اقبال: ایک باپ کی حیثیت سے
اماں جان کی وفات کے کچھ عرصے بعد وہ مجھے اس خیال سے اپنے ہمراہ بھوپال لے گئے کہ ان کی عدم موجودگی میں منیرہ سے لڑتا نہ رہوں۔ اس سفر کی دھندلی سی یاد اب تک میرے ذہن میں موجود ہے۔ بہت لمبا سفر تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کئی دن اور کئی راتیں ریل گاڑی ہی میں گزریں۔ رات کو علی بخش مجھے اوپر کی برتھ پر سلا دیتا اور ابا جان نیچے کی برتھ پر سوتے۔ ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا بھی وہیں منگوا لیا جاتا۔ جب ہم بھوپال پہنچے تو اسٹیشن پر محمد شعیب استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہم موٹر کار میں شیش محل پہنچے جہاں ابا جان کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ شیش محل ایک پرانی وضع کی نہایت وسیع و عریض عمارت تھی۔ اتنے بڑے بڑے کمرے تھے کہ مجھے رات کو ان میں سے گزرتے ڈر آیا کرتا۔
ہم بھوپال میں کوئی دو ایک ماہ ٹھہرے۔ وہاں ڈاکٹر باسط ابا جان کے معالج تھے اور ان کے گلے کا علاج برقی شعاعوں سے کرتے تھے۔ مجھے روز پڑھانے کے لیے ایک استاد بھی شیش محل آیا کرتے۔ شیش محل کے قریب، ایک جھیل کے کنارے، میں ڈاکٹر باسط کے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا۔ ڈاکٹر باسط کا گھر شیش محل کے مقابل تھا اور اس کے سامنے غالباً ایک وسیع میدان تھا۔ تقریباً ہر دوسرے تیسرے روز میں ابا جان کے ساتھ سید راس مسعود کے ہاں ’ریاض منزل‘ جایا کرتا۔
وہ میری زندگی میں دوسری ایسی شخصیت تھے جنھیں میں نے ابا جان کو اقبال کہہ کر پکارتے سنا۔ سید راس مسعود قد میں ابا جان سے بہت اونچے، قومی ہیکل اور گورے چٹے بزرگ تھے۔ مجھ سے ہر وقت مذاق کرتے رہتے۔ میں اور ابا جان ہفتے میں دو ایک بار رات کا کھانا سید راس مسعود اور بیگم امت المسعود کے ساتھ ’ریاض منزل‘ میں کھایا کرتے۔ بسا اوقات ہم اور جگہوں پر بھی کھانے پر مدعو ہوتے۔
ایک مرتبہ ہم کسی دعوت سے واپس آ رہے تھے اور گاڑی میں ابا جان کے ساتھ ادھیڑ عمر کی فربہ سی ہنس مکھ خاتون بیٹھی تھیں۔ وہ مجھ سے نہایت شفقت سے پیش آئیں۔ بعد میں ابا جان نے مجھے بتایا کہ وہ سروجنی نائیڈو تھیں۔ اسی طرح ایک شام بیگم صاحبہ بھوپال کے ہاں چائے پر مجھے اپنے ساتھ لے گئے کیونکہ بیگم صاحبہ نے فرمائش کر رکھی تھی کہ جاوید کو ساتھ لائیے۔ سید راس مسعود ہمارے ہمراہ تھے۔ جب ان دونوں بزرگوں نے بیگم صاحبہ بھوپال کو جھک کر فرشی سلام کیے تو مجھے بڑی ہنسی آئی۔
بہرحال، بھوپال میں میرا بیشتر وقت ابا جان کی نگاہوں کے سامنے ہی گزرتا تھا۔ رات کو کھانے کی میز پر مجھے سکھایا کرتے کہ چمچہ اس طرح پکڑنا چاہیے اور کانٹا یوں۔ میں فطرتاً کچھ شرمیلا واقع ہوا تھا، اس لیے جب کبھی انھیں لوگ وہاں ملنے آتے یا وہ لوگوں کے ہاں جاتے تو مجھ سے ہمیشہ کہا کرتے کہ لوگوں کے سامنے خاموش بیٹھے رہنے کی بجائے ان سے بات چیت کرنی چاہیے۔
بھوپال سے واپسی پر ہم چند دنوں کے لیے دہلی ٹھہرے۔ وہاں ابا جان بذات خود مجھے تاریخی مقامات کی سیر کرانے کے لیے لے گئے۔ پہلے لال قلعہ دیکھا۔ پھر نظام الدین اولیا گئے۔ اور پھر نئی دہلی سے ہوتے ہوئے قطب پہنچے۔ میرا دل چاہا کہ قطب مینار کے اوپر چڑھ جاؤں، اور میں نے ابا جان کو بھی ساتھ آنے کے لیے کہا مگر وہ بولے ”تم جاؤ، میں اتنی بلندی پر نہیں چڑھ سکتا، اور جب اوپر پہنچو تو نیچے کی طرف مت دیکھنا، کہیں دہشت سے گر نہ پڑو۔“ بالا خر ہم واپس لاہور آ گئے.
گرمیوں میں ابا جان باہر سوتے اور میری چارپائی ان کے قریب ہوا کرتی۔ رات گئے تک وہ جاگتے رہتے کیونکہ انھیں عموماً رات کو تکلیف ہوتی تھی۔ اور جب شعر کی آ مد ہوتی تو ان کی طبیعت اور بھی زیادہ خراب ہو جایا کرتی۔ چہرے پر تغیر رونما ہو جاتا، بستر پر کروٹیں بدلتے، کبھی اٹھ کر بیٹھ جاتے اور کبھی گھٹنوں میں سر دے دیتے۔ اکثر اوقات وہ رات کے دو یا تین بجے علی بخش کو تالی بجا کر بلاتے اور اس سے اپنی بیاض اور قلم دوات لانے کو کہتے۔ جب وہ لے آتا تو اشعار لکھ دیتے۔ اشعار لکھ چکنے کے بعد ان کے چہرے پر آہستہ آہستہ سکون کے آثار نمودار ہو جاتے اور وہ آرام سے لیٹ جاتے۔ بعض اوقات تو وہ علی بخش کو اس غرض کے لئے بلواتے کہ میری پائینتی پر پڑی ہوئی چادر کو میرے اوپر ڈال دو۔
ابا جان کی عادت، سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر، بستر پر ایک طرف سونے کی تھی۔ اس حالت میں ان کا ایک پاؤں اکثر ہلتا رہتا جس سے دیکھنے والا یہ اندازہ لگا سکتا کہ وہ ابھی سوئے نہیں بلکہ کچھ سوچ رہے ہیں۔ لیکن جب وہ گہری نیند سو جاتے تو خراٹے لیا کرتے، اور نہایت بھیانک قسم کی آوازیں نکلتیں۔ کئی بار میں ان کے خراٹوں سے ڈر جایا کرتا۔ ابا جان کو میں نے بیسیوں مرتبہ خودبخود مسکراتے یا روتے دیکھا ہے۔ جب کبھی تنہائی میں بیٹھے اپنا کوئی شعر گنگناتے تو ان کا بے جان سا ہاتھ عجیب تغافل کے عالم میں اٹھتا اور ہوا میں گھوم کر اپنی پہلی جگہ پر آ گرتا۔ ساتھ ہی ان کے سر کو ہلکی سی جنبش ہوتی۔
صبح کو نماز بہت کم چھوڑتے تھے۔ گرمیوں میں باہر رکھے ہوئے تخت پر ہی نیت باندھ لیتے، دھوتی اور بنیان زیب تن ہوتی اور سرپر تولیہ رکھ لیتے۔ ان کے کمرے کی حالت پریشان سی رہتی تھی، دیواریں گرد و غبار سے اٹی ہوتیں۔ بستر ان کی دھوتی اور بنیان کی طرح میلا ہو جاتا مگر انھیں بدلوانے کا خیال نہ آتا۔ منہ دھونے اور نہانے سے گھبراتے، اور اگر کبھی مجبوراً باہر جانا پڑتا تو کپڑے بدلتے وقت سرد آہیں بھرا کرتے۔ وہ فطرتاً سست تھے اس لئے اگر کہیں وقت کی پابندی ہوتی تو انھیں ہمیشہ دیر ہو جایا کرتی۔
ویسے چارپائی پر نیم دراز پڑے رہنے میں بہت خوش رہتے۔ کئی بار دوپہر کا کھانا کسی کتاب میں منہمک ہونے کی وجہ سے بھول جایا کرتے اور جب وہ کتاب ختم ہو جاتی تو علی بخش کو بلوا کر معصومانہ انداز میں پوچھتے ”کیوں بھئی، میں نے کھانا کھا لیا ہے؟ “ شام کو گھر کے دالان ہی میں دو ایک چکر لگا لیا کرتے۔ اس کے سوا ان کی زندگی میں بظاہر کامل جمود تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


