الطاف فاطمہ سے گفتگو
سوال: لیکن اِدھر پھر یہ علامت کا رجحان آیا ہے آپ کی کہانیوں میں۔ ”تارعنکبوت“ میں جو کہانیاں شامل ہیں، ان میں یہ رجحان نظر آتا ہے؟
الطاف فاطمہ: وہ بات خود آجائے تو آجائے، جیسے ایک دور آیا تھا، میرا تو خیال ہے کہ دو چار بڑے اچھے لکھنے والے آئے تھے۔ خاص کر انتظار صاحب کی کہانیاں بڑی اچھی تھیں۔ اب اس کے بعد جو لکھنے والے آئے تو ان کی تقلید میں ایک دور پورا آغاز ہوا تو اس سے میں پورا اتفاق نہیں کرتی۔ کیونکہ میں ہر شخص کو اتنا ٹوٹ کے پڑھتی ہوں تو پھر مجھے یہ مشکل پیش آتی ہے۔
سوال: علامت سے زیادہ ایک رمز کا سا رنگ بھی ہے بعد کے لکھنے والوں میں، جیسے نیّر مسعود کے افسانے ہیں؟
الطاف فاطمہ: یہ تو چیز ہی دوسری ہے۔
سوال: لیکن یہ سیدھی سیدھی، دو اور دو چار قسم کی کہانیاں نہیں ہیں۔ ان میں بھی تو علامت کا جابجا استعمال ہوا ہے؟
الطاف فاطمہ: اس پائے کی چیز ہے۔۔۔ بھئی، ایسی علامت ہے کہ اس پائے کو کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔ اس کا جو لکھنے کا انداز ہے، کیا بات ہے۔ ارے بھئی، ”عطر کافور“ کے کیا کہنے، واہ۔ عجیب چیز ہے۔ اور وہی ہے کہ اس نے خود نہیں لکھی، اس سے لکھوائی گئی ہے۔
سوال: ”عطر کافور“ ایسی کہانی ہے کہ بھلائے نہیں بھولتی؟
الطاف فاطمہ: ساری کتاب ہی ایسی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ نیّر کے ہاں جو علامت ہے اور یہ سب چیزیں جو ہیں، یہ فارسی کا علم ہے۔ فارسی بڑی عجیب چیز ہے۔ اور یہ ہمارے ہاں سے Eliminate ہوگئی۔ ہمیں تو یہ یاد ہے، دیکھو تمہیں بھی یاد ہوگا اپنے گھر والوں کا، کہ مائین، نانیاں، دادیاں فارسی کی ضرب الامثال اور اشعار بے تکلف استعمال کیا کرتی تھیں۔ چاہے بہت زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ ہوں۔ آج کل فارسی کے جو استاد ہیں، میں دیکھتی ہوں ناں، ان سے زیادہ فارسی استعمال کرتی تھیں وہ اپنے گھروں میں۔ تو یہ فارسی چلی گئی۔
سوال: فارسی کے بجائے انگریزی سے ناتہ جوڑا گیا اور خود ہمارے ادب میں مغربی ادب کی حسیّت اثر انداز ہونے لگی۔ میں اس کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے مغربی ادب کا مطالعہ بھی کیا ہے اور۔۔۔ ؟
الطاف فاطمہ: بہت کم۔
سوال: مغربی ادب سے آپ نے ترجمے بھی کیے ہیں۔ میں کچھ ان کے حوالے سے۔۔۔ ؟
الطاف فاطمہ: سچی بات تو یہ ہے کہ لٹریچر سے مجھے محبت جو ہوئی ہے اور لٹریچر جو مجھے پسند ہے وہ افسانوں کی وجہ سے۔ انگریزی اور روسی اور فرنچ بھی، پڑھے تو ہیں میں نے لیکن اتنے زیادہ نہیں۔ اور Latest بھی نہیں پڑھے۔ اور بھئی ایک بات ہے۔ وہ کام کرتے ہیں تو اس کو واقعی کرسکتے ہیں تو کرتے ہیں۔ ہم لوگوں کی طرح نہیں کہ کچّا پکّا کرلیا۔ اب میں دیکھتی ہوں ناں کہ وہ ایک فلم بناتے ہیں، چاہے وہ کتنی ہی عام سی کیوں نہ ہو، یہ جو ان کی مار دھاڑ والی فلمیں ہیں میں برداشت ہی نہیں کرسکتی لیکن وہ چاہے جس قسم کی بھی فلمیں بنائیں، Vulgarity والی فلمیں ہی بنائیں، تو اس کے اندر ایسی جزئیات ہوتی ہے کہ وہ انسان کو وہاں لے جاکر بسا دیتی ہے، آباد کردیتی ہے۔ یہ چیز ہمیں نصب نہیں ہے۔ پتہ نہیں کیوں۔
سوال: یہ تو فکشن کا خاص وصف ہے کہ وہ اپنی دنیا میں لے جاکر بسادیتا ہے۔۔۔۔ ؟
الطاف فاطمہ: ہاں! آباد کردیتا ہے۔ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔
سوال: میں ترجمے کی بات کر رہا تھا۔ ”نغمے کا قتل“ آپ کا بڑا کامیاب ترجمہ ہے؟
الطاف فاطمہ: بھئی یہ تو سب اتفاقی امور ہیں۔ ایک دفعہ، جب میں ملازم نہیں ہوئی تھی یا شاید تھی تو سہی، تو یو، ایس سنٹر سے یہ ناول ملا To Killa Mocking۔ Birdکہ بھئی یہ کردو۔ اور اس وقت میں یہ کررہی تھے کہ میرے بھائی تو کراچی میں تھے، ”ماہ نو ’میں کام کررہے تھے۔ اس وقت ان کا ایک پلاٹ ہا گلبرگ میں۔ وہاں پران کا مکان بنوا رہی تھی، کیونکہ یہ قانون تھا کہ یا تو اس پلاٹ پر تعمیر کروائیں یا اس کو چھوڑ دیں۔ وہ کچھ زمین بیچ کر کچھ پیسے میرے نام پر رکھوا گئے تھے۔ میں اس کی کنسٹرکشن کروانے لگی۔ اسی زمانے میں انہوں نے مجھے یہ ترجمہ دیا۔ تو یقین کرنا کہ وہ جو مزدوروں کے لیے جگھّی بنتی ہے ناں اینٹوں کی، میں نے اس میں بیٹھ کر یہ ترجمہ کیا تھا۔ کیونکہ میں کالج سے اُٹھ کر سیدھی سائٹ پر جاتی تھی اور وہ مکان تو خیر ان کا بنتارہا۔ وہ تو وہاں سے آ نہیں سکتے تھے۔ میں یہ کرتی تھی کہ کالج سے سیدھی بس پکڑی اور وہاں پہنچ گئی۔ وہاں مزدور بڑا خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے، اچھا ہم اپنی دیہاڑی کریں اور تم اپنی کرو۔ اینٹیں رکھ کر ایک منیر سی بنادی تھی۔ میں اس پر لکھتی رہتی تھی۔ وہ میں نے انہیں۔۔۔ بلکہ انہوں نے کہا تھا آپ پانچ چھ مہینے میں کردیں۔ مجھ پر ایسی کیفیت طاری ہوئی، میں نے تین مہینے میں کردی۔
سوال: اِدھر آپ نے جاپانی خواتین افسانہ نگاروں کا جو ترجمہ کیا ہے۔۔۔ ؟
الطاف فاطمہ: یہ مجھے مسعود اشعر صاحب نے دی تھی۔ وہ جو انگریزی کا ترجمہ تھا، اس میں مجھے کہانی بہت پسند آئی تھی۔ یہ اس میں مجھے ساری کہانیاں اتنی زیادہ اچھی نہیں لگیں۔ ان سے میں اتنی Impress نہیں ہوئی جتنی اس کہانی سے ہوئی تھی۔
سوال:یہ کون سی کہانی کا ذکر ہے؟
الطاف فاطمہ: وہ بوڑھی دادی والی کہانی جو تم نے ترجمہ کروائی تھی۔ وہ اب تک کیوں نہیں چھپ سکی۔ ان جاپانی کہانیوں میں جو ہیروشیما اور ناگاساکی والا ٹچ ہے، وہ مجھے بہت اچھا لگا۔ یہ جو جاپانی آرٹ اور کلچر ہے، مجھے ہمیشہ سے بہت Fascinate کرتا ہے۔ ان میں جو ایک خاموشی ہوتی ہے، وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


