حاصل لاحاصل : وہ لمحہ !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہرانسان اپنی دوزخ ساتھ لے کر پیدا ہوتاہے۔ زندگی گزارنے کے لیے پوری عمر کی ضرورت کبھی بھی نہیں ہوتی۔ ایک لمحہ میں پوری زندگی جینا اور کئی دہائیوں زندہ رہ کر بھی زندگی آشنا نہ ہونا مقدر کی بات ہے۔ بعض اوقات ایک لمحے کی ملاقات عمر بھر کے ساتھ میں بدل جاتی ہے اورعمر بھر کا ساتھ لمحہ بھر کی ملاقات میں گزر جاتاہے۔ عمر بھر کا حاصل کیا ہے؟ صرف ایک لمحہ۔ ! تمھارا، میرا، سب کا ایک لمحہ!

وہ لمحہ جب تم میرے سامنے درمیانی کرسی پر بائیں جانب ہلکا سا جھک کر بیٹھ گئی تھیں، سنہری بال، سنہری آنکھیں، سنہری رنگ، سنہری انگ اور سنہری تم۔ ! مجھے ایسا لگا جیسے گندم کے کھیت میں جوان ہوتی گندم کی بالیاں ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہی ہوں اور میں چاچے علی احمد کے کھیت کے باہر کھڑا، محبت، لالچ، حرص اور خوف کے ساتھ ان کوایسے دیکھ رہاہوں جیسے اگر چاچے نے میری للچائی ہوئی آنکھوں کو اپنی جوان، خوبصورت فصل کی طرف اٹھتے ہوئے بھی دیکھ لیاتو وہ اُس کوچھونے اور توڑنے کے ارادے سے پہلے ہی میری آنکھیں نکال کر میری ہتھیلی پر اور ہاتھ پاؤں توڑ کر حویلی کے ساتھ پڑے کتے کے آگے ڈال دے گا۔ یہ سوچ کر میں جھرجھری لے کر رہ گیا۔

پہرے دار اور پکڑے جانے کا احساس بہت خوفناک حد تک انسان کو کمزور کردیتا ہے۔ دل کی دھڑکن بیٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، ماتھے اور ہتھیلیوں پر پسینہ اکٹھا، درجہ ء حرارت کے نقطہء انجماد پر ہونے کے باوجود آجاتاہے۔ الفاظ ادھر کے اُدھر گررہے ہوتے ہیں! بس ایسے ہی چوری، تم سے، اُس سے، اُن سے اور خود سے، میں نے تیرے زیر لب تل، گہری آنکھوں، سنہری بالوں اور کانوں کی چھوٹی چھوٹی پِنوں کو کئی بار دیکھا۔ مگر۔ جتنا جو آپ سے دور ہے اتنا ہی دل مجبور ہے۔ سو میں نہ چاہتے ہوئے بھی تم سے دور ہوتا گیا۔ پانی کی پیاس صحرا کے پیاسے کومعلوم ہوتی ہے، دریا میں تیرنے والے کو اس کی شدت کا احساس کیسے ہوسکتاہے۔ سو میری پیاس اور اضطراب اورحلق کی خشکی بڑھ رہی ہے۔ جوں جوں تم سے دور ہورہا ہوں میرے سراب بڑھتے جارہے ہیں۔ نقاہت میں اضافہ ہوتا جارہاہے مگر نا امیدی کے باوجود ایک امید ہے جو مرنے نہیں دیتی۔ !

ایک لمحہ! اس ایک لمحے میں وقت جیسے ساکت ہوگیا تھا۔ ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے میرے اردگرد اندھیرے چھاگئے ہیں اورایک مینار روشنی میرے سامنے تھا۔ اردگرد کی پروا تو جب ہوتی اگر نظر اس منبع ء روشنی سے ہٹتی۔ یوں جیسے دہکتا ہوا سورج میرے سامنے میز کے اس پار پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہو اور اس سے 186000 میل فی سیکنڈکی رفتار سے آنکھوں کے راستے نکلنے والی روشنی اوروکٹوریہ سیکرٹ (Victoria Secret) میں سانس کے زیروبم کے ساتھ پکنے والا لاوامسلسل روشنی اورحرارت کے عمل میں اضافہ کررہا تھا۔ اس چکاچوند میں یوں محسوس ہورہاتھا کہ جیسے کائنات کا 4 %فیصد روشن حصہ سمٹ کر میرے کمرے میں کرسی پر براجمان ہے اور باقی 96 %ڈارک انرجی اورمادہ میرے اردگرد رقص کناں ہے!

وہ آئی، بیٹھی، ہنسی کے موتی بکھیرے، باتوں باتوں میں چھوٹی سی موم جیسی ناک سکیڑی جیسے کوئی بواس کے پھڑپھڑاتے سرخ و سفیدنتھنوں کو ناگوارگزررہی ہو۔ میں نے پہلے اپنی اور، پھر کمرے میں اردگرد نظر دوڑائی اور بس اتنا کہا۔ ”کہ“ Sorry ”وہ لوگ آتے جاتے ہیں ناں اس لیے“۔ ! اور جھٹ سے ”Air freshner“ ادھر اُدھر پھس پھس کرنے لگ پڑا۔ انتہائی اختصار کی اس گفتگو میں دو فون کالز، گرین ٹی کا ایک کپ اور ”جی فکر نہ کریں ان شاء اللہ کام ہوجائے گا۔ ! “ کے علاوہ کچھ نہ کہہ سکا۔ اس پندرہ منٹ اور بیس سیکنڈ کی زندگی میں اگر مجھے احساس ہوجاتا کہ یہ جاتے ہوئے میری زندگی بھی لے جائے گی تومیں کام کے بہانے، اس کو گھنٹوں یہاں بیٹھنے پر مجبور کرسکتاتھا۔ !

جب وہ خداحافظ کہہ کر اٹھی تو اس کے اٹھنے، پیچھے مڑنے اور دروازہ پار کرکے نکل جانے تک میں بالکل اس طرح تھاجیسے کسی نے ہپنا ٹائز کردیا ہو۔ ہوش تو تب آیا جب آفس بوائے نے دروازہ کھولا اور کہا ”سر اگلے ملنے والے کو بھیج دوں! “

کہتے ہیں لڑائی کے بعد جو مُکا یاد آئے وہ اپنے منہ پر مار لیناچاہیے۔ مجھے بھی اس کے جانے کے بعدبہت سے داؤ پیچ یاد آنے لگ گئے۔ سومیں نے سوچنا شروع کردیا کہ میں اس کو یقینا روک سکتاتھا۔ ملاقات کو طویل کرسکتا تھا۔ گفتگو اضافی ہوسکتی تھی۔ کیونکہ معاملہ ہردو کی ضرورت کا تھا۔ اس کی ضرورت وہ کام تھا جو مجھ سے وابستہ تھا اور میری ضرورت وہ تھی۔ وہ ساری کی ساری مکمل۔ تمام۔ بلاشرکتِ غیرے۔ ! ہم دونوں کی ضرورتیں جدا اور ان کی نوعیت الگ الگ تھی۔ غرض منددیوانہ ہوتاہے۔ سوبہانہ نکل ہی آتاہے۔ مگرمیں نے اس کی ضرورت کو مجبوری میں بدلنے کو اپنے جذبات کی توہین تصورکیا اور اس امید کے ساتھ اسے رخصت کر دیا کہ اگراس کو میری ضرورت ہوگی تو ضرور لوٹ آئے گی۔ ایک دن ضرور لوٹ آئے گی۔ میرے لیے آئے گی۔ جواب کسی اور کا سہارا لے کر آئی ہے وہ کسی روز بلاضرورت صرف میری ضرورت کے لیے آئے گی۔ ! مجبوری کو ضرورت میں بدلنا یا ضرورت کو مجبوری میں، یہ کم ظرف لوگوں کی بات ہوتی ہے۔ سو دل نے آنکھوں کے راستے اس کا طواف کیا اور اُسے روانہ کردیا۔

پھریہ ہوا کہ دل کی بے تابی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اضطراراور اضطراب ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ بڑھتا گیا۔ رابطے اور واسطے کاذریعہ کوئی تھا نہیں اور اسے پروا نہیں۔ اور ہوتی بھی کیوں۔ کئی بار دل نے ارادہ کیا، کئی بار دل کودلاسادیا، بہلایا، سمجھایا اور ادھر اُدھر کی کہانیوں میں الجھایا۔ مگر تمام فلسفے اور ٹوٹکے ناکام ہوگئے۔ پورا پورا دن بیٹھ کر اس بات کو سوچاکہ اس سے تعلق کیا تھا۔ صرف ایک رسمی پندرہ منٹ کی ملاقات جس میں طرفین کے جملے نکال کر صرف پانچ فقرے تکلم اور تخاطب کے کل ملاکر حاصلِ زندگی بنتے ہیں۔ مگر سب فضول، سب غارت گیا۔ سب ناکام۔ چند چھٹانک کا یہ لوتھڑا جب ضد پر آجائے تو عقل کی تمام دلیلیں مٹی میں مل جاتی ہیں اور یہ اچھے خاصے انسان کو اپنی کرتوتوں اور ہٹ دھرمی کے بل پر مٹی میں ملادیتا ہے۔

کئی دن عجیب سی بے زاری اور اضطراب میں کٹے۔ آنکھیں بیٹھے بیٹھے اچانک کسی انجانی چیز کی طرف دیکھنے لگتیں۔ خلاؤں میں دور اندھیرے اور بلیک میٹر (Black Matter) سے پرے، کچھ کھوجنے کی ناکام کوشش کرتیں اور کافی دیر تک ایک ہی سمت میں کسی تیز روشنی کی متلاشی، اپنے لیے نورمستعار لینے کی خواہش میں، اس وقت ایک جھٹکے سے ناکام واپس آجاتیں، جب کوئی اچانک زور سے بلاتا، ہلاتا یا شور مچاتا اور یوں سکتے کے چند لمحے اور پل، دوبارہ خالی زندگی کی طرف لوٹ جاتے۔ مگر اردگرد کی دنیا میں ویسا ہی رونق میلہ چل رہاہوتا۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ دل کو دنیا اور گردونواح کی بے حسی کا طعنہ بھی دیا مگر ہر باربلاتوقف جواب موصول ہوتاہے کہ ”ہرانسان کا دکھ اور درداپنا اپنا ہے، جو صدیوں سے اس کے ساتھ ساتھ ہمزاد کی طرح چلتا ہے۔ اس لیے آپ کے دکھ کے ساتھ زمانہ دکھی نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر انسان جداجدا اپنے اپنے دکھ سنبھال کر خوشی سے اپنے ساتھ لے کر زندگی گزار رہا ہوتاہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کے آنسوؤں کے ساتھ پوری کائنات غمگین ہوجائے۔ “ سو میں نے اپنے اردگرد کے دکھوں میں سے کچھ سکھ چننے کی کوشش کی۔ بہت سے چہروں کا طواف کیا، بہت سے پاؤں پکڑے، بہت سے بھیس بدلے، مگر سوانگ سوانگ ہی رہا۔ روپ، سروپ اور بہروپ کچھ سکون نہ دے سکا۔

دوسری بہت سی نعمتوں کی طرح اگر اللہ انسان کو ایک دوسرے کے دکھ آپس میں تبدیل کرنے کی نعمت یا چوائس دیتا تو شاید بہت دلچسپ صورت ِحال ہوتی۔ اور انسان بہت جلد قناعت کا درس حاصل کرلیتا۔ کیونکہ جب ہم اپنے سامنے انتہائی خوش نظر آنے والے شخص کے ساتھ اپنی پریشانیوں کا تبادلہ کرتے تو یقینا چند لمحے بعد ہی ہم واپس ہاتھ باندھ اس کے پاؤں پڑ کر اپنے دکھ واپس مانگ لیتے۔ اللہ کا شکر اداکرتے کہ ”خالق تیرا شکر ہے تونے ہمیں اتنا زیادہ خوش قسمت بنایا ہے۔ ہم ہر لمحے اپنا رونا رونے کے بجائے دوسروں کے رونے میں شامل ہوکر اس کو کم کرنے کی کوشش اور اپنی خوشیاں دوسروں میں بانٹنے اور خوش بختی پر ہر دم ناز کرتے شکراداکرتے نظرآتے۔

انسان ہمیشہ کا جلدباز ہے اس لیے کبھی بھی حاصل پر خوش نہیں رہتا۔ اور حیلے بہانے ڈھونڈ کر چھوٹی چھوٹی باتوں کے بتنگڑ بنا کرخالق سے شکوہ کرتارہتا ہے اور الجھتا رہتا ہے۔ کبھی اپنے نصیب پر خوش رہ کر حاصل کو عطاء نہیں سمجھتا۔ بلکہ ہر حاصل کو زورِبازو کا کمال تصورکرکے فخر کرتاہے اور جب قدرت یہ باور کراتی ہے کہ یہ سب غیر مشروط عطاء ہے اور اس میں سے کچھ عارضی طور پر واپس لے لیتی ہے، تو پھر انسان بلبلا اٹھتا ہے۔ ایسے روتا، پیٹتا اور ماتم کرتا ہے جیسے یہ سب اس کا اپنا تھا۔ خود کاحاصل اورکمایا ہوا۔ یہ وہم اور سوچ، کہ سب کچھ انسان کا اپنا ہے اور جوقدرت لے گئی وہ اس کے حصے سے لے گئی۔ یہ انسان کو مسلسل رلاتا رہتاہے۔ وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں جو حاصل پر ”شکر“ اور ”واپسی“ پر ”انا اللہ وانا الہٖ راجعون“ کہہ کر راضی بہ رضا رہتے ہیں۔ پرائی چیز کو اپنی سمجھ کر اس پر زعم کرنے والا انسان اس کے پھر پرائے ہونے کے دکھ میں اپنا سب کچھ غارت کر لیتاہے۔ جب کہ ”اپنا“ بھی، اس کے حوالے کرنے والا، کچھ حاصل نہ کرنے کے باوجود، سب کچھ سے بے نیاز، مگر سب کچھ ہی حاصل کر لیتاہے۔ کیونکہ بے نیازی، نیاز کرکے سب کچھ سے بے نیاز کردیتی ہے!

قدرت کی تخلیق کردہ کائنات میں انسان سے زیادہ جہات رکھنے والی شاید ہی کوئی دوسری مخلوق موجود ہو۔ جانور اور چرند پرند بھی اپنے مالک سے من لگا لیتے ہیں اوروفاداری نبھاتے ہیں اورجان سے گزر جاتے ہیں۔ مگر یہ دو ٹانگوں والا جانور، مالک اور خالق کو بھی بغیر مطلب اور مقصد کے نہیں پوچھتا۔ عمربھر شتربے مہار کی طرح کبھی ادھر منہ مارے گا اور کبھی ادھر، مادر پدر آزاد پھر ے گا۔ خود کو خود کا مالک، آقا اور سب کے حکم سے آزاد تصور کرے گا۔ مگر جب ہلکی سی ٹھوکر لگے گی تو فوراًاپنے خداکے قدموں میں جاپڑے گا۔ سو میں نے بھی اپنی فطرت کے مطابق کیا۔ پہلے پہلے شدت اور تکلیف میں آنسو بہائے، اس کا جاتے ہوئے پیچھے مڑکر دیکھنا یا د کیا اور اس آس کے ساتھ کہ وہ لوٹ آئے گی کئی دنوں تک اس کا انتظار بھی کیا۔

Thank youکے دو کارڈوں نے میرے دماغ کے اُلجھے ہوئے ریشوں کو خلط ملط کرنے میں نمایاں کردار اداکیا۔ اور میں پکاہوگیا کہ وہ لوٹ آئے گی۔ شاید یہ اس کی عادت ہو، مگر میں کچھ اور سمجھا اور ”غلط فہمیوں میں اضافہ ہوتاگیا۔ “ اس نے بہت اچھا کیا، جب اُس نے یہ کہا کہ ”آپ نے بھلا میرے بارے میں ایسے سوچا بھی کیسے“ میں کتنی دیر تک اس پر رویا، ٹکریں ماریں، مگر بے سود۔ ”سوچ پر پابندی۔ !

میں نے زندگی میں کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میرے جیسے انا پرست آدمی کو کوئی ٹھکر ا دے گا، بلکہ میری سوچ پر بھی طعن اور دشنام کرے گا۔ بھلا سوچ پر بھی کبھی پہرے بٹھائے جاتے ہیں۔ سوچ اور وسوسوں کوتو خدابھی معاف کردیتا ہے۔ مگر وہ خدا تھوڑی تھی۔ نماز میں سوچیں ادھرادھرگھوم پھر رہی ہوتی ہیں لیکن خالق کبھی بھی ناراض نہیں ہوتا۔ مگر اس نے میری سوچ تک پر قدغن عائدکر دی تھی۔ زندگی میں پہلی بار مجھے رونا آیا۔ شدت سے رونا آیا۔ جیسے کوئی مجھے اندر سے کاٹ رہا ہو۔ چھری لے کر میرے ٹکڑے اندرسے نکال کر میری آنکھوں کے راستے باہر پھینک رہاہو۔ جتنا میں زیادہ رو رہا تھا اتنی ہی میری سانسیں اتھل پتھل ہورہی تھیں۔ آنسو اس لیے نہیں نکلتے کہ انسان کمزور ہوتاہے بلکہ بعض اوقات اس لیے بھی پلکوں سے ڈھلک جاتے ہیں کہ انسان مضبوط رہ رہ کر تھک چکا ہوتا ہے۔ میں بھی شاید مسلسل جبر کرکے تھک چکاتھا۔ سو آنسو نکل پڑے بے اختیار پلکوں کے راستے بہنے لگے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیاقت علی ملک

لیاقت علی ملک ۔۔۔ داروغہ ہے۔ خود ہی عدالت لگاتا ہے، خود ہی فیصلہ سناتا ہے اور معاف نہیں کرتا۔۔۔ بس ایک دبدھا ہے۔۔۔وہ سزا بھی خود ہی کاٹتا ہے ۔۔ ۔۔کیونکہ یہ عدالت۔۔۔ اس کے اپنے اندر ہر وقت لگی رہتی ہے۔۔۔۔

liaqat-ali-malik has 11 posts and counting.See all posts by liaqat-ali-malik