صدقہ کرو خواہ ایک مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چینی مقولہ میں ایک سوال ہے کہ ”سب سے زیادہ دانش مند آدمی کون ہے؟ “ جواب، جو سب سے زیادہ خوش ہو یا خوش رہتا ہو۔ واصف علی واصف کہتے ہیں کہ ”خوش قسمت وہ ہے جو اپنے حال پہ خوش ہو“ ایک فرانسیسی ادیب آندرے پال گائیڈ کا کہنا ہے کہ ”خوش رہنا محض احتیاج نہیں ہے بلکہ یہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے“ مدر ٹریسا کہتی ہے کہ peace begins with smile، یہ تمام اقوال و خیالات ایک طرف مگر نجاشی کے دربار میں صحابہ کرام کی پیش کردہ حدیث کی اہمیت ایک طرف کہ جس میں ایک صحابی نے نجاشی کے پیش کردہ سوال کا جواب دیتے ہوئے اس حدیث کو پیش کیا

”تمہارا پیغمبر تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے“، جواب کہ ”صدقہ کرو خواہ ایک مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو“

آج کی تحقیق اس بات کی تصدیق بھی کرتی ہے کہ non verbal communication میں سب سے مضبوط کمیونیکیشن ”مسکراہٹ“ ہی ہے۔ مسکراہٹ صرف ہونٹوں سے ہی نہیں بلکہ آنکھوں سے بھی عیاں ہوتی ہے، اس لئے کہ انسانی نفسیات یہ کہتی ہے کہ چہرہ میں مضبوط ترین ذریعہ اظہار آنکھیں اور مسکراہٹ ہیں۔

چلو اشاروں سے بات کرتے ہیں
لفظ مطلب بگاڑ دیتے ہیں

سائنسی ترقی کے اس دور میں سائنس میرے آقا کی اس حدیث پہ مہر حق اس طرح ثبت کرتی ہے کہ چہرے پر ایک صد چھبیس مسلز ہیں اور چہرہ ہی سب ست بڑا کمیونیکیٹر ہے، انسانی چہرہ ہی سے ہمیں دل کی کیفیات کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ اب انسانی چہرہ کی کیا کیفیات ہیں، سنجیدہ یا رنجیدہ، خوش یا حزیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ face is index of mind، سائنس یہ کہتی ہے کہ جب انسان مسکراتا ہے تو اس کے چہرہ کے وہ تمام مسلز حرکت میں آ جاتے ہیں اور مسام کھل جاتے ہیں جس کی وجہ سے مسکراہٹ اور خوشی میں انسان کے چہرہ کا رنگ ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حقیقی خوشی اور مسکراہٹ ہم اپنے چہروں پہ کیسے لا سکتے ہیں۔ اب یہ اتنا بھی مشکل کام نہیں بس چند ظاہری و باطنی کیفیات کو قدرت کے مطابق کرنا ہوگا، مسکراہٹ آپ کے چہرہ سے خود بخود عیاں ہونا شروع ہو جائے گی۔

غصہ پہ قابو
قوت برداشت
ظاہر وباطن میں یکسانیت
حقیقی خوشی کو تلاش کرنے سے
اپنے کام سے پیار اور انتخاب

سب سے پہلے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا غصہ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ یقینا نہیں تاہم اسے کسی حد تک کم تو کیا جا سکتا ہے نا۔ اگر ہم اپنی زندگی میں برداشت اور دوسروں کے لئے محبت کا عنصر پیدا کر لیں تو یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ سعدی شیرازی اپنی ایک حکائت میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو بہت غصہ آیا اور اس نے کسی دوسرے آدمی سے بد اخلاقی کی جس پر دوسرے آدمی نے اسے پکڑ کر خوب مارا۔ سعدی شیرازی کہتے ہیں کہ کاش اسے اپنی زبان اور غصہ پر کنٹرول ہوتا تو اس کا یہ حال نہ ہوتا۔

انسان دوسروں کے بارے میں مثبت انداز فکر سے اپنے اندر برداشت کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لئے کہ جب تک آپ دوسروں سے پیار نہیں کریں گے دوسرے بھی آپ سے پیار نہیں کریں گے۔ یا دوسرے لفظوں میں جب تک آپ دوسروں کی رائے کا احترام نہیں کریں گے دوسرے بھی آپ کی رائے کا احترام نہیں کریں گے۔ یعنی دوسروں کو برداشت کرنا سیکھیں، جب آپ کے اندر برداشت کا مادہ پیدا ہو جائے گا تو غصہ خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ دوسرا طریقہ غصہ کو کم کرنے کا یہ بھی ہے کہ آپ غصہ کو تعمیری طریقے سے استعمال کرنے کا فن سیکھ لیں تو آپ اس بیماری سے نجات حاصل کرلیں گے۔

اس کے علاوہ غصہ کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنا ظاہروباطن ایک کرلو، اگر ہم اپنی زندگی پر غور کریں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ہمیں غصہ آتا نہیں بلکہ ہم غصہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آفس میں کسی ناجائز بات پر باس نے آپ کو ڈانٹا جو کہ آپ کو پسند نہیں مگر نوکری کے چھن جانے یا باس کے اختیارات کے ڈر سے آپ ان کے سامنے بات نہیں کرتے بلکہ اپنا جائز اور صحیح موقف بھی بیان نہیں کر پاتے، مگر یونہی آپ گھر آتے ہیں تو اپنا سارا غصہ اپنی اولاد یا اپنی بیوی پر اتار دیتے ہیں۔ اگر واقعی آپ کو غصہ آتا ہے تو پھر باس کے سامنے آفس میں آنا چاہیے تھا گھر میں ہی کیوں؟ بس یہی وہ منافقانہ رویہ ہے جسے اگر ہم کنٹرول کر لیں تو ہمارے چہروں پر جو خوشی ہوگی وہ سچی خوشی ہوگی نہ کہ دکھاوا۔

اگر آپ کے ساتھ بھی یہ مسئلہ ہے تو جو ہو چکا اسے بھول جائیے اور آج کے بعد ہر کسی سے مسکرا کر ملنا شروع کر دیجئے آپ دیکھ لیجیے گا کہ سکون، خوشی، راحت اور مسکراہٹ ہی آپ کی زندگی میں رہ جائے گی باقی سب خود بخود فنا ہو جائے گا۔ آخر میں سب سے اعلی بات کہ مسکراہٹ تقسیم کرنا شروع کردیں لوٹ کر آپ کے پاس ہی آئے گی اور آپ کی زندگی میں ہر طرف مسکراہٹ ہی مسکراہٹ ہوگی۔ یعنی
”صدقہ کرو خواہ ایک مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو“ (حدیث)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مراد علی شاہد کی دیگر تحریریں
مراد علی شاہد کی دیگر تحریریں