الطاف فاطمہ سے گفتگو


سوال: ان دنوں آپ کوئی اور ناول لکھ رہی ہیں؟

الطاف فاطمہ: ہاں وہی ہے۔ اللہ کرے پوری ہو جائے۔ اصل میں اس ناول کی ابتدا ہی یوں ہوئی۔ ایک صاحب میرے پاس آتے رہے کہ آپ یہ ہمیں ”اخبار جہاں“ کے لیے قسط وار دے دیں۔ میں نے کہا، میں نے کبھی قسط وار نہیں لکھی۔ اور وہ ایک خاص سطح کی بھی ہوتی ہیں۔ میں نے لکھنا شروع کیا اور گیارہ باب لکھ کر انہیں بھیجے۔ انہوں نے مجھے جواب ہی نہیں دیا۔ میں نے پُچھوایا بھی۔ اور میں نے ایک بات کہی تھی کہ میں کراچی کے ادیبوں سے بہت مایوس ہوں کہ مجھے کبھی وہاں سے کوئی Response نہیں ملا ہے۔ وہ قسمیں کھا کر لے گئے۔ نہیں معلوم کس نے اُنہیں منع کردیا، مجھے ایسا لگا۔ اب مجھے محنت یوں کرنا پڑرہی ہے کہ میں دوبارہ لکھ رہی ہوں۔ وہ اتفاق سے اس کا کچھ حصہ میرے پاس تھا ورنہ میں کبھی رَف نہیں لکھتی۔ میرے ساتھ ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ میں ایک چیز لکھ لوں، دوبارہ اسے صاف کرنے بیٹھوں تو میرا جی چاہتا ہے کہ اب اسے دوبارہ سے نیا کرکے لکھوں۔ تو اس لیے میں Extemporeلکھتی ہوں۔ بیٹھی اور لکھ لیا۔ تو اب دقّت یہی ہورہی ہے کہ دوبارہ لکھ رہی ہوں۔ آدھی لکھ لی ہے۔ لیکن کچھ ایسی نحوست ہوجاتی ہے یہ جب میں لکھنے بیٹھتی ہوں۔ کبھی میں بیمار پڑجاتی ہوں یا کچھ ایسا ہوجائے۔ بس کچھ ابتلاء پڑجاتی ہے۔

سوال: جس طرح آپ نے ”شیر دہان“ میں بعض مکانوں کے بارے میں لکھا ہے کہ ان میں نحوست ہوتی ہے، تو شاید بعض کتابوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ ان میں داخل نہیں ہوا جاتا؟

الطاف فاطمہ: ہاں واقعی! بالکل ایسا ہوتا ہے۔

سوال: اس گفتگو کو سمیٹنے کے لیے ایک آدھ ذاتی سوال کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اس گفتگو میں کئی بار اپنی والدہ کا حوالہ دیا۔ غالباً آپ کی شخصیت پر ان کا بہت گہرا اثر پڑا ہے؟

الطاف فاطمہ: میری والدہ تو ایسی شے تھیں، ایسی شخصیت تھیں۔ میں آپ کو کیا بتاؤں کہ سیّد رفیق حسین جعفری۔۔۔ مطلب یہ کہ چار بہنوں کے بھائی تھے۔ ہماری بڑی خالہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ میں نے ان کے گھر کا احوال اس میں لکھا ہے، ”سویرا“ میں افسانہ چھپا ہے، پچھلے سے پچھلے سال۔ تو وہ افسانہ ہماری امّاں کو پڑھ کر سناتے تھے۔ پہلے ان کو سُناکر، Discuss کر کے پھر چھپنے کے لیے دیا کرتے تھے۔ بہت اعلا دماغ کی خاتون تھیں وہ۔ اب یہ جو میں نے اپنی بہن کے حوالے سے لکھا ہے، اس میں امّاں کا کیریکٹر جا بجا ہے۔ میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا، 33۔ 32 سال کی عمر میں۔ میری والدہ کی عمر 26، 27 سال کی ہوگی۔ ہم لوگ جیسے بھی ہیں، ان کی بدولت ہیں۔ وہ ایسی زبردست تھیں۔ میں نے ان کو کبھی فکر مند نہیں دیکھا کہ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ میرے نانا کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔ نہ میں نے اپنی اماں کو آنسو گراتے دیکھا، اس قدر استقامت والی تھیں۔ اور ایسی خوش طبع تھیں کہ سب بچے، بہن بھائی اور خاص طور پر اختر (مرحوم اختر مسعود رضوی) اس قدر گرویدہ تھے امّاں کے۔

ہمیں تو خیر انہوں نے نہیں پڑھایا تھا لیکن کسی کو پڑھنا ہوتا تھا تو ہماری اماں کے پاس آکر پڑھتے تھے۔ اور اتنا مطالعے کا شوق تھا، یہ جو ہم بہن بھائی سب خبطی ہیں مطالعے کے، تو یہ ان کا اثر ہے۔ ہماری بھاوج ہمارے بھائی پر خفا ہوا کرتی تھیں کہ جاتے کچھ لینے کے لیے ہیں اور کتابیں لے کر چلے آئے ہیں۔ اور پھر اماں کی ایک رائے بھی ہوتی تھی۔ ہم لوگ تو چھوٹے چھوٹے تھے، ”ساقی“ گھر میں آتا تھا۔ ہمارے ماموں کی بیٹی تھیں، قمر باجی اور ہماری بڑی بہن جو تھیں، وہ بڑی اچھی مصور تھیں۔ انہوں نے کبھی کسی سے سیکھا نہیں تھا، وہ ایسی نفیس اور اعلا درجے کی تصویر بناتی تھیں کہ لوگ دیکھ کر حیران ہوجاتے تھے۔ تو ”ساقی“ آتا تھا تو گھر میں ان سب میں اس پر اتنے Discussions ہوتے تھے۔ بعد میں جب حلقۂ ارباب ذوق میں بیٹھنے لگے تو میں سمجھتی تھی کہ ہمارے گھر میں اس ٹائپ کے Discussions ہوا کرتے تھے۔ کوئی اچھی چیز پڑھی ہے تو اس میں یہ بات ہے، یا کسی چیز میں یہ خامی ہے، یوں ہونا چاہیے۔ بہت مجھے مزہ آتا تھا وہاں بیٹھ کر یہ سب سننے میں۔ تو ہمارے گھر میں یہ گفتگو ہوتی تھی۔

سوال: اس ماحول کا آپ کے اوپر گہرا اثر پڑا ہے؟

الطاف فاطمہ: ہاں، ہاں! یہ بڑی ہمت بڑھاتا تھا۔ کسی طور پر منفی روّیہ نہ تھا۔ اور ہم سب بہن بھائیوں کو درختوں کا، پرندوں کا شوق تھا۔ ہمارے گھر میں اتنے جانور پلے ہوئے تھے اور ان کی اتنی Careہوتی تھی۔ تمہارے پاس وقت نہیں ہوگا ورنہ میں تمہیں تھورا سا پڑھاتی، اس مضمون میں، میں نے ذکرکیا ہے۔ میں نے کہا کہ اتنا کہاں ہم زندہ رہیں گے جو بعد میں پھر لکھیں گے، میں نے یہ سب لکھ دیا اپنی بہن پر اس مضمون میں۔ میری ماں بھی زندگی سے اتنی بے نیاز تھیں، یہ عجیب صفت ہے۔ جو لڑکی 26، 27 سال کی عمر میں بیوہ ہوئی ہو، اس کا ذرا سوچیے۔ میں نے کبھی اپنی ماں کو کوئی چوڑی، کوئی بالی بُندہ، کوئی انگوٹھی پہنے نہیں دیکھا۔ سفید کپڑے پہنے رہتی تھیں۔ اسی لیے سفید کپڑے پہن کر ایسا سکون آتا ہے۔ یا کسی کو پہنے دیکھوں تو اچھا لگتا ہے۔ میری امّاں ہمیشہ سفید کپڑوں میں رہیں۔ مگر زندگی کو بڑے شوق سے گزارا۔ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ وہ اتنی درویس صفت تھیں کہ انتہا نہیں اور اتنی ہمارے گھر میں چہل پہل رہتی تھی، یہ تو ہر شخص یاد کرتا ہے کہ کیسی رونق رہتی تھی اور ہر شخص کی اپنی ایک اہمیت تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6