الطاف فاطمہ سے گفتگو


سوال: آپ کے تینوں ناولوں میں مجھے ”دستک نہ دو“ خاص طور پر پسند ہے، وہ چینی لڑکا، پھر گیتی اور اس کی بغاوت، اس کہانی میں جو کشش ہے۔۔۔ ؟

الطاف فاطمہ: وہ انگریزی میں بھی چھپ گئی ہے۔

سوال: جی! وہ ترجمہ بھی میں نے دیکھا ہے، لیکن اصل ناول میں جو لطف ہے۔۔۔ ؟

الطاف فاطمہ: بالکل! وہ عجیب طرح سے۔۔۔ مجھے خبر ہی نہیں کہ میں کب لکھ رہی ہوں، کیا کررہی ہوں۔ بس ایک کیفیت ہوتی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ ہر ایک ادیب اس کو حاصل کرسکتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو ایک لائن کا پابند نہ کرے، کوئی نعرہ اپنے اوپر نہ مُسلط کرلے، میرا خیال ہے پھر شاید یہ سب ہوسکتا ہے۔

سوال: یعنی انسپریشن کی ایک کیفیت تھی جس میں آپ نے یہ ناول لکھا؟

الطاف فاطمہ: کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ اور جب بھی میں کوئی چیز لکھتی ہوں، مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ اگلا پیراگراف میں کیسے لکھوں گی۔ یہ عجیب بات ہے اور اسی سے شاید میں سمجھتی ہوں کہ میں ناکام لکھنے والی ہوں۔ جب لوگوں کی اتنی اتنی بڑی تعریفیں سُنتی ہوں اور اپنا نام بھی نہیں د یکھتی تو مجھے یہی لگتا ہے کہ شاید میں ایسی ہی اول جلول لکھنے والی ہوں۔

سوال: یہ تو آپ نے عجیب سی بات کہی، اس لیے کہ آپ بہرحال ناکام لکھنے والی تو نہیں ہیں لیکن آپ کچھ الگ تھلگ سی ہیں ادبی منظر نامے میں۔۔۔ ؟

الطاف فاطمہ: بھئی میں آتی جاتی تھی، ملنا جلنا بھی کرتی تھی۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا جیسے اچھوت نہیں ہوتے ہیں، اس ٹائپ کا خاموش سلوک میں نے دیکھا، میں آہستہ آہستہ الگ ہوگئی۔

سوال: تو آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہوا؟ نقادوں نے کیوں آپ کو نظر انداز کیا؟

الطاف فاطمہ: بھئی میں شاید۔۔۔ بھئی میں یہ نہیں۔۔۔ اب یہ باتیں تم لکھنا مت۔

سوال: اچھا ٹھیک ہے۔

الطاف فاطمہ: بس! کرتے ہیں، کرنے دو۔

سوال: تو کیا آپ کو خود اس پر دُکھ ہوتا ہے؟

الطاف فاطمہ: شروع میں ایک آدھ دفعہ خیال آیا۔ دیکھو پڑھنے والا جو ہوتا ہے، اصل نقّاد وہ ہوتا ہے۔ اگر وہ پڑھا لکھا ہے۔ بعض کم پڑھے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ تو وہ مجھے بہت مل جاتے ہیں۔ اور واقعی سچی بات یہ ہے کہ اتنا ملتے ہیں، اتنا خوش ہوتے ہیں۔۔۔ تو میں باقی باتوں کو Feel نہیں کرتی۔ اب نام کا کیا ہے۔ دُنیا میں کیا چیز باقی رہ جاتی ہے۔ اگر نام نہ باقی رہا تو کیا فرق پڑا۔

سوال: لیکن کہانیاں تو باقی رہ جاتی ہیں؟

الطاف فاطمہ: ہاں! اگر لوگ Select کرتے رہے، جیسے اب تم نے کہا، تو یہ ہوتا رہے گا۔ اچھا، میرا ایک افسانہ ہے۔ وہ شاید اسی میں ہے ”دیواریں جب گریہ کرتی ہیں ’اس میں۔ ایک باربر کی کہانی ہے۔ میرے بھائی نے وہ ترجمہ کی تھی اور میں سوچتی رہی کہ وہ کہاں چھپے۔ میں تم کو وہ کہانی پڑھوانا چاہتی ہوں۔

سوال:میں نے وہ کہانی پڑھی ہے۔ مجھے اس میں جس کہانی نے چونکا دیا وہ ہے ”شیردہان“۔ اتنی خاموشی سے اور سادہ طریقے سے شروع ہوتی ہے اور چشم زدن میں اس قدر گہرائی میں پہنچ جاتی ہے؟

الطاف فاطمہ: وہ؟ ہاں، اچھا۔ بس کیا کہوں مجھے اس بات کا کتنا قلق ہے کہ ہمارے ہاں کتاب کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔

سوال: اس کہانی میں بظاہر تو ایک چھوٹی سی دکان کی بات ہورہی ہے۔۔۔ ؟

الطاف فاطمہ: ہاں ٹھیک ہے۔۔۔

سوال: لیکن اس کے پیچھے بدشگونی اور زوال کا پورا ایک احساس ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ جو مجموعہ ہے، اس کی کہانیوں میں آپ کے ہاں علامت کا استعمال خاصا واضح ہے اور یہ آپ کے افسانوں کی پچھلی نہج کے مقابلے میں تبدیلی ہے۔۔۔ ؟

الطاف فاطمہ: میرے یہاں۔۔۔ نہیں، علامت تو میں نے۔۔۔ میرا ایک افسانہ بہت عرصہ ہوا چھپا تھا ”ماہ نو“ جب اس میں بھائی شان الحق صاحب تھے، وہ ہمارے عزیز بھی ہیں، تو انہوں نے بہت تقاضا افسانے کا مجھ سے کیا۔ تو میں نے اس زمانے میں یہ افسانہ حلقۂ اربابِ ذوق میں پڑھا تھا۔ وہاں بھی میں دیکھتی تھی کہ لوگ ڈنڈی مارجاتے ہیں۔ میں ڈرپوک تو نہیں تھی، آخر افسانہ نگار تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ ڈنڈی ماری ہے۔ بس یہ ہوتے ہوتے تو پھر میں نے کہا کہ اب بہت ہوگیا اور اب حلقے میں جاؤ تو وہ بات نہیں۔ اس وقت تو ہم نے یہ سارا کچھ۔۔۔ یہ شعور جو اپنے اندر آیا یہ ادب کی آگہی، یہ وہاں سے آئی۔ وہاں بیٹھ کر دماغ تازہ دم ہوجاتا تھا۔ ادبی سیاست نہیں تھی۔ That was a wonderful time۔ ادبی لحاظ سے۔ اور حلقے کی پوری تاریخ تھی۔ تو وہاں میں نے وہ افسانہ پڑھا تھا۔ وہ تھیم دیکھو مجھے اس وقت یاد نہیں آرہا ہے۔ ”قالین بننے والی“ وہ شاید میں نے ”تارِ عنکبوت“ میں شامل کیا ہے یا نہیں کیا ہے، بہرحال وہ ہے میرے پاس۔

سوال: میں نے شاید نہیں پڑھا۔

الطاف فاطمہ: وہ تو بالکل علامتی افسانہ ہے۔ وہ ہوگا تو اس کا فوٹو اسٹیٹ نکلوا کر تمہیں بھیج دوں گی۔ ایک میرا افسانہ ”سانکھیہ جوگی“ وہ بھی علامتی ہے۔

سوال: وہ بھی میں نے نہیں پڑھا؟

الطاف فاطمہ: 65 ء کے بعد چھپا تھا۔ ”ایک غول“ لکھا تھا۔ یہ سب علامتی افسانے ہیں۔ کئی لکھے میں نے۔ بعد میں مجھے یہ محسوس ہوا کہ اتنی گہری علامت استعمال کرنا، اتنی کثرت سے، اس طرح ہم قاری کو افسانے سے دور کیے جاتے ہیں۔ ہر ایک کا ذہن ایسا نہیں ہوتا۔ اور خاص طور پر میں ان باتوں کی تو قائل ہی نہیں کہ ایران توران کی اُڑانے لگیں۔ خیر، ایران اور توران سے تو ہمیں اب الگ کیا گیا ہے۔ وہ ہمارے کلچر، ہماری تہذیب کا حصہ ہیں۔ ہمارے ساتھ جو ظلم ہوا ہے وہ ہمیں فارسی سے کاٹ کر کیا گیا ہے۔ فارسی کو تیسرے درجے کی حیثیت دی گئی ہے ہمارے نصاب میں، ورنہ وہ تو ایسی بڑی روایت تھی ہماری۔۔۔ تو میں کہہ رہی تھی کہ قاری کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا، ایک عام قاری کے ساتھ۔ میرا تو خیال ہے کہ انسان لکھتا اس لیے ہے کہ اس کی بات دور دور تک جائے۔ یہ خیال پہلے نہیں ہوتا، لیکن جب وہ لکھنے ہی لگتا ہے، تو پھر یہ ہے کہ بات پہنچے تو سہی۔ وہ یہ نہ ہو تو افادیت کم ہوجاتی ہے۔ ہاں یہ ضرورت ہی کہ یہ ایک فن ہے۔ تو اس لیے میں نے پھر وہ علامت کم کردی۔ مصروفیت کی طرف میری خاص توجہ رہی ہے۔ ایک فرق ہے۔ کیوں کہ ایک استاد کے لیے ابلاغ سب سے پہلی چیز ہوتی ہے، اس کا مقصد، اس کا نقطۂ نظر وہ یہی ہے۔ ہمارا Motiveہی ابلاغ ہے۔ We receive to give۔ تو وہ ہم اس طرح سوچتے ہیں کہ جو باتیں قدرتی طور پر ہمیں وہاں سے عطا ہوتی ہیں، جیسے کہتے ہیں کہ مبداء فیّاض سے، اس عطا کو ہم ایسا کریں کہ دوسرے کو مل جائے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6