محسن داوڑ اور علی وزیر ایف آئی اے کی تحویل میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی وزیر اور محسن

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سابق قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اراکینِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو بیرونِ ملک جانے سے روکتے ہوئے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے حامی یہ دونوں ارکانِ اسمبلی پشاور سے دبئی کے راستے بحرین جا رہے تھے۔

ایف آئی اے کے ذرائع نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ ان دونوں کا نام ای سی ایل پر موجود ہے اسی لیے انھیں بیرونِ ملک جانے سے روکا گیا۔

ایف آئی اے کے حکام نے ان دونوں کو اپنی تحویل میں لے کر حیات آباد میں ایف آئی اے کے دفتر منتقل کیا ہے۔

ادارے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان دونوں ارکانِ اسمبلی کے خلاف صوابی کے تھانے میں ایک جلسے کے دوران ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک ایف آئی آر بھی درج ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ محسن داوڑ نے دورانِ تفتیش بتایا کہ انھوں نے اس مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کروا رکھی ہے جس کی صوابی پولیس نے تصدیق بھی کی ہے تاہم علی وزیر اس سلسلے میں کوئی دستاویز فراہم نہیں کر سکے ہیں۔

گلالئی اسماعیل

واضح رہے کہ اس مقدمے میں ایف آئی اے نے چند ہفتے قبل پشتون تحفظ مومومنٹ کی حمایت کرنے والی حقوقِ انسانی کی کارکن گلالئی اسماعیل کو بھی اسلام آباد ایئرپورٹ سے تحویل میں لے لیا تھا اور چند گھنٹوں کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

محسن داوڑ اور علی وزیر کے ساتھ بیرون ملک جانے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن انور خان نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ وہ آٹھ افراد اپنے ایک دوست کی شادی میں شرکت کے لیے بحرین جا رہے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ دو روز پہلے ہی اُنھوں نے متعلقہ سفارت خانوں سے ویزے حاصل کیے تھے۔

انور خان کے مطابق محسن داوڑ اور علی وزیر کے پاس وہی سرکاری پاسپورٹ تھے جو کہ دیگر اراکین اسمبلی کو دیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کا نام ایک روز قبل ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔ ایف آئی اے کے حکام سے اس بارے میں تصدیق کے لیے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

قومی اسمبلی کے سپیکر کو ان ارکان کے حراست میں لیے جانے کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے عملے نے اس واقعے سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 7569 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp