اقبال: ایک باپ کی حیثیت سے


ابا جان مجھے جب کبھی مارتے، گدی پر مارتے۔  وہ زور سے تو نہ مارتے مگر گدی جسم کا ایسا حصہ ہے جہاں چوٹ زیادہ لگتی ہے۔  اس کے علاوہ اگر مجھے ان سے مار کھانے کا اتفاق ہوا تو اس کی وجہ نوکروں کو برا بھلا کہنا یا جھوٹ بولنا تھی۔ بعض اوقات ایسا ہوا کہ اگر ابا جان نے میری کسی شرارت پر مجھے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو اماں جان بیچ میں آ کھڑی ہوئیں اور انھیں روک دیا یا اگر اماں جان نے مجھے ضرورت سے زیادہ پیٹا تو ابا جان خفا ہوئے کہ بچے کو اس بے دردی سے نہیں مارنا چاہیے۔  ایک دفعہ میں آنکھوں پر پٹی باندھے اماں جان کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا کہ ٹھوکر لگی اور منہ کے بل گر پڑا جس کی وجہ سے ہونٹ کٹ گیا اور منہ سے خون جاری ہو گیا۔ اتفاق سے اسی لحظہ ابا جان زنانے میں داخل ہوئے اور اچانک میرے منہ سے یوں خون بہتا دیکھ کر بے ہوش ہو گئے۔

ہم گھر میں شور نہ مچا سکتے تھے۔  اگر میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ باہر دالان میں کبھی کرکٹ کھیل رہا ہوتا تو ہمیں حکم ملتا کہ یہاں مت کھیلو، اور ہم منہ لٹکائے وہاں سے چل دیتے۔  لیکن بعض اوقات وہ ہمارے کھیل میں خود بھی شریک ہو جایا کرتے۔  ہمارے ہاتھ ان کی طرف گیند پھینکتے پھینکتے تھک جاتے مگر وہ بلا تھامے ’ٹھپ ٹھپ‘ کرتے رہتے۔  ایک دفعہ وہ اندر بیٹھے تھے۔  میں نے ہٹ جو لگائی تو گیند دروازے کے شیشے کو توڑتی ان کے کمرے میں جا گری۔ اس دن سے ہمیں کرکٹ کھیلنے کی ممانعت کر دی گئی۔ کئی بار کھلی بہار میں جب میں کوٹھے پر پتنگ اڑا رہا ہوتا تو وہ دبے پاؤں اوپر آ جاتے اور میرے ہاتھ سے پتنگ لے کر خود اڑانے لگتے۔  مگر مجھے یاد ہے کہ انھوں نے جب بھی کسی اور پتنگ سے پیچ لڑایا تو ہمیشہ ہماری پتنگ ہی کٹی۔

ہمارے گھر میں کھانا اماں جان پکایا کرتی تھیں۔  ان کی مدد کے لیے ایک اور خاتون بھی تھیں جنھیں میں بڑی اماں کہا کرتا۔ ان کے علاوہ ہماری کوٹھی کے پیچھے ایک نومسلموں کا محلہ تھا جس کی لڑکیاں اماں جان سے قرآن مجید کا سبق لینے آتیں، سینا پرونا سیکھتیں اور گھر کا کام کاج بھی کرتیں۔  مجھے خواب کی طرح یاد ہے کہ ہمارے یہاں ایک مرتبہ ایک مہمان آ کر ٹھہرے تھے۔  میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار انھیں ابا جان کو اقبال کہہ کر پکارتے سنا۔

یہ متناسب جسم، میانہ قد، باریش بزرگ نہایت خوش پوش، خوش باش اور خوش خور تھے۔  بمبئی سے آئے تھے اور مجھے چاکلیٹ کا ڈبہ تحفہ کے طور پر دیا تھا۔ آپ کے قہقہے سارے گھر میں گونجتے رہتے اور آپ کے لیے اماں جان روز طرح طرح کے کھانے پکاتیں۔  آپ کا نام مولانا محمد علی تھا۔ یہ وہی محمد علی تھے جن کے متعلق اس زمانے میں مجھے ایک شعر حفظ ہو گیا تھا

بولی اماں محمد علی کی

جان، بیٹا! خلافت پہ دے دو

دو ایک مرتبہ میں ابا جان اور اماں جان کے ساتھ سیالکوٹ بھی گیا۔ تب دادا جان بقید حیات تھے، گو بہت ضعیف ہو چکے تھے اور اپنے کمرے میں ہمیشہ چار پائی پر بیٹھے رہتے۔  میں ان کے پاس جاتا تو آنکھوں کو اپنے ہاتھ کا سایہ دے کر مجھے دیکھتے اور پوچھتے کہ کون ہے۔ ؟ جب میں اتنا بتاتا کہ میں جاوید ہوں تو ہنس پڑتے، طاق میں سے ایک ٹین کا ڈبہ اٹھاتے اور اس میں سے برفی نکال کر مجھے کھانے کو دیتے۔  سیالکوٹ کے مکان میں یا محلہ چوڑیگراں کی گلیوں میں جہاں میں بھاگتا پھرتا تھا، وہیں ابا جان کا بچپن بھی گزرا تھا۔

میرے بچپن میں رمضان کا مہینہ سردیوں میں آیا کرتا اور عید بھی سردیوں میں آتی تھی۔ رمضان کے دنوں میں اماں جان باقاعدہ روزے رکھتیں اور قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتیں۔  گھر کے ملازم بھی روزے رکھتے۔  مجھے سحری کھانے کا بے حد شوق تھا اور ایک آدھ بار ابا جان کے ساتھ سحری کھانا بھی یاد پڑتا ہے۔  وہ روزہ کبھی کبھار رکھتے تھے اور جب رکھتے، تو ہر نصف گھنٹے کے بعد علی بخش کو بلوا کر پوچھتے کہ افطاری میں کتنا وقت باقی ہے۔

 جب عید کا چاند دکھائی دیتا تو گھر میں بڑی چہل پہل ہو جاتی۔ میں عموماً ابا جان کو عید کا چاند دکھایا کرتا تھا۔ گو مجھے نہانے سے سخت نفرت تھی، لیکن اس شب گرم پانی سے اماں جان مجھے نہلاتیں اور میں بڑے شوق سے نہاتا۔ نئے کپڑے یا جوتوں کا نیا جوڑا سرہانے رکھ کر سوتا۔ صبح اٹھ کر نئے کپڑے پہنے جاتے، عیدی ملتی، کمخواب کی ایک اچکن جس کے نقرئی بٹن تھے، مجھے ہر عید پر اماں جان پہنایا کرتیں سر پر تلے کی گول ٹوپی پہنتا اور مجھے کلائی پر باندھنے کے لیے ایک سونے کی گھڑی بھی دی جاتی جو افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ نے میرے لیے تحفے کے طور پر بھیجی تھی۔

سج دھج کر میں ابا جان کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے کے لیے جاتا۔ ان کی انگلی پکڑے شاہی مسجد میں داخل ہوتا اور ان کے ساتھ عید کی نماز ادا کرتا۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم گھر آتے۔  ابا جان کی عادت تھی کی وہ عید کے روز سویوں پر دہی ڈال کر کھایا کرتے تھے۔  سارا دن انھیں ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا اور دن کھاتے پیتے، ہنستے کھیلتے گزر جاتا۔ رات آتی تو اماں جان سونے کی گھڑی اور اچکن اتروا لیتیں اور پھر اگلی عید تک مجھے ان کا انتظار کرنا پڑتا۔

کبھی بیمار ہوتا تو اماں جان اور ابا جان بہت پریشان ہو جاتے۔  میرے سرہانے روپوں کے نوٹ رکھے جاتے اور کھیلنے کے لیے اماں جان مجھے نو اشرفیاں دیتیں جو میری پیدائش کے وقت ابا جان کے مختلف احباب سے بطور تحفہ ملی تھیں۔  اماں جان کا خیال تھا کہ اگر بچہ بیمار ہو اور اسے کھیلنے کے لیے روپے یا اشرفیاں دی جائیں تو وہ جلد صحت یاب ہو جاتا ہے۔  ابا جان مجھ سے بار بار پوچھتے کہیں درد تو نہیں ہو رہا، اور اگر میں انکار سے سر ہلاتا تو کہتے : ”منہ سے بولو بیٹا! سر مت ہلاؤ۔ “

میرا بچپن زیادہ تر تنہائی میں گزرا۔ 1930 ء میں منیرہ پیدا ہوئی لیکن وہ مجھ سے چھ سال چھوٹی تھی اس لیے ہم اکٹھے کھیل بھی نہ سکتے تھے۔  مجھے وہ دن بھی خوب یاد ہے جب میں پہلی بار اسکول گیا۔ میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی ہو گی۔ اماں جان بہت فکر مند تھیں کہ میں سارا دن گھر سے دور کیسے رہ سکوں گا۔ ابا جان انھیں دلاسا دیتے رہے، لیکن ساتھ خود بھی علی بخش سے پوچھتے کہ جاوید کو لینے کوئی نہیں گیا۔ چھٹی ہونے پر جب میں گھر آیا تو اماں جان برآمدے میں کھڑی میری راہ تک رہی تھیں۔  ابا جان بھی اپنے کمرے سے اٹھ کر آ گئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہیں اداس تو نہیں ہو گئے تھے۔  بعد میں اسکول جانا ایک معمول بن گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6