میں معذرت کر لی ہے کیوں کہ ملک کے اکثر بڑے سیاسی تجزیہ نگاروں کی طرح راقم کا بھی خیال ہے کہ اتنی جلدی خان صاحب کی حکومت کے خاتمے کے خلاف کوئی بھی محاذ کھڑا کرنا ان کو نہ صرف مظلوم بناکے عوامی ہمدردی کی وجہ بنے گا بلکہ ان کی انتہائی تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت اور عوامی ساکھ کو سہارا مل جائے گا۔

حالات و واقعات واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ اپوزیشن کی کوئی بھی جماعت خان صاحب کی حکومت گرانے میں کم از کم اس وقت تک تو ہرگز دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ اپوزیشن تو چاہتی ہے کہ خان صاحب اپنے ہی وعدوں اور دعووں کے بوجھ تلے دب کر عوام میں مقبولیت کھو بیٹھیں، اور پھر ان کے خلاف عوامی حمایت سے کوئی بھی قدم سیاسی طور زیادہ فائدے مند ہوسکتا ہے۔ خان صاحب اپنے جارحانہ رویے اور بار بار چوروں ڈاکوؤں کے احتساب اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کا شور مچا کے شاید اپوزیشن کو دباؤ میں لاکر انہیں حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی مشکلات کھڑی کرنے یا احتجاج کے ذریعے انہیں غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے روکنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

مگر یہ حکمتِ عملی اور احتساب کے حوالے سے خان صاحب کی حکومت کے پہلے تین ماہ کے اقدامات احتساب سے زیادہ انتقامی نظر آ رہے ہیں۔ انہیں احتساب بلکہ کڑے احتساب کے اپنے دوٹوک مؤقف پر عوامی مینڈیٹ ملا ہے جس کا وہ اپنی ہر تقریر میں برملا اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں، مگر تین ماہ میں تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے حوالے سے سوائے لفاظی کرنے اور شور مچانے کے اور اپوزیشن کے خلاف احتساب کے نام پر انتقام کا تاثر قائم کرنے کے، کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا پائی ہے۔

خان صاحب ملک کی انتہائی مخدوش معاشی صورتحال کو بدلنے کے لئے بھی اپنے دعوؤں اور وعدوں کے مطابق کوئی اہم کامیابی ابھی تک حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات اور آئی ایم ایف سے ابھی تک کوئی خاطر خواہ بیل آؤٹ پیکیج نہیں مل سکا ہے جو ان کے سیاسی دعووں اور وعدوں کی عکاسی کرنے میں ان کا مددگار ثابت ہو سکے۔ اوپر سے خود وزیراعظم اور ان کے اہم رفقاء کار کے غیر سیاسی، غیر سنجیدہ رویے ملک کے سیاسی حالات پر خان صاحب کی گرفت کو مسلسل کمزور بنا رہے ہیں۔

خان صاحب کو کرپشن کے خلاف سخت بلکہ سخت ترین اقدامات کرنے چاہئیں اور ملک کی اپوزیشن بھی ان کے اس مؤقف پر ان کے ساتھ کھڑی ہے مگر حکومتی اقدامات بلا امتیاز اور غیر جانبدارانہ ہونے چاہئیں، خان صاحب کی جانب سے غیر ملکی دوروں میں اپنے ملک کے اندورنی معاملات اور سیاسی صورتحال پر غیر ملکی میڈیا کے سامنے کرپشن، منی لانڈرنگ، بیڈ گورننس کی دہائیاں جہاں ملک کی ہتک اور ہذمیت کا باعث بن رہی ہیں وہیں ان کی اپنی سیاسی ساکھ اور عوامی مقبولیت کو دھچکا بھی پہنچ رہا ہے، مگر خان صاحب شاید اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور دیگر مقتدر حلقوں کی جانب سے خود کو حاصل حمایت کے زعم میں یہ بھول بیٹھے ہیں کہ اب وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔

عمران خان صاحب کو اس غلط فہمی سے بھی نکل آنا چاہیے کہ اپوزیشن ان کے اقتدار کے خاتمے کی خواہاں ہے، کیونکہ ان کا اقتدار میں رہنا اپوزیشن کے سیاسی فائدے میں ہے نا کہ اقتدار سے بے دخلی۔ وزیراعظم صاحب کو اب سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنی پالیسیوں کو اپنے دعوؤں اور وعدوں کے مطابق ڈھالنے اور ملک کی معاشی ترقی اور مستحکم سیاسی مستقبل کے مطابق بنانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ اپوزیشن کو ان کے اقتدار کے خاتمے کے لئے کسی بھی سیاسی جدوجہد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
” افسوس جتنے عقل کے اندھے یہاں پہ ہیں ۔ ۔ ۔ وہ قوم کے ہیں دیدۂ بینا بنے ہوئے“

Facebook Comments HS