اقبال: ایک باپ کی حیثیت سے
اماں جان کی وفات کے بعد ابا جان صرف ایک بار زنانے میں آئے، وہ بھی تب جب مجھے بخار آیا تھا۔ آپ کو پہلی بار تب معلوم ہوا کہ زنانہ حصے میں کمروں کی تعداد کتنی ہے۔ اسی طرح اماں جان کی وفات کے بعد ابا جان نے خضاب لگانا بھی ترک کر دیا تھا۔ ایک دن میں نے ان سے از سر نو خضاب شروع کرنے کو کہا تو مسکرا کر بولے ”میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں“۔ میں نے پھر کہا ”لیکن، ابا جان! ہم تو آپ کو جوان دیکھنا چاہتے ہیں۔ “ چنانچہ شاید اس خیال سے کہ بچے میرے سفید بالوں کو دیکھ کر ضعیف سمجھنے لگے ہیں، انھوں نے پھر سے خضاب لگانا شروع کر دیا۔ مگر چند مہینوں بعد پھر چھوڑ دیا اور میری ہمت نہ پڑی کہ ان سے دوبارہ خضاب شروع کرنے کو کہوں۔
اماں جان کی وفات کے کوئی دو ایک سال بعد منیرہ کی دیکھ بھال کے لئے ابا جان نے ایک جرمن خاتون کو علی گڑھ سے بلوایا، اور وہ ہمارے یہاں رہنے لگیں۔ ہم انھیں، آپا جان، کہا کرتے۔ ان دنوں ہماری گھریلو زندگی میں ایک ترتیب سی آ گئی۔ ہم سب، ابا جان سمیت، دوپہر اور رات کا کھانا کھانے والے کمرے میں کھایا کرتے۔ منیرہ اور آپا جان، ہر شام ابا جان کے پاس بیٹھا کرتیں۔ ابا جان جرمن زبان بخوبی جانتے تھے، اس لئے آپا جان، سے جرمن ہی میں گفتگو کیا کرتے، اور منیرہ سے بھی کہتے کہ جرمن زبان سیکھو، جرمن عورتیں بڑی دلیر ہوتی ہیں۔ منیرہ ان دنوں جرمن زبان کے چند فقرے سیکھ گئی تھی، اس لئے وہ بھی ان سے جرمن میں بات چیت کرتی اور خوب ہنسی مذاق ہوتا۔
مجھے مصوری سے بھی دلچسپی تھی لیکن ابا جان کو میرے اس شوق کا علم نہ تھا۔ ایک مرتبہ میں نے ایک تصویر بنائی جو اتفاق سے خاصی اچھی بن گئی۔ ان دنوں تایا جان سیالکوٹ سے لاہور آئے ہوئے تھے اور ہمارے ہاں مقیم تھے۔ تایا جان خود انجینئر تھے لیکن جب انھوں نے میری بنائی ہوئی تصویر دیکھی تو بے حد خوش ہوئے۔ فوراً تصویر ہاتھ میں لے کر ابا جان کو دکھانے چلے گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے گیا۔ ابا جان کو پہلے تو یقین نہ آیا کہ تصویر میں نے بنائی ہے، لیکن جب یقین آ گیا تو میری حوصلہ افزائی کرنے لگے۔
کچھ عرصے بعد انھوں نے فرانس، اطالیہ اور انگلستان سے میرے لئے خاص طور پر آرٹ کی کتب منگوائیں۔ انھیں خیال تھا کہ دنیا کے بہترین مصوروں کے شاہکاروں کو دیکھ کر مصوری کے لئے میرا شوق بڑھے گا لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ جب میری نظر سے مصوری کے شاہکار گزرے تو میں نے اس خیال سے ہمت ہار دی کہ اگر میں ساری عمر بھی کوشش کروں تو ایسی خوبصورت تصاویر نہیں بنا سکتا۔
ابا جان کی تمنا تھی کہ میں تقریر کرنا سیکھوں۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ میں کشتی لڑا کروں۔ چنانچہ اس سلسلے میں میرے لیے گھر میں ایک اکھاڑہ بھی کھدوایا گیا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے کہ اکھاڑے کی مٹی میں ڈنڑ پیلنا یا لنگوٹی باندھ کر لیٹ رہنا صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔ پھر بڑی عید کے روز مجھے ہمیشہ تلقین کیا کرتے کہ بکرے کے ذبح ہوتے وقت میں وہاں موجود رہوں۔ لیکن ان کا اپنا یہ حال تھا کہ کسی قسم کا خون بہتے نہ دیکھ سکتے تھے۔
ابا جان میں قوت برداشت کی انتہا تھی، مگر جب ایک مرتبہ کسی سے ناراض ہو جاتے تو پھر ساری عمر اس کا چہرہ دیکھنے کے روادار نہ ہوتے۔ انھیں کبوتر بازی کا شوق بھی رہ چکا تھا۔ آخری عمر میں ان کی خواہش تھی کہ گھر کی چھت پر ایک وسیع پنجرہ بنوایا جائے جس میں لاتعداد کبوتر چھوڑ دیے جائیں اور ان کی چار پائی ہر وقت کبوتروں کے درمیان رہا کرے۔ انھیں یقین تھا کہ کبوتروں کے پروں کی ہوا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔
ابا جان کے عقیدت مندوں میں ایک حجازی عرب بھی تھے جو کبھی کبھار انھیں قرآن مجید پڑھ کر سنایا کرتے۔ میں نے بھی ان سے قرآن مجید پڑھا ہے۔ ان کی آواز بڑی پیاری تھی۔ ابا جان جب بھی ان سے قرآن مجید سنتے، مجھے بلا بھیجتے اور اپنے پاس بٹھا لیتے۔ ایک باز انھوں نے سورۃ مزمل پڑھی تو آپ اتنا روئے کہ تکیہ آنسوؤں سے تر ہو گیا۔ جب وہ ختم کر چکے تو آپ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور مرتعش لہجے میں بولے ”تمہیں یوں قرآن پڑھنا چاہیے!“ اسی طرح مجھ سے ایک مرتبہ مسدس حالی پڑھنے کو کہا، اور خاص طور پر وہ بند۔ ۔ ۔ جب قریب بیٹھے ہوئے میاں محمد شفیع نے دہرایا ”وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا! “ تو آپ سنتے ہی آبدیدہ ہو گئے۔ میں نے اماں جان کی موت پر انھیں آنسو بہاتے نہ دیکھا تھا مگر قرآن مجید سنتے وقت یا اپنا کوئی شعر پڑھتے وقت یا رسولؐ اللہ کا اسم مبارک کسی کی نوک زبان پر آتے ہی ان کی آنکھیں بھر آیا کرتیں۔
ابا جان کو انگریزی لباس سے سخت نفرت تھی۔ مجھے ہمیشہ شلوار اور اچکن پہننے کی تلقین کیا کرتے۔ منیرہ بھی اگر اپنے بالوں کو دو حصوں میں گوندھتی تو نا پسند کرتے اور کہتے : ”اپنے بال اس طرح مت گوندھا کرو، یہ یہودیوں کا انداز ہے۔ “ اور اگر میں کبھی غلطی سے اپنی قمیضوں یا شلواروں کا کپڑا بڑھیا قسم کا خرید لاتا تو بہت خفا ہوتے اور کہتے ”تم اپنے آپ کو کسی رئیس کا بیٹا سمجھتے ہو؟ تمہاری طبیعت میں امارت کی بو ہے۔ اور اگر تم نے اپنے یہ انداز نہ چھوڑے تو میں تمہیں کھدر کے کپڑے پہنوا دوں گا۔ “ میرے لیے بارہ آنے گز سے زائد قمیص کا کپڑا خریدنا یا آٹھ روپے سے زائد کا بوٹ خریدنا جرم تھا جس کی سزا خاصی کڑی تھی۔ لیکن اگر انھیں کبھی یہ معلوم ہو جاتا کہ میں آج پلنگ پر سونے کی بجائے زمین پر سویا تو بڑے خوش ہوا کرتے۔
اپنی زندگی میں صرف ایک بار انھوں نے مجھے سنیما دیکھنے کی اجازت دی۔ وہ ایک انگریزی فلم تھی جس میں نپولین کا عشق دکھایا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ابا جان کو یہ نہ بتایا گیا بلکہ کہا گیا کہ اس فلم میں نپولین کے حالات زندگی ہیں۔ ابا جان دنیا بھر کے جری سپہ سالاروں سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ مجھے اکثر خالد بن ولید ؓ اور فاروق اعظمؓ کی باتیں سنایا کرتے۔ ایک دفعہ انھوں نے مجھے بتایا کہ نپولین کے اجداد عرب سے آئے تھے، اور واسکوڈی گاما کو عربوں ہی نے ہندوستان کا راستہ دکھایا۔
مجھے کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا بھی بے حد شوق تھا۔ باغ و بہار (قصہ چہار درویش)حاتم طائی، طلسم ہو شربا اور عبد الحکیم شرر کے سب ناول پڑھ ڈالے تھے۔ ساتویں جماعت کے امتحان کے قریب میرے ہاتھ الف لیلہ لگ گئی، اور اس کتاب سے میں اس قدر مسحور ہوا کہ رات گئے تک اسے پڑھتا رہتا۔ امتحان سر پر آ گئے لیکن میں نے الف لیلہ کو نہ چھوڑا بلکہ رات کو امتحان کی تیاری کرنے کی بجائے الف لیلہ پڑھتا رہتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساتویں جماعت کے امتحان میں ناکام رہ گیا۔ جب اباجان کو علم ہوا کہ میں الف لیلہ میں منہمک ہونے کی وجہ سے امتحان میں ناکام رہا ہوں تو برہم نہ ہوئے، کہنے لگے ”اگر تم امتحان میں کامیاب ہو جانے کے بعد الف لیلہ پڑھتے تو تمہیں اور بھی لطف آتا“۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


