اقبال: ایک باپ کی حیثیت سے


مجھے موسیقی سے بھی خاصا لگاؤ تھا۔ لیکن ہمارے گھر میں نہ تو ریڈیو تھا اور نہ گراموفون بجانے کی اجازت تھی کیونکہ ابا جان ایسی چیزوں کو پسند نہ کرتے تھے۔  البتہ گانا سننے کا انھیں شوق ضرور تھا، اور اچھا گانے والوں کو جب کبھی گھر بلوا کر ان سے اپنا یا اوروں کا کلام سنتے تو مجھے بھی پاس بٹھا لیا کرتے۔  فقیر نجم الدین مرحوم، ابا جان کو اکثر ستار بجا کر سنایا کرتے تھے۔  خود ابا جان کو جوانی میں ستار بجانے کا شوق رہ چکا تھا۔ لیکن جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یورپ گئے تو اپنی ستار کسی دوست کو دے گئے۔

1931 ء میں جب گول میز کانفرنس میں شمولیت کے لیے انگلستان گئے تو اس وقت میری عمر کوئی سات سال کے لگ بھگ تھی۔ میں نے انھیں ایک اوٹ پٹانگ سا خط لکھا اور خواہش ظاہر کی کہ جب وہ واپس تشریف لائیں تو میرے لیے گراموفون لیتے آئیں۔  گراموفون تو وہ لے کر نہ آئے لیکن میرا انھیں انگلستان میں لکھا ہوا خط ان کی مندرجہ ذیل نظم کی شان نزول کا باعث ضرور بنا

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر

اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں

سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر

میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر

مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر

مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے

خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر

اماں جان کی بڑی آرزو تھی کہ ابا جان تمام دن گھر پر پڑے رہنے کی بجائے کہیں ملازمت کر لیں۔  یہ سن کر ابا جان عموماً مسکرا دیا کرتے۔  اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں میں نے بھی اس معمے کو سلجھانے کی بارہا کوشش کی کہ میرے ابا جان کام کیا کرتے ہیں۔  اگر کوئی اجنبی مجھ سے یہ سوال پوچھ بیٹھتا تو میں خاموش ہو جاتا کیونکہ میں خود نہ جانتا تھا۔ اسی طرح اماں جان اس بات پر مصر رہتیں کہ کرائے کا گھر چھوڑ کر اپنا گھر بنوائیے۔

ان ایام میں ہم میکلوڈ روڈ پر رہا کرتے تھے۔  چند سالوں بعد اماں جان کے، گھر کے اخراجات سے بچائے ہوئے، روپوں سے زمین خریدی گئی اور ’جاوید منزل‘ کی تعمیر شروع ہوئی۔ زمین اور مکان اماں جان کے نام تھے اور انہی کی ملکیت تھے۔  بہر حال، جب تعمیر مکمل ہو گئی تو ہم میو روڈ پر اٹھ آئے۔  لیکن اماں جان نئے گھر میں بیمار گاڑی پر ہی لائی گئیں کیونکہ ان دنوں وہ سخت علیل تھیں۔  انھیں چار پائی پر لٹائے اندر لایا گیا۔

دوسرے دن ابا جان جب انھیں دیکھنے کے لیے زنانے میں آئے تو انھوں نے اپنے ہاتھ میں کچھ کاغذات اٹھا رکھے تھے۔  آپ نے اماں جان سے کہا کہ اس مکان کو جاوید کے نام ہبہ کر دو لیکن اماں جان نہ مانتی تھیں وہ کہتی تھیں کہ مجھے کیا معلوم یہ لڑکا بڑا ہو کر کیسا نکلے۔  میں انشاء اللہ جلد صحت یاب ہو جاؤں گی۔ آپ کسی قسم کا فکر نہ کریں۔  لیکن ابا جان نے انھیں آگاہ کیا کہ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہیں۔  اس پر انھوں نے ہبہ نامہ پر دستخط کر دیے۔  یوں ’جاوید منزل‘ میرے نام منتقل ہو گئی۔ ابا جان نے کرایہ نامہ بھی تحریر کیا جس کی رو سے آپ میرے کرایہ دار کی حیثیت سے رہنے لگے۔

آپ سامنے کے تین کمروں میں رہائش کا کرایہ ہر ماہ کی 21 تاریخ کو ادا کرتے تھے۔  نئے گھر میں قدم رکھنے کے تیسرے یا چوتھے روز اماں جان پر اچانک غشی کا عالم طاری ہو گیا۔ کوئی پانچ بجے شام کے قریب جب مجھے ان کے پاس لے جایا گیا تو وہ بستر پر بیہوش پڑی تھیں۔  میں نے ان کے حلق میں شہد ٹپکایا اور روتے ہوئے کہا کہ اماں جان میری طرف دیکھئے۔  انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔  لحظہ بھر کے لیے میری طرف دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔  اسی شام انھوں نے غشی کے عالم میں داعی اجل کو لبیک کہا اور رات کو دفن کر دی گئیں۔  ان کی وفات کے وقت میری عمر دس برس تھی اور منیرہ کی چار برس۔

اماں جان کے انتقال کے بعد ہم دونوں بچے ابا جان کے زیادہ قریب آ گئے۔  مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت اماں جان فوت ہوئیں تو ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے، روتے روتے ابا جان کے کمرے کی طرف گئے۔  وہ حسب معمول اپنی چار پائی پر نیم دراز تھے کیونکہ ان دنوں خود بھی بیمار رہتے تھے۔  گلا بیٹھ چکا تھا اور صاف بول نہ سکتے تھے۔  میں اور منیرہ ان کے دروازے تک پہنچ کر ٹھٹھک سے گئے۔  یوں روتے کھڑا دیکھ کر انھوں نے انگلی کے اشارے سے ہمیں قریب آنے کو کہا، اور جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ایک پہلو میں مجھے اور دوسرے میں منیرہ کو بٹھا لیا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ پیار سے ہمارے کندھوں پر رکھ کر قدرے کرختگی میں مجھ سے گویا ہوئے : ”تمہیں یوں نہ رونا چاہیے!  یاد رکھو ’تم مرد ہو‘ اور مرد کبھی نہیں رویا کرتے۔ “ اس کے بعد اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ انھوں نے ہم دونوں بہن بھائیوں کی پیشانیوں کو باری باری چوما۔

اماں جان کی بے وقت موت نے ابا جان کو پژمردہ سا کر دیا۔ لیکن اب وہ ہم دونوں بچوں کا بے حد خیال رکھنے لگے۔  ہمیں حکم تھا کہ ان سے مل کر اسکول جایا کریں۔  جانے سے پہلے، اور آنے کے بعد وہ ہم دونوں کی پیشانیوں پر بوسہ دیا کرتے۔  مگر مجھے اس بوسے میں شفقت کی بجائے ہمیشہ معمول کی جھلک دکھائی دیتی گویا وہ ہمیں اس لیے چومتے ہیں کہ کہیں ہم دونوں یہ تصور نہ کر لیں کہ ہمیں ابا جان کی محبت میسر نہیں ہے۔  بہرحال، منیرہ کو ان کا قرب حاصل تھا اور رات کو عموماً انہی کے بستر میں سو جایا کرتی۔

 اس کی ہر خواہش بغیر کسی حیل و حجت کے پوری کر دی جاتی، اور اگر میں کبھی اسے جھڑکتا یا مار بیٹھتا تو میری شامت آ جاتی۔ انھیں ہم دونوں بہن بھائیوں کے جھگڑے پر بہت رنج ہوتا تھا۔ وہ اپنے احباب سے اکثر مایوسانہ انداز میں کہا کرتے کہ یہ دونوں آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ اور احباب کے یہ کہنے کے باوجود کہ جس گھر میں بچے ہوں، وہاں لڑائی جھگڑا ہوا ہی کرتا ہے، ان کی تسلی نہ ہوتی۔ مجھ سے بار ہا جل کر کہا کرتے ”تمہارا دل پتھر کا ہے۔  تم بڑے سنگ دل ہو۔ اتنا نہیں جانتے کہ اس بہن کے سوا تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6