تحریک لبیک پاکستان کے متعدد عہدے دار مستعفی ہو گئے


تحریک لبیک پاکستان کے خلاف کریک ڈاون کے بعد کارکنوں نے تحریک لبیک پاکستان سے لاتعلقی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق دو روز پہلے حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا تھا۔ اس کریک ڈاون کے دوران سب سے پہلے مولانا خادم رضوی سمیت اشرف آصف جلالی اور پیر افضل قادری کو گرفتار کیا گیا۔

مولوی خادم رضوی کے بیٹے نے اپنے والد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کی شام کو تحریک لیبک پاکستان کی ضلعی قیادت کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے ہزاروں کارکنان کو بھی دھر لیا گیا تھا۔ جس کے بعد مختلف علاقوں میں مزاحمت اور توڑ پھوڑ کے چھوٹے موٹے واقعات سامنے آئے تاہم بڑے پیمانے پر احتجاج نہ ہو سکا۔

اس سارے معاملے میں انتظامیہ نے بہترین اور مستعد کردار ادا کرتے ہوئے اس سارے معاملے کو اچھے طریقے سے نمٹایا۔ گزشتہ روز کی ایک خبر کے مطابق مفتی منیب الرحمان کو بھی ان کے گھر میں نظر بند کردیا گیا تھا اور باہر سے آنے والے کسی بھی شخص کو ان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی ہے۔

ان نامساعد حالات کے بعد اپنے بھی تحریک لبیک پاکستان کا ساتھ چھوڑنے لگے۔ کل شام تحریک لبیک پاکستان کی ٹکٹ سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے والے ایک رہنما نے تحریک سے لاتعلقی کا اعلان کیا تو آج ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں متعدد کارکنان تحریک لبیک سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS